رومینٹک ناول

Khumarey Jaan by HINA SHAHID episode 11




خمارِ جاں

از

حناء شاہد




قسط نمبر 11 

 

رات کی رانی کی خوشبو سے کوئی یہ کہدے

آج کی شب نہ مرے پاس آئے

آج تسکینِ مشامِ جاں کو

دل کے زخموں کی مہک کافی ہے

یہ مہک آج ہی سرِ شام جاگ اٹھی ہے

اب یہ بھیگی ہوئی بوجھل پلکیں

اور نمناک اداس آنکھیں لیے

رت جگا ایسے منائے گی کہ خود بھی جاگے

اور پل بھر کے لیے میں بھی نہ سونے پاؤں

دیو مالائی فسانوں کی کسی منتظر موسمِ گل راجکماری کی خزاں بختِ

دکھی روح کی مانند

بھٹکنے کے لیے

کو بہ کو ابرِ پریشاں کی طرح جائے گی

دور افتادہ سمندر کے کنارے بیٹھی

پہروں اس سمت تکے گی کہ جہاں سے اکثر

اس کے گم گشتہ جزیروں کی ہوا آتی ہے

گئے موسم کی شنسا خوشبو

یوں رگ و پے میں اترتی ہے

کہ جیسے کوئی چمکیلا ، رو پہلا سیال

جسم میں ایسے سرایت کر جائے

جیسے صحراؤں کی شریانوں میں

پہلی بارش!

غیر محسوس سروشِ نکہت

ذہن کے ہاتھ میں وہ اسم ہے

جس کی دستک

یاد کے بند دریچوں کو بڑی نرمی سے

ایسے کھولے گی کہ آنگن میرا

ہر دریچے کی انگ خوشبو سے

رنگ در رنگ چھلک جائے گا

یہ دلآویز خزانے میرے

میرے پیاروں کی عطا بھی ہیں

میرے دل کی کمائی بھی ہیں

ان کے ہوتے ہوئے اوروں کی

ضرورت کیا ہے

رات کی رانی کی خوشبو سے کوئی یہ کہہ دے

آج کی شب نہ میرے پاس آئے

وہ عجیب تذبذب کا شکار تھا۔ اس کا دل بے حد بے چین تھا۔ اس کے ذہن و دل کو مسرت بخشتی وہ بلوری آنکھیں آج پھر اسے اس دن کی طرح ہی بے چین کر گئی تھیں۔ یکطرفہ محبت کے جس سمندر میں وہ روز غوطے کھا رہا تھا اور بے چین تھا کہ کاش ! وہ حسینہ ایک بار پھر اس کے سامنے آ جائے اور اسے ایک بار پھر سے دیدار نصیب ہو جائے آج اچانک سے ویسی ہی آنکھوں سے اپنی آنکھیں چار ہوتے ہی وہ بے چین ہو گیا تھا۔

“اگر مرجان وہی لڑکی ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

اس نے خود سے سوال کیا۔ دل کی ویرانی میں ایک عجب شور برپا ہوا۔

“کیا ایک مہینے سے جو لڑکی میرے نکاح میں ہے اور پچلے چوبیس گھنٹوں سے جس لڑکی کے ناک میں دم کرنے کی میں بھرپور کوشش کر رہا ہوں یہ وہی لڑکی ہوئی جس نے پہلی نظر میں اپنی سادگی سے میرے دل کی سلطنت فتح کر لی تو میں کیا کروں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

اس نے ایک بار پھر دل کی زمین پہ سوال داغا تو مدھم خاموشی نے اس کا استقبال کیا۔ وہ بے حد مضطرب لان میں مسلسل ٹہل رہا تھا۔ جب آسمان گہرے بادلوں کی زد میں آ گیا تیز طوفانی ہوا چلنے لگی۔ وہ فوراً سے چلتے ہوئے اندر آیا اور ڈور لاک کرتے ہوئے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر اپنے روم میں آ گیا۔ ڈور اوپن کیا تو کمرے کی ایک لائٹ چل رہی تھی۔ وہ دھیرج کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا۔ مرجان صوفے پہ سمٹی لیٹی ہوئی تھی۔ خضر چلتے چلتے صوفے کے قریب آیا۔ وہ کسی معصوم گڑیا کی طرح لگ رہی تھی۔ اس کا صاف شفاف نکھرا چہرہ خضر کے دل کی دھڑکن بڑھا گیا۔ وہ صوفے پہ جھکا اور اس کے چہرے کو چھوتی اس سہا لٹ کو ہولے سے کان کی لو کے پیچھے کیا۔ بلینکٹ کو ہولے سے پکڑ کر اس کو اچھی طرح اوڑھایا۔ وہ سکون سے ایسے سوئی تھی جیسے صدیوں بعد آج کی رات اسے نصیب ہوئی تھی۔ خضر مسلسل اس کے چہرے پہ نظریں جھکائے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

“معصوم گڑیا۔۔۔۔۔۔۔۔!!!”

بلا ساختہ اس کے لبوں سے یہ لفظ نکلے وہ دھیرے سے مسکرایا اور صوفے سے پیچھے ہٹ گیا۔ لائٹس آف کیں اور بستر پر نیم دراز ہو گیا ۔ نیند کہیں بہت دور اس کی آنکھوں سے بے حد دور تھی۔

وہ ایک سجدہ جو تیرے نرم ہاتھوں کی چوکھٹ پہ

ہونٹ رکھ کر ادا کرنا ہے

میں اس چاہت کی شدت کو سوچتا ہوں

تو کانپ اٹھتا ہوں

تو اگر وہی اپسراء ہوئی

تو کیا کروں گا میں۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

تو کیا کروں گا میں۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

                                   ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

بادل زور سے گرجا تو یکدم ہی اس آواز سے اس کا دل سہم سا گیا۔ وہ جو آج اتنے دنوں کے بعد پرسکون نیند سو رہی تھی جیسے ایک طویل مسافت کے بعد اسے سکون کی چھاؤں نصیب ہوئی ہو وہ بڑے مزے کے ساتھ کڑوٹ لیے اپنا نازنیں ہاتھ گلابی رخسار تلے رکھے سوئی ہوئی تھی کہ بادل ایک بار پھر زور سے گرج تو وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔

کمرے میں اس وقت مکمل اندھیرا تھا۔ خضر کو مکمل اندھیرے میں نیند آتی تھی۔ جبکہ مرجان کا دل گھبراتا تھا اندھیرے میں اسی لیے تو وہ ایک لائٹ آن کیے سو گئی تھی۔ لیکن جیسے ہی خضر روم میں آیا اور اس نے لائٹ آن دیکھی تو فوراً سے لائٹس آف کر کے بستر پر نیم دراز ہو گیا۔اور پتہ نہیں کب اس کی آنکھ بھی لگ گئی تھی۔ لیکن اب جبکہ بادل کی گرج سے مرجان کی نیند ٹوٹی اور وہ بیدار ہوئی تو روم میں مکمل اندھیرا دیکھ کر وہ گھبرا گئی۔ بادل کی گرج کیا اسے ڈرانے کے لیے کم تھی اب مکمل اندھیرے میں آسمانی بجلی نے اپنی پلکیں جھپکائیں تو کمرے میں عجیب سی روشنی پھیلی اس منظر نے اسے مزید خوفزدہ کر دیا تھا۔ وہ سرعت سے بلینکٹ پیچھے کرتی صوفے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ اور زور زور سے اپنے ہاتھوں کو مسلنے لگی۔ افتخار صاحب کی زندگی میں کبھی وہ اس طرح بادل گرجنے پہ کبھی بھی اکیلی روم میں نہپیں رہی تھی۔ وہ فوراً سے اپنے بابا کے کمرے میں جا کر ان کی آگوش میں دبک کر سو جاتی ۔ لیکن آج جبکہ وہ باپ کی چھاؤں سے محروم ہو چکی تھی تو اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ جائے تو جائے کہاں۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

پھر اس کی نظر جہازی سائز بیڈ پر بلینکٹ میں نیم دراز ہر شے سے بے خبر اس سنگدل انسان پر پڑی۔ جو عرفِ عام اور اسلامی اصطلاح کے مطابق شوہرِ نامدار کے درجے پہ فائز تھا۔ پر کشش نقسش کا حامل وہ شخص کسی طور بھی کسی شہزادے سے کم نہیں تھا۔ آج پہلی بار مرجان نے بغور اس کے چہرے پہ نظریں ٹکائیں۔ تو دیکھتی ہی رہ گئی۔ اس سے پہلے بھی دو بار اس نے اس کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا تھا لیکن ان دونوں کے درمیان فاصلہ اس قدر تھا کہ دور سے صحیح طرح وہ خضر کو دیکھ ہی نا سکی۔ لیکن آج ابھی کبھی روشنی اور کبھی اندھیرے کی آنکھ مچولی میں وہ ساکت کھڑی اس کے چہرے کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اور اس سے پہلے کہ وہ مزید محو ہوتی بادل نے ایک بار پھر زور سے انگڑائی لی اور ایسے گرجا کہ اس نے اچھل کر بستر پہ چھلانگ لگائی اور اور دبک کر ادھر ادھر دیکھے بغیر فوراً سے بلینکٹ اپنے اوپر لیا اور اس سنگدل کے سنگ سینے سے لپٹ کر اپنے وجود کو اس میں سمونے کی کوشش کی۔ وہ بنا آنکھیں کھولے ڈری سہمی اس کے وجود کے ساتھ چمٹی ہوئی تھی۔

                                    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

صبح کا اجلا سویرا نمودار ہوا تو گاؤن کی فضاء مزید کھلکھلانے لگی۔ کھیتوں کھلیانوں میں لوگ صبح سویرے ہی اپنے اپنے کاموں کے لیے گھر سے نکل جاتے اور دن بھر محنت کر کے گھروں میں لوٹتے۔ ثمرینہ کی عادت تھی کہ وہ صبح سویرے اٹھ جاتیں اور حویلی کے ملازمین کو ان کے کام سمجھانے لگتیں۔ آج بھی وہ دالان میں ملازمیں کی فوج کو ان کے کام سمجھا رہی تھیں۔ جب وجاہت صبح سویرے تیار ہو کر اپنی آرام گاہ سے باہر آیا تو ثمرینہ نے اسے فوراً سے آواز دی۔

“خیر تو ہے وجاہت پتر۔۔۔۔۔! آج صبح صبح کدھر جانے کی تیاریاں ہیں۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

انہوں نے ہنستے ہوئے کرید کر پوچھا تو وجاہت فوراً سے ماں کے قریب آیا اور خوش ہوتے ہوئے بولا۔
“اماں سائیں۔۔۔۔! میں شہر جا رہا ہوں اور اب اس دن ہی واپس آؤں گا جس دن مرجان میرے ساتھ ہو گی۔”

اس نے مسکراتے ہوئے اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے انہیں بتایا تو وہ اس کی بات سن کر گھبرا گئیں۔

“کیا مطلب وجاہت۔۔۔۔۔۔۔!”

انہیں کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا

“اماں سائیں ! میں شہر جا رہا ہوں مرجان کو لینے۔”

وہ مسکرا رہا تھا جبکہ ثمرینہ کے ہوش اڑ گئے۔ اور وہ پاس ہی کھڑے ملازموں کی فوج پہ برسنے لگیں۔
“تم سب میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو جاؤ اپنے اپنے کام کرو سب۔۔۔۔۔۔”

یہ سنتے ہی سب ملازمیں فوراً سے ادھر ادھر ہو گئے۔ لیکن بنو جو زرینہ نے خاص طور پر حویلی بھیجی تھی اور ثمرینہ سے گزارش کی تھی کہ اسے اپنے پاس کام پہ رکھ لیں اور ثمرینہ نے بھی بھانجی کے کہنے پہ اس پر دستِ شفقت رکھا اور اسے حویلی میں کام پہ رکھ لیا ۔ لیکن درحقیقت بنو زرینہ کی جاسوس تھی اور وہ پل پل کی خبر زرینہ تک پہنچاتی تھی۔ اس لیے وہ ایل لمبے چوڑے دالان کی ایک طرف کھڑے اس سنہری پلر کے ساتھ لگ کر ان دونوں ماں بیٹے کی باتیں سننے لگی۔

“پر پتر! مرجان کی شادی ہو گئی ہے اور سائیں نے بھی تجھے سمجھایا تھا پھر تُو کیوں ضد کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

“اماں ! میں صبح صبح بحث نہیں کرنا چاہتا آپ سے میں بس شہر جا رہا ہوں ابا آئیں گے تو انہیں بتا دیجئیے گا۔”

وہ چڑ کر بولا تو ثمرینہ نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرا اور فکرمندی سے بولیں۔

“وجاہت ! میرا سوہنا پتر! میں تیرے لیے مرجان سے بھی سوہنی دولہن ڈھونڈ کر لاؤں گی بس میرا پتر تھوڑا انتظار کر لے۔”

وہ ابھی اتنا ہی بول پاءیں تھیں کہ وجاہت نے ان کے ہاتھوں کے پیالے سے اپنے منہ پیچھے کیا اور سنجیدہ انداز میں بولا۔

“اماں سائیں ! ابا کو بتا دیجئیے گا اور بولیے گا میرے پیچھے آنے کی ضرورت نہیں ہے میں خود واپس آ جاؤں گا۔”

وہ اٹل لہجے میں کہتا ہوا پھر وہاں رکا نہیں اور فوراً سے رخ موڑ کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا بیرونی گیٹ کے پاس کھڑے اپنے ملازم کو ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے اس کے قریب آنے لگا۔ ثمرینہ اس کو آوازیں ہی دیتی رہی گئیں۔

“وجاہٹ ! میرا پتر! میری بات تو سن۔۔۔۔۔۔!!!”

لیکن وجاہت ماں کی ہر آواز کو پسِ پشت ڈال کر بس اپنی دھن میں ہی چلتا جا رہا تھا۔

                                           ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

“یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

وہ جو بڑے اطمینان کے ساتھ اس کے پہلو میں نیم دراز اس کے وجود کے ساتھ چپکی لیٹی تھی۔ ہر چیز سے بے خبر وہ ایسے سوئی تھی جیسے کسی جنت میں کوئی حور پرسکون سوئی ہو۔ بے خبر تو وہ بھی سویا تھا۔ آج وقت پہ اس کی آنکھ ہی نہ کھلی تھی۔ وہ کروٹ بدلنے کی کوشش کرنے لگا جب کسی نرم وجود کو اس نے اپنے قریب محسوس کیا اس کی زلفیں چوٹی سے باہر بکھری ہوئی تھیں۔ اس کے چہرے پہ اب بھی ایک لٹ بوسہ کنائی میں مصروف تھی۔لیکن جونہی خضر نے خود کو ہوش دلائی اور آنکھیں کھول کے دیکھا تو وہ حسینہ اس کے پہلو میں لیٹی تھی۔

“یہ کب ہوا۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

اس نے حیرت میں مبتلا ہو کر خود سے سوال کیا۔

“کہیں میں نے نیند میں کچھ کر تو نہیں دیا۔”

وہ ہڑبڑا کر ایکدم ہی بستر سے نیچے اترا اور سیدھا کھڑا ہو گیا۔ وہ اپنے سر پہ ہاتھ رکھے ذہن پہ زور ڈالنے کی کوشش کر رہا تھا مگر دماغ تھا کہ رات کو لان سے طوفانی ہوا کے باعث جلدی کمرے میں آنا اور بلینکٹ اس کے وجود پہ اچھے سے ڈالنے کے بعد وہ بیڈ پر نیم دراز ہوا اور ان بلوری آنکھوں کی تپش میں اپنے وجودکو سلگاتے سلگاتے اس کی آنکھ لگ گئی اس کے حواس پہ بس یہی منظر کسی فلم کی طرح چل رہا تھا۔ اس سے آگے اسے کچھ بھی یاد نہیں آ رہا تھا۔

“پھر یہ کب اور کیسے میرے بیڈ پہ آئی۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

اس سوال نے اس کا دماغ گھما دیا اور وہ اسے اپنے بیڈ پر اس طرح پرسکون سوتا دیکھ کر تلملا کر بولا۔

“یہ کیا بد تہذیبی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

وہ ایک بار پھر غصے سے چلایا تو مرجان کی آنکھ کھل گئی اس نے دھندلائی نظروں کے ساتھ اسے اپنے سر پہ سوار دیکھا تو ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ دوپٹہ پتہ نہیں کہا تھا۔ خضر نے اس کی دودھیہ گردن میں حمائل اس گولڈن زنجیر کو دیکھا۔ مرجان کو اس کی نظروں کی تپش اپنے وجود پہ محسوس ہوئی تو فوراً سے ادھر ادھر نظریں گھمانے لگی۔ خضر نے اس کی نظروں کا تعاقب کیا وہ شاید کچھ ڈھونڈ رہی تھی۔ تبھی وہ چڑ کر بولا۔

“کیاادھر ادھر دیکھ رہی ہیں آپ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

خضر کا تلخ انداز اسے کنفیوز کرنے کے لیے کافی تھا۔ وہ کوئی بھی جواب دیے بغیر فوراً سے بیڈ سے نیچے اتری اور صوفے کی ایک سائیڈ پہ رکھا اپنا دوپٹہ اٹھانے ہی لگیہ تھی کہ خضر فوراً سے اس طرف لپکا اور دوپٹہ اس کے ہاتھ سے لی نے کی کوشش کی۔ وہ خضر کی اس حرکت پہ چونک سی گئی۔

“دوپٹہ چھوڑیں میرا۔۔۔۔۔۔۔!”

وہ نظریں جھکائے کانپتے شنگرفی ہونٹوں کے ساتھ التجاء کر رہی تھی۔ خضر نے اس کے چہرے کا بغور جائزہ لیا۔ بنا دوپٹے کے وہ بے حد حسین موم کی گڑیا لگ رہی تھی دوپٹے کا ایک پلو خضر کے ہاتھ میں اور دوسرا مرجان کے ہاتھ میں تھا۔ مرجان کی نسبت خضر کی گرفت زیادہ مضبوط تھی۔

“اگر نہ چھوڑوں تو کیا کر لیں گی آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

وہ اس کی حالت پہ رحم کھانے کی بجائے اس کی حالت سے محظوظ ہو رہا تھا۔

“آپ ایسا نہیں کر سکتے ۔۔۔۔۔۔۔!”

وہ پراعتماد انداز میں بولی تو اس کا کونفیڈنس خضر کو اچھا لگا اس کا دل چاہ رہا تھا کہ ابھی مرجان افتخار کے سارے کونفیڈنس کی دھجیاں اڑا دے۔

“پہلے میرے ایک سوال کا جواب دیں۔”

وہ اس کے قریب ہوتے ہوئے اس کی چہرے کو دیکھتے ہوئے بولا۔ اور مرجان اس کے قریب آنے پہ تھوڑا گھبرا سی گئی۔ پلکیں نیچے جھکائے وہ خود اعتمادی کی دیوار کو مضبوط کھڑا کرتے ہوئے پورے اعتماد کے ساتھ بولی۔

“کیا پوچھنا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

اس نے سوال داغا۔ جس پر خضر ہونٹوں پہ تبسم سجائے اس کی خوداعتمادی پہ ہنسا۔

“رات آپ اس صوفے پہ بے خبر سوئی تھیں۔ اور ابھی صبح میرے بیڈ پہ میرے بلینکٹ میں کیسے۔۔۔۔۔۔۔؟ یہ سوال مجھے ستا رہا ہے۔ پلیز اس کا جواب دے دیں۔”

وہ۔۔۔۔۔۔! میں۔۔۔۔۔۔۔!”

وہ اس کے سوال پہ تھوڑا خجل سی ہوئی اس کا یہ انداز سیدھا خضر کے دل کو چھوتا کئی طوفان برپا کر گیا۔

” وہ کیا۔۔۔۔۔۔۔؟”

وہ اس کے مزید قریب ہوا اور آہستگی سے بولا۔

“وہ رات کو بادل گرج رہے تھے اور بجلی بھی چمک رہی تھی۔”

“تو اس میں کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

خضر نے کندھے اچکا کر سوال کیا۔
“وہ مجھے بادلوں کے گرجنے سے ڈر لگتا ہے۔ بجلی کی چمک سے میں ڈر جاتی ہوں۔”

وہ نظریں جھکائے بولی تو اس کی پلکیں ایک تواتر سے کانپنے لگیں۔ وہ مسلسل پانچ منٹ سے پلیکن جھکائے کھڑی تھی ایک بار بھی خضر کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھا تھا اس نے۔ خضر نے ایک زوردار قہقہہ لگایا ۔ اس کا یوں ہنسنا مرجان کو بہت برا لگا۔ اس نے دوپٹے کے پلو پہ اپنی گرفت مضبوط کی اور غصے سے بولی۔
“دوپٹہ چھوڑیں میرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔!”

غصے سے اس کی ناک سرخ ہو گئی خضر چونکہ مرد تھا مرجان کی گرفت سے کہیں زیادہ مضبوط تھی اس کی گرفت۔ وہ کیسے اتنی آسانی سے دوپٹہ اسے دے دیتا۔

“یہی بات میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بولیے تو اسے وقت دوپٹہ چھوڑ دوں گا۔”

وہ ہنستے ہوئے اس کی حالت سے محظوظ ہوتے ہوئے بولا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ دو دن پہلے یہ شخص اسے سخت حقارت سے اس کی اوقات اس کی حیثیت کا اندازہ لگوا کر اسے سزا سنا چکا تھا اور اب کل رات سے خضر کی یہ حرکتیں اس کی سمجھ سے بالا تھیں۔

“میں نے بولا دوپٹہ چھوڑیں میرا۔۔۔۔۔۔۔۔!!!”

وہ تلخ ہوتے ہوئے بولی لیکن اسے نہیں معلوم تھا کہ اس کی یہ تلخی اس کے لیے وبال بن جائے گی۔ خضر نے فوراً سے اس کا دوپٹہ چھوڑا اور اس کی کمر کْے گرد بازو حائل کرتے ہوئے اسے اپنے قریب کیا تو وہ خضر کی اس حرکت پہ مزید بوکھلا گئی۔ اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ وہ اس کے چوڑے سینے میں آہنی بازوؤں کے حصار میں قید تھی۔ خضر اس کے چہرے پہ نظریں ٹکائے اس کی حالت پہ دھیمے سے مسکرا رہا تھا۔

“خضر ! چھوڑیں مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔!”

اس کی آواز میں اس کے لہجے کی تلخی تھی۔ وہ خضر کی بے ساختگیوں سے حیرت میں مبتلا تھی۔

“آپ نے شاید سنا نہیں ہے میں نے کہا میری آنکھوں میں دیکھ کر بولیے۔”

خضر کی ضد کے آگے اس نے  گھٹنے ٹیک دیے۔ اور ہار مانتے ہوئے اپنی پلکیں اٹھائیں اور شدید غصے کے عالم میں اس کی  آنکھوں میں جھانکا اور التجائی انداز میں بولی۔ جبکہ خضر اس کی آنکھوں میں کہیں کھو سا گیا۔ وہی بلوری آنکھیں جن کے حصار میں وہ قید تھا۔

“وہی آنکھیں ہیں یہ۔۔۔۔۔۔! وہی۔۔۔۔۔۔!”

اس کے لبوں نے بے ساختہ جنبش کی۔

“چھوڑیں مجھے خضر۔۔۔۔۔۔!!!”

اس کی آنکھوں میں موتی جھلملانے لگے وہ التجاء کر رہی تھی۔ جنکہ وہ تو بخود ہی خود میں نہیں تھا۔ پھر اچانک اس کے جھلملاتے موتیوں نے اسے ہوش کی دنیا میں دوبارہ جگایا تو ایکدم ہی اس نے مرجان کے وجود کو اپنی آہنی گرفت سے آزاد کر دیا۔ فوراً سے پہلے وہ اپنا دوپٹہ اٹھائے بھاگی اور روم ڈور کھول کر باہر کی طرف بھاگی جبکہ وہ وہیں سااکت کھڑا رہا۔

                                  ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

“آر یو اوکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟”

ملیحہ نے ٹی کا سپ لیتے ہوئے فکر مندی سے پوچھا تو وہ فریش چہرے کے ساتھ مسکراتے ہوئے بولی۔

“یس آف کورس۔۔۔۔۔۔! ایم فائن۔۔۔۔۔! یو ڈونٹ وری۔۔۔۔۔۔!”

سارہ نے ان کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھا اور ریلیکس انداز میں بولی۔ اس کا موڈ صبح صبح کافی خوشگوار تھا۔

“چلو اچھا ہے۔۔۔۔۔! “

اسے مسکراتا دیکھ کر ملیحہ بھی کچھ ریلیکس ہو گئی تھیں ورنہ رات کو اس کی جو حالت تھی اس سے تو وہ بے حد فکر مند ہو گئی تھیں۔

“آج کا کیا پروگرام ہے پھر۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

“بس آفس جا رہی ہوں آج ڈیلیگیشن فائنل ہو گا اور پھر کام کام اور کام۔۔۔۔۔۔۔!”

وہ جوس پیتے ہوئے انہیں تفصیل بتا رہی تھی اس کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی۔

“ایک بات پوچھنی تھی ۔۔۔۔۔۔۔”

وہ ڈرتے ڈرتے بولیں۔

“یس آف کورس مام۔۔۔۔۔۔۔! پوچھیں اجازت کیوں مانگ رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

“وہ دراصل میں سوچ رہی تھیں آج ڈنر ثمن کی طرف کرتے ہیں۔ “

انہوں نے ڈرتے ڈرتے بیگ ہاؤس جانے کی بات کی تو وہ بالکل نارمل بی ہیو کرتے ہوئے بولی۔

“اوکے فائن! بس مجھے ریمائنڈر کروا دیجئیے گا میں وقت پہ گھر آ جاؤ گی۔”

وہ بنا کوئی غصہ کیے بولی تو ملیحہ کو حیرت ہوئی۔
“تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

ملیحہ نظریں چراتے ہوئے اس سے سوال کر رہی تھیں جبکہ وہ ہنستے ہوئے بولی۔

“نو مام ۔۔۔۔۔! بھلا مجھے کیا اعتراض ہو گا۔۔۔۔۔۔! ویسے بھی میں بھی اس لڑکی کو دیکھنا چاہتی ہوں جو خضر بیگ کی زندگی میں اس برابری کا حق حاصل کیے اس کی لائف شئیر کرے گی۔ پھر ہی تومزا آئے گا اسے خضر کی لائف سے باہر نکالنے کا۔ “

ملیحہ نے حیرت سے بیٹی کی طرف دیکھا اس کے ذہن میں کچھ چل رہا تھا جس سے وہ انجان تھیں۔

“بی کوذ مام ! بڑے بڑے کہتے ہیں ہمیشہ دشمن کو جان کر اس پہ وار کریں تو فتح آپ کو ہی نصیب ہوتی ہے۔”

وہ استہزائیہ انداز میں ہنسی تو ملیحہ کو بیٹی پہ فخر ہوا کہ کمرے میں خود کو قید کر کے رونے دھونے کی بجائے سارہ نے آج کے زمانے کے مطابق اپنے رقیب سے لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

“گُڈ ! مجھے اپنی سارہ سے اسی بات کی امید تھی بس۔۔۔۔۔۔۔!!!”

“یس مام ! آئی نو۔۔۔۔۔! بس آپ دیکھتی جائیں میں کیا کرتی ہوں۔”

وہ دھیرے سے شیطانی مسکراہٹ لبوں پہ سجائے ماں کی طرف دیکھ رہی تھی۔ پھر وہ دونوں خوشگوار موڈ میں کوئی سازش بُننے میں مصروف ہو گئیں۔

                         ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

وہ تیز رفتاری کے ساتھ گاڑی چلا رہا تھا ۔ جب بیچ سڑک پہ کوئی آ کے کھڑا ہو گیا۔ گاڑی کی بریک لگی اور فضاء میں دوھول ہی دھول ہو گئی۔ وجاہت نے غصے سے ڈرائیور کی طرف دیکھا اور بولنا شروع کر دیا۔

“دیکھ کر نہیں چلا سکتے ۔۔۔۔۔۔۔؟”

وہ غصے سے دھارا۔

“سائیں ! میری کیا غلطی ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟ وہ خود سامنے آ گئی تھی۔”

وہ معصومانہ انداز میں بولا تو وجاہت نے فوراً سے ڈور کھولا اور باہر آیا ۔ ہاتھ لہراتے ہوئے وہ فضاء میں حائل دھول کو صاف کر رہا تھا تاکہ منظر صاف نظر آئے۔

“سائیں۔۔۔۔۔۔!!!”

جانی پہچانی زنانہ آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی دو منٹ نہیں لگے تھے اسے آواز پہچاننے میں ۔

“زرینہ تُو۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

اس نے حیرت سے پوچھا۔

“ہاں سائیں !میں۔۔۔۔۔۔۔۔!”

وہ بیچ سڑک پہ اس کا یوں راستہ کاٹنے پہ اعتراف کر رہی تھی۔

“یہ کیا حماقت ہے زرینہ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

اس نے تلخی سے سوال داغا۔

“حماقت نہیں ہے سائیں ، میرا پیار ہے جو آپ کو غلط رستوں پہ چلنے سے روک رہا ہے۔”

وہ اس کے قریب آتے ہوئے بولی۔ تو ڈرائیور فوراً گاڑی سے نیچے اترا اور تیزی سے قدم چلاتے ہوئے بیس قدم دور دوسری طرف منہ کر کے کھڑا ہو گیا ۔ وجاہت نے غصے سے زرینہ کی طرف دیکھا اسے اس وقت اس کی حماقت پہ بہت غصہ آ رہا تھا۔ لیکن اس وقت وہ شہر جا رہا تھا مرجان کو واپس لانے کے ارادے سے تو وہ کسی کے ساتھ بھی الجھنا نہیں چاہتا تھا۔ لہذا اپنے غصے پہ قابو کرتے ہوئے وہ بولا۔

“مجھے شہر جانا ہے۔”

لہجے میں حلاوت تھی۔

“میں نہیں جانے دوں گی۔”

وہ محبت سے بولی اور وجاہت کے چہرے کو چھونے لگی۔ وجاہت نے چڑ کر اس کی انگلیاں تھام لیں۔ اور بولا۔

“مجھے جانا ہے اور کوئی بھی مجھے روک نہیں سکتا ہے۔”

اب کی بار لہجے میں درشتی بھر آئی۔

“سائیں ! نہ کریں ضد۔۔۔۔۔۔۔میں پاؤں پکڑتی ہوں آپ کے۔”

وہ نیچے جھکی اور اس کے پاؤں پکڑ کر بیٹھ گئی۔ اس کی یہ حرکت وجاہت کو ناگوار گزری اور اس نے سختی سے پاؤں سے اسے ٹھوکر ماری اور بولا۔

“بہت کر لی نرمی تیرے ساتھ۔۔۔۔۔۔! میں جا رہا ہوں ، اور تو کیا مجھے کوئی بھی نہیں روک سکتا۔”

وہ درشتی سے بولا اور ڈرائیور کو اشارہ کرتے ہوئے فوراً سے گاڑی میں بیٹھ گیا۔ زرینہ جو محبت کی بھیک مانگ رہی تھی۔ اسے روک رہی تھی۔ اس کی ایک ٹھوکر سے کئی کرچیوں میں بَٹ گئی۔ ڈرائیور بھاگتا بھاگتا آیا اور گاڑی میں بیٹھتے ہی گاڑی سٹارٹ کی ۔ زرینہ فوراً سے اٹھی اور اس سے پہلے کہ وہ گاڑی کے قریب آتی اور مزید کچھ بولتی ڈرائیور نے تیزی سے گاڑی سٹارٹ کی اور یہ جا وہ جا۔ زرینہ پیچھے کتنی دور تک بھاگی لیکن نہیں وہ دھول اڑاتا اس کی محبت کا مذاق بناتا بہت دور چلا گیا تھا۔

                                  ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

“ناشتہ کر لو خضر۔۔۔۔۔۔۔!”

ثمن بیگم نے تیزی سے سیڑھیاں اترتے خضر کو آواز دی۔ آف وائٹ پینٹ کوٹ اور سکائی بلیو شرٹ پہنے بالوں کو جیل کے ساتھ سیٹ کیے وہ اپنی ہی دھن میں نظریں جھکائے سیڑھیاں اتر رہا تھا۔مرجان نے ایک نظر اٹھا کر اس ہرجائی کی طرف دیکھا جو ابھی کچھ دیر پہلے اسے ستانے کی آخری حد پار کر رہا تھا ۔ اس کی سانسیں خشک کرنے والا اب کتنی معصومانہ شکل بنائے اپنا مخصوص کلون فضاء میں بکھیرے آفس جانے کی تیاری میں تھا۔

“نو تھینکس مام۔۔۔۔۔۔! میں آل ریڈی بہت لیٹ ہو چکا ہوں ۔بائے۔۔۔۔۔۔۔!”

وہ تیزی سے نیچے آیا ڈائننگ ٹیبل کے پاس کھڑی ثمن بیگم کے قریب ان کے ماتھے پہ لب رکھتے وہ ٹیبل سے ایک فریش ایپل اٹھائے ان کو خدا حافظ بول کر وہاں سے جانے لگا تو مرجان نے کچن کی ونڈو نے اس کی ایک جھلل دیکھی۔ وہ بے حد حسین اور پرکشش شخصیت کا مالک تھا۔ وہ ایکدم ہی پیچھے ہٹی کیونکہ خضر نے کچن کی ونڈو کی اوٹ سے کسی کو اس پہ نظریں گاڑے محسوس کیا تھا ۔ لیکن وہاں تو کوئی نہیں تھا۔

“آفس جا کر ناشتہ ضرور کر لینا۔”

ظمن بیگم نے فکر مندی سے کہا تو سنجیدگی سے بولا۔

“اوکے مام ! کر لوں گا۔ ڈونٹ وری۔۔۔۔۔۔۔۔! اللہ حافظ۔۔۔۔۔۔!”

وہ جلدی جلدی کہتے ہوئے اب باہر کی جانب قدم بڑھا رہا تھا۔ ہاتھ میں لیپ ٹاپ بیگ اٹھائے وہ بہت جلدی میں لگ رہا تھا۔مرجان نے ایک بار پھر ونڈو میں سے جھانکتے ہوئے اس کے سراپے کو دیکھا۔ بلاشبہ وہ گڈ لوکنگ تھا۔ مرجان کے ذہن میں کچھ سوچیں ابھریں تو وہ زیرِ لب دھیرے سے مسکرائی۔

                                    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

جاری ہے

انشاء اللہ

اگلی قسط بہت جلد۔۔۔۔!!!

Hina Shahid

I am an Urdu novel writer, passionate about it, and writing novels for several years, and have written a lot of good novels. short story book Rushkey Hina and most romantic and popular novel Khumarey Jann. Mera naseb ho tum romantic novel and lot of short stories write this

Related Articles

One Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button