آرٹیکل

عمل سے آگے۔۔۔۔۔۔۔۔!!! تحریر حناء شاہد

عمل سے آگے۔۔۔۔۔۔!!!

تحریر

حناء شاہد

  اسلام علیکم ۔۔۔۔۔!!!

عمل سےزندگی بنتی ہے  جنت بھی اور جہنم بھی

یہ خاکی اپنی فطرت میں نا نوری ہے نہ ناری

 

 

زندگی کا حسن عمل میں پوشیدہ ہے ۔کہی ہوئی بات تب تک معرض وجود میں نہیں آتی جب تک اس پہ عمل نہ کیا جائے۔قول عمل کے بغیر کبھی خوبصورت اور مکمل نہیں ہو سکتا اور ہر وہ بات جو آپ بول تو رہے ہیں لیکن اس پہ عمل بالکل بھی نہیں ہے ۔تو ایسی غلطیاں آپ کی شخصیت کا نکھار ختم کر دیتی ہیں۔ جیسے اکثر کہا جاتا ہے کہ تالا کھلتا ہے تو پتا چلتا ہے دکان کتنی خوبصورت ہے ۔۔۔؟یہ ایک عام سی سادہ سی بات ہے اکثر لوگ دیکھنے میں بہت خوبصورت ہوتے ہیں لیکن جیسے ہی وہ اپنا منہ کھولتے ہیں بات کرتے ہیں تو معلوم ان کی شخصیت کا سارا حسن برباد ہو جاتا ہے ۔ بالکل اسی طرح ہم اکثر اپنے سے چھوٹوں کو یہ بات سمجھاتے ہیں کہ جھوٹ بولنا بری بات ہے ،سچ بولنا اچھی بات ہے ،سچ بولنے سے خدا کی رضا حاصل ہوتی ہے ۔

جناب۔۔۔۔۔۔!!!!

یہ تمام باتیں اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہیں اور ان میں سچائی بھی ہے واقعی جھوٹ بولنا بری بات ہے اور سچ میں برکت ہے۔ لیکن اب جو بات میں بیان کرنے جارہی ہوں وہ نہایت قابل غور ہے۔ یہ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے اور جو بھی انسان یہ آرٹیکل پڑھے گا وہ اس بات سے متفق ہو گا کہ ہمارے قول میں تو کوئی شک نہیں ہے لیکن ہمارا عمل تضاد کا شکار ہے ہم لوگ اکثر اپنے چھوٹے بچوں کو یہ تعلیم دیتے ہیں جھوٹ بولنا بری بات ہے ہمیشہ سچ بولو اب دیکھیں ہمارا اپنا عمل کیا ہے۔۔۔۔؟؟؟؟

اکثر جب بھی ہمارے گھر کا کوئی فرد اگر اس کا من نہیں ہے کسی سے ملنے کا یا بات کرنے کا اور گھر کے ڈور پہ بیل ہوتی ہےکوئی جاننے والا آپ کے فادر سے یا مدر سے ملنے کا بولتا ہے۔ اور آپ کے بچے آپ کو بتاتے ہیں کہ بابا وہ فلاں شخص باہر آپ سے ملنے آیا ہے یا ماما آپ سے ملنے کے لئیے آپ کی کوئی ہمسائی آئی ہے تو ہم فوراً سے اس بچے کو کیا جواب دیتے ہیں اور یہ جواب سب سے زیادہ دلچسپ ہے ہم اکثر گھر میں ہوتے ہوئے بھی یہ کہہ دیتے ہیں جاؤ  ان سے بول دو بابا گھر پہ نہیں ہیں جبکہ آپ اس وقت وہاں گھر میں موجود ہوتے ہیں۔

آپ کا قول کیا ہے۔۔۔۔؟؟؟؟

جھوٹ بولنا بری بات ہے۔

آپ بچے کو سکھا رہے ہیں جاؤ جا کے بول دو بابا گھر پہ نہیں ہیں۔ اور یہاں پہ سب سے زیادہ قابل غور بات یہ ہے کہ آپ کا وہ معصوم سا بچہ جس کا ذہن ابھی بن رہا ہے سنور رہا ہے وہ کیا سیکھ رہا ہے۔۔۔۔۔؟

اس سب کو پس پشت ڈال کے وہ معصوم اپنی معصومیت میں گھر سے باہر آپ کے انتظار میں کھڑے اس شخص سے کیا کہتا ہے؟؟؟جی کے بابا بول رہے ہیں ابھی وہ گھر پہ نہیں ہیں بعد میں آ جائیے گا۔۔۔۔۔!!!!!

یہ ہے معصوم ذہن کی معصومیت ۔۔۔۔۔!!!

مگر یہ بات بھی ذہن نشین رکھیے گا ان معصوم ذہنوں کو اللہ نے ایک خاصیت سے نواز رکھا ہے اور وہ ہے آپ کے عمل پہ غور کرنا

جناب۔۔۔۔!!!

بچے کبھی بھی آپ کی کہی ہوئی بات کو فالو نہیں کرتے ہیں بچے ہمیشہ آپ کے عمل سے سیکھتے ہیں ۔اوریہاں سے ہی ایک معاشرے کی بنیاد پڑتی ہے ۔ہم خرابیوں کا رونا روتے رہتے ہیں جبکہ خرابی کی جڑ ہمارے قول سے شروع ہو کر ہمارے عمل پہ ختم ہوتی ہے ۔

لہذا اپنے قول کے ساتھ اپنے عمل پہ بھی توجہ دیں تاکہ ایک مضبوط معاشرہ عمل میں آ سکے۔

شکریہ۔۔۔۔!!!

دعاؤں میں یاد رکھیے گا ۔اگر آرٹیکل پسند آئے تو کمنٹس میں ضرور بتائیے گا ۔ اللہ ہم سب کا حامی و مددگار ہو اور ہمیں صحیح رستے پہ چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

آمین ۔

طالب دعا

 حناء شاہد

 

 

Hina Shahid

I am an Urdu novel writer, passionate about it, and writing novels for several years, and have written a lot of good novels. short story book Rushkey Hina and most romantic and popular novel Khumarey Jann. Mera naseb ho tum romantic novel and lot of short stories write this

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button