رومینٹک ناول

Khumarey Jaan by HINA SHAHID epi 1

 

 

ناول:

خمارِ جاں

از

حناء شاہد

قسط نمبر 1:

 

 

 

 

 

 

 

قسط نمبر1:

“بات تو سنو خضر!!!”

ثمن بیگم جنہیں سب بی آراء کہتے تھے انہوں نے دوپٹے کا سرا کندھے پر صحیح کرتے ہوئے سنجیدگی کے ساتھ خضر کی طرف دیکھا جو سنی ان سنی کرتے ہوئے آفس جانے کے لیے خود کو ریڈی کر رہا تھا۔

“میں اس ٹاپک پہ بات نہیں کرنا چاہتا۔”

وہ سرعت سے بولا اور ٹائی کی ناٹ سیدھی کرتے ہوئے اسے باندھنے میں مگن ہو گیا۔

“وہ بہت اچھی اور سلجھی ہوئی لڑکی ہے۔ تم اس کے ساتھ ہمیشہ خوش رہو گے۔”

ثمن بیگم اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولیں۔ جو ہمیشہ سے ہی شادی کے نام پر اسی طرح جھنجھلا کر بات کو آئی گئی کر دیتا۔ لیکن اب وہ مزید ٹال مٹول برداشت نہیں کر سکتی تھیں۔

“تو میں نے کیا کرنا ہے اس کے رکھ رکھاؤ اور سلجھے پن کا۔۔۔۔۔۔۔۔؟”

وہ طنزیہ انداز میں بولا تو ثمن بیگم کو اس کا یہ انداز بالکل بھی پسند نہ آیا اور وہ اسے سرزنش کرتے ہوئے بولیں۔

“اپنا اندازِ تخاطب تو دیکھو پہلے کبھی تم نے ہم سے اس انداز میں گفتگو نہیں کی۔”

“تو آپ نے بھی پہلے کبھی میرے انکار پر اس طرح اصرار نہیں کیا اور مجھے مجبور نہیں کیا۔”

وہ الفاظ چباتے ہوئے تیزی سے بولا اور ثمن بیگم کے شانوں پر ہاتھ دھرتے ہوئے سنجیدہ انداز میں گویا ہوا۔

“آپ یہ بات اچھی طرح سے جانتی ہیں کہ میں جب کسی بات سے انکار کر دیتا ہوں تو کبھی بھی پھر اس پر اقرار کی گنجائش نہیں رہتی۔ میں آپ کی منتخب کردہ اس لڑکی سے شادی نہیں کرنا چاہتا ۔ وہ مجھے پسند نہیں ہے۔”

“تمہیں وہ لڑکی پسند ہے یا نہیں یہ بات اب اہمیت نہیں رکھتی ہے۔ تمہارے ابی جان کو مرجان اور اس کا خاندان ، ان کا رکھ رکھاؤ اور طرزِ انداز بہت پسند ہے۔ اور تمہارے ابی ان کو زبان دے چکے ہیں ۔ مرجان کے ابا کی طبیعت ناساز ہے اور ڈاکٹرز نے ان کے لیے دعا کا بولا ہے۔ لہذا مرجان کے ابا کی خواہش پر اس جمعے کو سادگی کے ساتھ تمہارا اور مرجان کا نکاح رکھا ہے۔ اور ساتھ میں رخصتی بھی۔۔۔۔۔۔۔!!!”

ثمن بیگم نے اپنے شانوں پر دھرے اس کے آہنی ہاتھ ہٹائے اور اسے ساری تفصیل سے آگاہ کیا۔ تو وہ حیرت زدہ رہ گیا۔ اس کے حواس باختہ تھے۔ وہ جو اپنی زندگی میں ہر چیز اپنی مرضی سے چننے والا کہ اس کے روم سے لے کر اس کے آفس تک چھوٹی سے چھوٹی چیز اس کی پسند سے رکھی گئی تھی۔ وہ کپڑوں سے لے کر جوتوں تک سب کچھ اپنی مرضی سے منتخب کرنے والا اور اب جب اس کی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ لیا جا رہا تھا تو اس کی اجازت پوچھنے کی بجائے اس پر اپنی مرضی تھوپی جا رہی تھی۔ وہ دم بخود ثمن بیگم کے چہرے پر خون آلود نگاہیں ٹکائے خاموش بت بنا کھڑا تھا۔ ثمن بیگم نے اس کے چہرے کو انسیت سے چھوا اور اپنائیت سے بولیں۔

“اپنے ابی جان کے اس فیصلے کو قبول کر لو۔ اور جہاں وہ بول رہے شادی کر لو۔”

خضر! میری جان۔۔۔۔۔۔!!! اب تمہارے ابی جان کی عزت اور ان کی بات کا مان تمہارے ہاتھ میں ہے۔”

وہ اس کا ماتھا چومتے ہوئے اس کے جواب کی منتظر تھیں۔ خضر نے اپنی ماں کے ہاتھوں کو تھاما اور نظریں جھکاتے ہوئے بولا۔

“جو آپ کو اور ابی کو صحیح لگتا ہے آپ وہ کریں۔ لیکن ایک بات یاد رکھیے گا آپ لوگوں کے اس فیصلےمیں میری کوئی خوشی نہیں ہے۔یہ شادی صرف اور صرف ایک سمجھوتہ ہے ۔ ابی کی زبان کی پاسداری، ان کا مان، اور عزت رکھنے کے لیے کیا جانے والا سمجھوتہ۔۔۔۔۔۔۔۔!!!”

وہ نظریں جھکائے کلائی پر گھڑی باندھتے ہوئے ان کے فیصلے کو بے دلی سے قبول بھی کر رہا تھااور اپنی ضد کے برخلاف عمل پر انہیں سنا بھی رہا تھا۔

“مرجان بہت اچھی لڑکی ہے وہ تمہیں خوش رکھے گی۔ مجھے یقین ہے۔”

ثمن بیگم نے مسکرا کر کہا تو وہ قہر آلود نگاہ ماں پر ڈالتے ہوئے سرعت سے بولا۔

” یہ تو وقت بتائے گا کہ کون اچھا ہے اور کون کس کو خوش رکھے گا۔؟ میں آفس جا رہا ہوں ۔ رات کو کھانے پر میرا انتظار نہ کیجئیے گا۔ میں لیٹ آؤں گا اللہ حافظ۔۔۔۔۔۔!!!”

وہ یہ کہتے ہوئے رکا نہیں اور تیزی کے ساتھ بیڈ کی جانب جھکا۔ اپنا لیپ ٹاپ بیگ اٹھایا اور ماں کے ماتھے پر لب رکھتے ہوئے بوسہ دیا اور اللہ حافظ کہتے ہوئے فوراً سے کمرے سے باہر چلا گیا۔

ثمن بیگم کو اندازہ تھا کہ ان کا چاند خضر ان کے اور ابی کے اس فیصلے سے خائف ہے۔ لیکن انہیں اس بات کا بھی یقین تھا کہ مرجان کے اس کی زندگی میں شامل ہوتے ہی وہ بدل جائے گا۔ اس کا سارا غصہ ختم ہو جائے گا۔ اور پھر وہ جان جائے گا کہ ماں باپ کا اولاد کے حق میں کیا گیا ہر فیصلہ درست ہوتا ہے۔

                                      ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

قسط نمبر 2:

بہت جلد۔۔۔۔۔!!!

میرا پسندیدہ ناول خمارِ جاں جو آپ سب کے دلوں کی دھڑکن بنا رہا ۔ اب دوبارہ سے شروع کرنے جا رہی ہوں۔ کیسی لگی خمارِ جاں کی قسط نمبر 1 ؟؟؟؟

کمنٹس بوکس میں اپنی رائے ضرور دیجئیے گا۔ آپ سب کے کمنٹس کا شدت سے انتظار رہے گا مجھے۔ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ انشاء اللہ کل قسط نمبر 2 کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گی۔

طالبِ دعا

حناء شاہد

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

 

 

Hina Shahid

I am an Urdu novel writer, passionate about it, and writing novels for several years, and have written a lot of good novels. short story book Rushkey Hina and most romantic and popular novel Khumarey Jann. Mera naseb ho tum romantic novel and lot of short stories write this

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button