رومینٹک ناول
Trending

Khumarey Jaan by HINA SHAHID episode 13

Khumarey Jaan by HINA SHAHID

Story Highlights
  • "کیا مطلب ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ یہ روم ابھی فی الوقت میرا ہے اور آپ اگر یہاں سے نہ گئے تو میں ثمن آنٹی سے آپ کی شکایت کر دوں گی۔" وہ درشتی سے بولی تو اس کے لہجے کی سختی بھانپتے ہوئے وہ سیدھا کھڑا ہوا اور بال سیٹ کرتے ہوئے بولا۔ "جا رہا ہوں اتنا سنجیدہ ہونے کی کیا ضرورت ہے۔"

 

خمارِ جاں از حناء شاہد قسط نمبر 13

مانا وادئ عشق میں پاؤں اندھا رکھنا پڑتا ہے

لیکن گھر کو جان والا رستہ رکھنا پڑتا ہے

تنہائی وہ زہر بجھی تلوار ہے جس کی دہشت سے

بعض اوقات تو دشمن کو بھی زندہ رکھنا پڑتا ہے

جبر کی جتنی اونچی چاہو تم دیوار اٹھا لینا

لیکن اس دیوار میں اک دروازہ رکھنا پڑتا ہے

ہجر کا دریا آن پڑا ہے بیچ تو کوئی بات نہیں

عشق میں ساتھی تھوڑا سا تو حوصلہ رکھنا پڑتا ہے

بے خبری کی شامیں ہوں تو پھر انجان مسافر کو

صحرا میں بھی سمتوں کا اندازہ رکھنا پڑتا ہے

“عجیب کشمکش میں مبتلا ہوں میں، کون تھی وہ۔۔۔۔۔۔۔؟ “

گاڑی کا سٹئیر بلاوجہ گھماتے ہوئے اس نے اب زور سے اس پہ ہاتھ مارا اور اکتا کر بولا۔

“کہاں ہو گی وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

اس نے ونڈو مرر نیچے کیا اور مارکیٹ کی سڑکوں کو چھاننا چاہا۔ ادھر ادھر دیکھتے ہوئے وہ امید کھو بیٹھا تھا۔ روڈ پہ لوگوں کا ہجوم تھا۔ مارکیٹ پہ رش لگا تھا۔ ایک مہینہ پہلے وہ حسینہ اسی مارکیٹ میں سامنے کھلے روڈ پہ اس سے التجائی انداز میں معافی مانگ رہی تھی۔ اور اسی التجائی انداز نے اس کے دل کو دھڑکا دیا تھا۔ اس دن سے ہی وہ بے چین تھا۔ اس کا دل ہر وقت ان آنکھوں کے حصار میں قید تھا۔ وہ بے اختیار ہوتے ہوئے گاڑی سے باہر نکلا اور ٹھیک اسی جگہ جہاں وہ اسے ملی تھی، لوگوں کی اک بھیڑ میں چادر کے پلو سے منہ چھپائے اس سے التجاء کر رہی تھی۔ وہ وہیں کھڑا تھا۔ اس نے ایک بار پھر ادھر ادھر نظر دوڑائی مگر جس کی تلاش اسے تھی وہ تو یہاں موجود ہی نہیں تھی۔ نصیب کے کھیل بھی دیکھیں جسے ہم باہر تلاشتے ہیں خدا کی قدرت اسے ہمارے بہت قریب بہت پاس ہمیں عطا کر دیتی ہے اور ہم اس عطا کو پسِ پشت ڈال کر دربدر اپنی تلاش کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ عجب کھیل کے چکر میں خضر گُم تھا۔ اس کے حواس اس کے اپنے ہی کنٹرول میں نہیں تھے۔ اس نے ایک دم سے اپنی پیشانی پہ ہاتھ رکھا۔ وہ تھک گیا تھا۔ بھاگتے بھاگتے ، اسے تلاش کرتے کرتے ، اسے اسوقت یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ اپنی زندگی میں ہار بیٹھا ہے۔ آج پہلی بار اس نے شکست کو محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ تسلیم بھی کیا تھا۔

“مسٹر خضر ! مان لو اپنی ہار۔۔۔۔۔۔۔۔”

وہ چلتے ہوئے گاڑی کے قریب آیا تو اس کے ناامید قدموں کے ساتھ ساتھ چہرے پہ بھی مایوسی تھی۔ اس کے دل سے اک صدا بلند ہوئی۔ وہ وہیں رک گیا۔

“نصیب کا فیصلہ تسلیم کر لو اور منکوحہ کو بیوی کا درجہ دے دو۔”

اس نے دل پہ ہاتھ رکھا اور آنکھیں زور سے بند کر گیا۔ وہی بلوری آنکھیں اس کے سامنے جھلملا اٹھیں۔ لیکن ایک ہی پل میں وہ منظر بھی اس کے سامنے آ گیا جب وہ مرجان کے بے حد قریب کھڑا تھا اور ایکدم ہی مرجان نے اس کی آنکھوں میں جھانکا تھا اس کی قدرے مدہم اور التجائی آواز اس کے کانوں میں گونجی۔

“خضر! چھوڑیں مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔!”

اس نے فوراً سے آنکھیں کھول لیں ۔ دل کی صدا اور آنکھوں میں جھلملاتا عکس اسے کنفیوز کر گیا ۔ اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ دل تھا کہ کسی اور ہی رستے پہ سوار تھا اور دماغ میں جھلملاتا عکس اسے کہیں اور ہی لے جا رہا تھا۔ دل اور دماغ کے درمیان چھڑی جنگ میں وہ مسلسل کنفیوز رہنے لگا تھا۔ پھر اس نے دل اور دماغ کو ان کے حال پہ چھوڑا اور گاڑی میں بیٹھے کر گھر جانے کے خیال سے گاڑی سٹارٹ کی۔ اس کے موبائیل کی رنگ بیل مسلسل بج رہی تھی۔ مام کالنگ جگمگا رہا تھا۔ وہ سمجھ گیا تھا جس ڈنر کو اس سے چھپایا جا رہا تھا اسی ڈنر کے لیے اب اسے فوراً گھر بلانے کے لیے کال کی جا رہی ہے۔

                                                   ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تیزی سے گاڑی پورچ میں داخل ہوئی گارڈ نے فوراً سے گیٹ چھورا اور بھاگتا ہوا گاڑی کے پاس آیا اور بیک ڈور اوپن کرتے ہوئے سعادت کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ وجاہت ایک طویل سفر کے بعد شہر کی آزاد فضاؤں میں داخل ہو چکا تھا اور اب اپنے ذاتی گھر کے داخلی گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہوئے اس نے جیب میں سے موبائل نکالا رات کے آٹھ بج رہے تھے۔

“سلام چھوٹے چوہدری جی۔۔۔۔۔۔۔!!!”

رحیم جو چوکیدار تھا وہ اور اس کی بیوی صائمہ گھر کی دیکھ بھال کرتے۔ احمد درانی اور ثمرینہ کبھی کبھار جب شہر آتے تو وہ لوگ اپنے اس ذاتی گھر میں رہتے۔ یہ گھر شہر میں بنایا ہی اسی لیے گیا تھا۔ لہذا وجاہت بھی اس بار جو لمبے سٹے کے لیے شہر آیا تھا اس نے بھی اسی گھر میں رہنا کا فیصلہ کیا۔

“وعلیکم اسلام۔۔۔۔۔۔!!!”

اس نے ہاتھ لہرا کر سلام کا جواب خوشگوار انداز میں دیا۔ اور داخلی دروازے کو پار کرتے ہوئے بولا۔

“جلدی سے کھانا لگواؤ۔۔۔۔۔۔۔مجھے بہت بھوک لگی ہے۔”

“جی چوہدری جی! ابھی بس کچھ دیر میں کھانا لگ جاتا ، آپ کا کمرہ بھی صاف کروا دیا ہے اور ضرورت کی ساری چیزیں بھی موجود ہیں وہاں۔ پھر بھی سائیں کسی چیز کی ضرورت ہوئی تو حکم کر دیجئیے گا۔”

اس نے انتہائی ادب کے ساتھ سینے پہ ایک ہاتھ سجا کر کہا تو وجاہت مسکرانے لگا۔

“ٹھیک ہے میں فریش ہو کر آتا ہوں۔”

“سائیں ! وہ گاؤں میں سب ٹھیک ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

ڈرتے ڈرتے اس نے سوال کیا تو وجاہت جو جانے ہی لگا تھا اس نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا اور مسکرا کر بولا۔
” ہاں ! سب ٹھیک ہے۔ میں چینج کر کے آتا ہوں ۔ تم بس کھانا لگواؤ۔ کھانے کے بعد میں آرام کروں گا۔”

وہ بولتے بولتے تیزی کے ساتھ سیڑھیاں چڑھنے لگا۔

“جی سائیں ! “

وہ اثبات میں سر ہلاتا حکم کی تعمیل کرنے کے لیے سرعت کے ساتھ قدم بڑھانے لگا۔

                                          ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

“یہ فلیٹ جوتا اتارو۔۔۔۔۔۔!”

رمشا نے ضد کرتے ہوئے اسے کہا تو وہ منہ پھلائے اسے دیکھنے لگی۔

“رمشا!”

وہ ملتجائی نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔

“کیا ہے مرجان۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

سوال میں بیزاریت واضح تھی۔

“کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔!!!”

وہ منہ دوسی طرف کرتے ہوئے بولی تو رمشا نے اس کے موڈ کو مکمل اگنور کیا اور وارڈروب کے ساتھ اٹیچ نچلے کیبنز کو اوپن کیا جہاں خوبصورت اور مہنگے جوتوں کی ایک لمبی لائن لگی ہوئی تھی۔ اس کی تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔

“اوہ مائی گاڈ۔۔۔۔۔۔! مرجان سو پریٹی۔۔۔۔۔۔!”

اس کی ایکسائٹمنٹ پہ مرجان نے فوراً سے اس کی طرف اچنبھے سے دیکھا وہ جو جوتوں کی زبردست کلیکشن دیکھ کر پاگل ہوئی جا رہی تھی۔ مرجان نے ایک ہی سیکنڈ میں اس کی ایکسائٹمنٹ کی دھجیاں بکھیر دیں۔

“کنٹرول یور سیلف رمشا۔۔۔۔۔۔۔!!!”

رمشا نے ایک تیکھی نگاہ اس پہ ڈالی اور ایک ہائی ہیل سلور شوز دونوں ہاتھوں میں لیے کیبنیٹ کو زور سے بند کرتے ہوئے اس کے قریب آئی۔

“یہ پہنو۔۔۔۔۔۔۔!!!”

انداز حکمیہ تھا مرجان نے ایک نظر اس کی طرف اور دوسری نظر اس جوتے پہ ڈالی ۔ وہ کافی ہائی ہیل پہننے پہ اس کو مجبور کر رہی تھی۔

یہ سب اس نے اپنے بیوی کے لیے جمع کر رکھا ہے اپنی من پسند بیوی کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔! اور میری حیثیت صرف ایک مہمان کی ہے ۔”

آنکھوں میں ایک ساتھ کئی موتی جھلملائے اور لہجے میں درد کی بارش ہوتے ہوتے تھم سی گئی۔ کیونکہ وہ خود سے وعدہ کر چکی تھی آنسو نہ بہانے کا پلکیں نہ نم کرنے کا۔

“اوہ میری جان ! مرجان! اپنی حیثیت اور مقام تمہیں خود بنانا پڑے گا ۔ “

وہ اس کے گھٹنوں میں بیٹھ گئی اور جوتا قالین پہ رکھتے ہوئے بولی۔

“دیکھو مرجان! ایسے جلد بازی میں ہونے والے نکاح کو تھوڑا سا وقت دے کر دیکھو ۔ تھوڑا سا جھک کر دیکھو مجھے یقین ہے تمہیں جس دن نظر بھر کر خضر بھائی نے دیکھ لیا وہ تو تمہارے دیوانے ہو جائیں گے۔”

وہ خوشیوں کا دیپ گلاتے ہوئے اسے اچھے دنوں کی آس دلا رہی تھی۔

“ہممممممم۔۔۔۔۔۔۔۔۔!”

وہ جواب میں فقط اتنا ہی بول پائی۔

“اچھا ! اب یہ ہیل پہنو ۔۔۔۔۔۔۔! خضر بھائی کے قد کے برابر جب تم یہ ہیل پہن کے کھڑی ہو گی تو پرفیکٹ میچ لگے گا دونوں کا۔”

وہ اتنے جوش سے بول رہی تھی کہ مرجان کو یاد آ گیا کہ خضر کا قد واقعی اس سے لمبا ہے اور وہ تو اس کے سامنے ایک چھوٹی سی گڑیا لگتی ہے۔ لہذا وہ بھی ضد چھوڑتے ہوئے چپ چاپ سلور ہیل پہننے لگی۔

                                         ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

“ایم ریڈی مام اینڈ یو۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

سارہ نے دونوں بازو پھیلا کر خوشگوار انداز میں ملیحہ کی طرف دیکھا تو وہ لپ اسٹک کو فائنل ٹچ دے رہی تھی سارہ کو ڈور میں کھڑے دیکھا تو اس کی طرف فوراً سے دیکھنے لگیں۔

“بے بی ! جسٹ ون منٹ۔۔۔۔۔۔!”

ملیحہ کے انداز سے بھی خوشی چھلک رہی تھی۔

“مام ! جلدی کریں وہاں ثمن آنٹی ہمارا ویٹ کر رہی ہوں گی۔”

اس نے ڈور کے ساتھ ٹیک لگائی۔ اس وقت ہالف سلیوز رائل بلیو ٹی شرٹ کے ساتھ سکائی بلیو پینٹ اور گلے میں بلیک مفلر رول کیے ، بالوں کی ٹیل کیے کچھ لٹیں ماتھے پہ سجائے لائٹ سے میک اپ کے ساتھ وہ بہت ڈیسنٹ لگ رہی تھی۔ ملیحہ نے ایک نظر بیٹی کی طرف دیکھا اور ماشاء اللہ کہتے ہوئے دوبارہ مرر میں دیکھنے لگیں۔

“اوکے ! ایم ریڈی۔۔۔۔۔۔!!!”

وہ پاؤچ ہاتھ میں اٹھائے اس کی طرف قدم بڑھانے لگیں۔بلیک سلک کی بالکل سمپل ساڑھی پہنے وہ بے حد پیاری لگ رہی تھیں ۔ سیاہ بالوں کا جوڑا کیے اور انہیں نفاست کے ساتھ جیل سے سیٹ کیے وہ بھی ڈیسنٹ لُک دے رہی تھیں۔

“مام! “

سارہ کے ذہن میں کچھ آیا تو وہ جھنجھلا کر بولی۔

“یس مائے ڈئیر۔۔۔۔۔۔؟”

انہوں نے استفہامیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا اور دھیمے انداز میں بولیں۔

“کیا خضر کی بیوی اس کے قابل ہو گی۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

بے پناہ شکوک شبہات لیے وہ ماں کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔

“یہ سوچنے کی بجائے سارہ تم یہ سوچو اس لڑکی کو خضر کی زندگی سے اور اس گھر سے کیسے نکالنا ہے۔ ہمارا مقصد یہ ہے بس۔۔۔۔۔۔۔!!!!”

سارہ نے فوراً سے ملیحہ کی بات پہ ان کی طرف سنجیدہ انداز میں دیکھا ۔ وہ اس بات پہ حیران ہو رہی تھی کہ ملیحہ اس سے بھی کئی گنا زیادہ آگے کی سوچتی ہیں۔

“یہ سب سوچنا چھوڑ دو کہ وہ اس قابل ہے یا نہیں۔۔۔۔۔۔۔! اگر وہ اس قابل ہوئی بھی تو مجھ پہ ٹرسٹ رکھو میں اس کے ساتھ ایسا کھیل کھیلوں گی کہ وہ پھر کسی کے بھی قابل نہیں رہے گی۔”

ان کے انداز میں بہت کچھ تھا سارہ ہر بات کو سمجھ رہی تھی لہذا وہ ان کی بات سن کر استہزائیہ مسکرائی تو ملیحہ نے اس کی پشت پہ ہاتھ رکھا اور ہنستے ہوئے بولیں۔

“اب چلیں ! مجھ وے تو مزید انتظار نہیں ہو رہا خضر بیگ کی منکوحہ کو دیکھنا آج کا سب سے اہم ایجنڈا ہے اس کے بعد ہی تو ہم اپنی اگلی منزل کا تعین کریں گے۔”

وہ سازشوں کے کئی جال بُنتے ہوئے سارہ کو خوش کرنے میں لگی تھیں۔

ہممممممممم! ڈیٹس گریٹ مام۔۔۔۔۔۔۔!”

وہ قہقہہہ لگاتے ہوئے ہنسی تو ملیحہ بھی ہنسنے لگیں ۔ وہ دونوں ہی ماں بیٹی کسی گہری سازش کا جال بُن رہی تھیں۔ اور اب وہ دونوں خوشگوار موڈ کے ساتھ ڈرائیور کو اشارہ کرتے ہوءے گاڑی میں بیٹھ گئیں۔

                                ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

“تم ادھر بیٹھے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔!”

خضر جو اپنی ہی کسی سوچ میں گم پورچ میں گاڑی کھڑی کرنے کے بعد چابیاں اور لیپ ٹاپ بیگ گارڈ کو تھما کر اندرونی دروازہ پار کرتے ہوئے سیدھا ٹی ۔ ی لاؤنج سے قہقہے کا شور سنتے ہوئے اسی طرف آ گیا تو سامنے عاشر کو کسی بات پہ کھلکھلا کر ہنستا دیکھ کر فوراً سے شیر کی طرح اس پہ جھپٹا تو عاشر کو کچھ بھی سمجھ نہ آیا کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ خضر اس کی گردن دبوچے اس پہ مسلط تھا۔،

“کیا ہو گیا خضر۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

ثمن بیگم پریشان کن انداز میں ان دونوں کے سر پہ سوار تھیں۔ عاشر کی تو آنکھیں لال ہو گئیں۔

“مام ! آج تو میں اس خبیث کی جان لے لوں گا۔”

وہ غصے سے چلایا۔

“لیکن ہوا کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

ثمن بیگم کی گھبرائی سی آواز گونجی۔

“ثمن آنٹی ! مجھے اس جلاد سے بچا لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔!”

عاشر بمشکل اپنی آواز نکالنے کی کوشش میں کسی حد تک کامیاب ہوا تھا۔

“چھوڑو خضر ! اسے ۔۔۔۔۔۔۔! جان لو  گے کیا اس کی۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

ابی جو اپنے کمرے سے باہر آئے تو ٹی۔ وہپ لاؤنج سے اٹھنے والے شور نے انہیں بھی پریشان کر دیا وہ فوراً سے اس طرف آئے تو دیکھا ثمن بیگم خضر کے ہاتھ پیچھے کرنے میں مگن تھیں چہرہ کافی پریشان کن تھا۔ خضر کافی غصے میں لگ رہا تھا اور عاشر آخر دم بھرنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے مدد طلب نظروں سے ابی کی طرف دیکھن رہا تھا۔

“ابی ! رہنے دیں آج میں اس کو نہیں چھوڑوں گا۔”

وہ غصے سے بولا تو ابی کی بارعب آواز نے اس کے ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی کر دی۔

“میں نے کہا ہے خضر ! چھوڑ دیں عاشر کو۔”

“آپ کو نہیں معلوم ابی! اس نے آج کانفرنس روم میں کیا کیا ہے۔”

وہ پیچھے ہٹتے ہوئے خفگی سے بولا۔عاشر وہ تو لمبے لمبے سانس بھرتے ہوئے خود کو نارمل کر رہا تھا۔ ثمن بیگم نے پاس ہی پڑی ہوئی میز پر رکھا ہوا پانی کا جگ پکڑا اور گلاس میں پانی انڈیلتے ہوئے عاشر کی طرف گلاس بڑھایا جسے اس نے فوراً سے تھام لیا۔ اور ایک دو سیکنڈ میں سارا گلاس پی گیا۔ ابی نے خضر کی طرف خشمگیں نظروں سے دیکھا اور خفگی سے بولے۔

“ایک گلاس اپنے اس لاڈلے کو بھی پلا دیجئیے انہیں پانی پینے کی زیادہ ضرورت ہے۔”

ابی کے الفاظ کی درشتی خضر کے دل کو کانٹے کی طرح چبھی اس نے ایک ہی پل میں ابی کی طرف دیکھا اور سرعت سے بولا۔

“جس لاڈلے کی آپ دونوں بہت حمایت کرتے ہیں وہ آج میری عزت مٹی میں ملا کر آیا ہے سب کے سامنے۔”

وہ بے بسی سے نڈھال اب بیٹھ چکا تھا۔

“ابی ! میں نے جان بوجھ کر کچھ بھی نہیں کیا ہے۔”

عاشر نے خجل مگر ڈھٹائی کی آختی حد پار کی۔

“یہ موصوف تو ہمیشہ سے ہی ایسا کرتے ہیں اور بعد میں یہ بول کر معصوم بن جاتے ہیں کہ میں نے کچھ بھی جان بوجھ کر نہیں کیا ہے۔”

خضر کے انداز میں کافی ناراضگی تھی۔ وہ نظریں جھکائے ٹائی کی ناٹ غصے سے ڈھیلی کر رہا تھا۔

“عاشر ! کیوں تنگ کرتے ہو خضر کو؟ چلو سوری بولو اب عاشر!”

ثمن بیگم نے عاشر کو ڈپٹا اور خضر کی حالت دیکھ کر فوراً سے بولیں۔

“مجھے ضرورت نہیں ہے اس کے سوری کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!”

وہ غصے سے اٹھا اور لاؤنج کے ساتھ منسلک سیڑھیاں تیزی سے چڑھنے لگا۔

ابی کبھی اس کی طرف اور کبھی عاشر کی طرف دیکھ رہے تھے۔

“ڈونٹ وری ابی! میں اس کو منا لوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔!”

وہ انہیں تسلی دیتے ہوئے بولا تو ابی نے خفگی سے اس کو گھورا۔

“عاشر ! سدھر جاؤ اب تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔!”

ثمن بیگم نے اس کے سر پہ چپت لگائی۔

“تو مجھے بھی سدھارنے والی کوئی لا دیں تو گاڈ پرامس انسان بن جاؤں گا میں۔”

وہ شریرانہ انداز میں مسکرا کر بولا تو ابی نے اس کی طرف طنزیہ انداز میں دیکھا اور بولے۔

“پہلے صاحبزادے انسان بن جاؤ پھر تمہاری بھی کسی اچھی سی لڑکی کے ساتھ شادی کر دیں گے۔”

یہ تو ابی کھلا لارا ہوا نا۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

وہ منہ بسورتے ہوئے بولا تو ابی کھلکھلا کر ہنس پڑے ۔ ثمن بیگم بھی ہنسنے لگیں۔

“اچھا ! خضر کی باری پہ زٹ منگنی پٹ بیاہ اور میری باری آئی تو انسان بننے کا اتنا لمبا پراسیس۔۔۔۔۔۔۔۔!”

وہ دونوں ہاتھ سینے پہ باندھے بولا ۔

“اچھا اب اٹھو جاؤ منہ ہاتھ دھو کر بال سنوارو جا کر سارہ اور ملیحہ آتی ہی ہوں گی انہوں نے تمہیں اس حال میں دیکھ لیا تو خواہ مخواہ ہی تمہارا مذاق بن جائے گا۔”

ثمن نے اسے اس کی حالت درست کرنے کا کہا تو وہ فوراً سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اور اثبات میں سر ہلاتے چل دیا۔

“کیا واقعی مجھ میں جانوروں کی خصلتیں آ گئی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

عاشر نے چہرے پہ ہاتھ پھیرا اور سیڑھیوں کے ساتھ منسلک گیسٹ روم میں داخل ہو گیا۔

                                   ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اس نے غصے سے بند ڈور کھولا تو سامنے کھڑے اس انجان وجود کو دیکھ کر وہ چونک گیا۔

“اسلام علیکم خضر بھائی!”

اس نے روم میں داخل ہوتے خضر کو پرجوش انداز میں سلام کہا۔

“وعلیکم اسلام !  سوری ! آپ کون ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ اور اس وقت میرے بیڈ روم میں کیا کر رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

اس نے ایک ہی سانس میں اتنے سارے سوال کر دیے تو رمشا ہنستے ہنستے بولی۔

“وہ خضر بھائی ! آپ مجھے جانتے نہیں ہیں ۔ میں مرجان کی بیسٹ فرینڈ رمشا ہوں اور اس وقت آپ کے روم میں اس لیے ہوں وہ ثمن آنٹی نے بولا تھا کہ مرجان کی ہیلپ کر دوں ریڈی ہونے میں تو اس لیے۔۔۔۔۔۔۔۔!”

وہ جو نظریں ادھر ادھر گھما رہا تھا رمشا کی بات سن کر فوراً سے بولا۔

“تو آپ کی بیسٹ فرینڈ مرجان کدھر ہیں۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

انداز سوالیہ تھا۔

“مرجان ! وہ چینجنگ روم میں ہے۔ “

اس نے اسے مطلع کیا تو خضر کی نگاہیں فوراً سے بلیک مرر وال کی جانب گئیں روم میں ایک سائیڈ پہ بنے چینجنگ روم کے ساتھ ہی باتھ روم اٹیچ تھا۔ وہ رمشا کی بات سنتے ہی اس طرف دیکھنے لگا ۔ دل میں ایک عجیب سی بے چینی تھی جس سے وہ خود بھی انجان تھا۔

“آج تو آپ ہماری مرجان کو دیکھیں گے تو دیکھتے ہی رہ جائیں گے۔”

رمشا ایکسائٹمنٹ سے بولی تو خضر کے چہرے پہ ایک تبسم بکھرا مسکراہٹ میں طنز کا پہلو نمایاں تھا۔

“آئی نو! مرجان کی ڈریسنگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!”

بات ادھوری چھوڑتے ہوئے اس کے ذہن میں فوراً سے ایک سمپل سی گڑیا کا عکس نمایاں ہوا ۔ رمشا کو خضر کا انداز ناگوار لگا۔

“کیوں کیا  خرابی ہے اس کی ڈریسنگ میں۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

انداز استفہامیہ تھا۔ خضر نے فوراً سے اس کی طرف دیکھا۔

“کیا آپ اسی طرح نان اسٹاپ بولتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے وہ اسے شرمندہ کر گیا۔

“و۔۔۔۔۔۔۔و۔۔۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔۔۔! نہیں خضر بھائی۔!

وہ تھوڑا خجل ہو گئی تھی۔ کیونکہ جب سے وہ روم میں آیا تھا وہ نان اسٹاپ بولے ہی جا رہی تھی۔ اسے خود بھی اندازہ ہو رہا تھا وہ بولتے بولتے کچھ زیادہ ہی بول گئی تھی۔

“اٹس اوکے۔۔۔۔۔۔۔!”

خضر نے اسے مزید شرمندہ ہونے سے بچا لیا اور فوراً سے مسکرا کر کہا تو وہ بھی دھیمے سے مسکرا دی۔

“اچھا! میں اب چلتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔!”

وہ نظریں جھکائے بولی تو خضر نے فوراً سے اس سے پوچھا۔

“کہاں چل دی۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

“وہ بھائی میں نیچے جا رہی ہوں مرجان میرا پوچھے تو اسے بتا دیجئیے گا میں گیسٹ روم میں ہوں۔”

وہ جلدی سے بولتے بولتے روم سے باہر چلی آئی۔

“ادھر مرجان اور ادنر ان کی بیسٹ فرینڈ رمشا دونوں ہی ایک جیسی ہیں کنفیوزڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!”

وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا۔

“اب یہ میڈم باہر آئیں گی تو میں چینج کروں گا۔”

اس نے اکتا کر چینجنگ روم کی طرف دیکھا۔

                                ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

“آنکھیں کھولو زرینہ۔۔۔۔۔۔۔!!!”

ثمرینہ نے پریشان کن انداز سے کہا تو احمد درانی نے اس کی حالت دیکھ کر ڈاکٹر صاحب سے پوچھا۔،

“اسے کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔؟ اگر کوئی زیادہ پریشانی والی بات ہے تو ہم اسے شہر لے جاتے ہیں۔”

“نہیں ! ایسی کوئی بات نہیں ہے بس انہیں صدمہ لگا ہے ان کا ذہن انڈر پریشر ہے میں نے انجیکشن لگا دیا ہے اور میڈیسنز بھی لکھی دی ہیں آپ فوراً سے دوائیاں منگوا لیں۔ اور انہیں آرام کرنے دیں ایک دو دن میں یہ بالکل ٹھیک ہو جائیں گی۔”

ان کا انداز تسلی بخش تھا۔ ڈاکٹر صاحب کی اتنی لمبی چوڑی تفصیلی رپورٹ کے بعد احمد درانی کو قدرے حوصلہ ہوا تو انہوں نے شکور کو اشارہ کیا۔

“ٹھیک ہے سائیں ! اب مجھے اجازت دیں اگر کوئی بھی مسئلہ ہوا تو مجھے بلا لئجیے گا۔ “

انہوں نے ہاتھ بڑھا کر اجازت چاہی تو احمد درانی بھی مسکرانے لگے ۔

“چلیں ٹھیک ہے۔”

مختصر بولتے ہوئے انہوں نے ان کے ساتھ ہاتھ ملایا اور واپس زرینہ کی طرف پریشان کن انداز میں دیکھنے لگے۔

ٰہ ٹھیک تو ہو جائے گی سائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

ثمرینہ کی آواز میں درد تھا۔

“انشاء اللہ ! ڈاکٹر صاحب نے کہا ہے پریشانی والی کوئی بات نہیں ایک دو دن میں بالکل ٹھیک ہو جائے گی۔”

احمد درانی نے ان کے شانے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے انہیں تسلی دی۔تو وہ اس کے ماتھے پہ محبت سے ہاتھ پھیرنے لگیں۔

مٹی میں اٹے ہوئے اس کے سنہری بال ، چہرے اور لباس پر بھی کافی مٹی لگی ہوئی تھی۔ وہ بھاگتے بھاگتے اپنے حواس کھو بیٹھی اور کھیتوں میں چلتے چلتے بے ہوش ہو گئی۔ کھیتوں میں کام کرنے والے لوگوں نے اسے اس حال میں دیکھا تو فوراً حوایلی خبر پہنچائی۔ احمد درانی خبر ملتے ہی فوراً کھیتوں میں پہنچے ۔ لیکن وہاں آ کر انہیں پتہ چلا کہ سارے گاؤں میں جس لڑکی کی بے ہوشی کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیلی ہوئی ہے وہ کوئی اور نہیں ان کے خاندان کی عزت ہے تو وہ شرمندہ ہو گئے ۔ لیکن شرمندگی سے کہیں زیادہ وہ اس کی حالت دیکھ کر پریشان ہو گئے تھے۔ لیکن اب ڈاکٹر صاحب کی باتوں سے انہیں کچھ تسلی ہوئی تو وہ ثمرینہ کو بھی سمجھانے لگے۔ وہ یہ بات اچھی طرح سے جانتے تھے کہ ثمرینہ زرینہ سے بے پناہ محبت کرتیں ہیں اور وہ اس وقت اس کی وجہ سے بہت پریشان ہیں ۔ لہذا احمد درانی نے خاموشی اختیار کر لی اور کوئی بھی سوال کیے بنا صحیح وقت کا انتظار کرنے لگے۔ کیونکہ وقت ہی ہر سوال کا بہترین جواب دے سکتا ہے۔

                                  ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

وہ بھاگتی بھاگتی آئی زور سے دروازہ کھولا اور پھر فوراً ہی بند کر دیا۔

“زہے نصیب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!”

مردانہ آواز پہ وہ چونکی اور فوراً سے مڑ کر پیچھے کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔

“وہ آئے ہمارے در پہ کبھی ہم ان کو دیکھتے ہیں اور کبھی اپنے در کو۔۔۔۔۔۔۔!”

عاشر دھیمی مسکراہٹ سجائے دھیرے دھیرے چلتے ہوئے اس کے قریب آیا۔ وہ جو ایک دم ہی سانس لینا بھول گئی تھی۔ لیکن دوسرے ہی لمحے اپنے قریب آتے ہوئے اس کے چہرے کی طرف دیکھنے لگی۔ خوبصورت نقوش کا حامل چھوٹی چھوٹی آنکھیں، تیکھا ناک ، سیاہ بال جیل کے ساتھ سیٹ کیے رخساروں پہ پڑتے دو ڈمپل جب وہ مسکراتا تو اس کی مسکراہٹ کو چار چاند لگانے والے یہ ڈمپل وہ ان میں کھو سی گئی۔ وہ اس کے بالکل سامنے کھڑا تھا۔

“کیا ہوا ہے چڑیل۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

عاشر کی آواز سے اسے کرنٹ سا لگا وہ ہوش کی دنیا میں حواس بحال ہوتے ہی دو قدم پیچھے کو ہٹی اور زخمی شیرنی کی طرح اس پہ دھاڑی۔

“یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔۔۔۔۔؟”

“میں نے کون سی بد تمیزی کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

عاشر نے معصومانہ انداز اپنایا تو رمشا نے ایک تیکھی نگاہ اس کی معصومیت پہ ڈالی۔

“آپ میرے روم میں کیا کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

انداز سوالیہ تھا۔        

“کس نے کہا یہ روم آپ کا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

وہ سنجیدگی سے سوال داغ گیا۔ رمشا نے اس کے سوال پر اور پھر اس کے انداز پر اپنا سر تھام لیا۔

“یہ میرا روم ہے ۔”

“اوہ ! اچھا! مس رمشا جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے یہ آپ یہاں پہ مہمان ہیں اور یہ گیسٹ روم ہے۔ “

وہ اس کی کہی ہوئی بات پہ تھوڑا سا شرمندہ ہو گئی اسے یاد آیا کہ یہ تو مرجان کا سسرال ہے اور وہ یہاں پہ مہمان ہے صرف۔۔۔۔۔۔۔۔!

“کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

وہ جو کسی گہری سوچ میں مبتلا تھی۔عاشر نے اسے یوں دیکھا تو فوراً سے پوچھنے لگا۔

کچھ نہیں! سوری میں بھول گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔!”

وہ سر جھکائے بولی تو عاشر اس کے اس انداز پہ زیرِ لب مسکرایا۔

“اچھا ! تو آپ سوری بھی کرتی ہیں۔”

عاشر کی بات پہ اس نے فوراً سے نظر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا ۔

“غلطی ہو تو رمشا سوری بولنے میں دیر نہیں کرتی۔”

وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑے بولی۔ تو عاشر اس کے مزید قریب آیا ۔ اور سنجیدگی سے بولا۔

“تو مس رمشا ! آپ اور کس کس کام میں دیر نہیں کرتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

اس کے اس سوال پہ رمشا چڑ سی گئی۔

“آپ جائیے یہاں سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔! مجھے کچھ کام ہے۔”

“اور اگر میں نا جاؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!”

وہ اسے تنگ کر کے محظوظ ہو رہا تھا۔

“کیا مطلب ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ یہ روم ابھی فی الوقت میرا ہے اور آپ اگر یہاں سے نہ گئے تو میں ثمن آنٹی سے آپ کی شکایت کر دوں گی۔”

وہ درشتی سے بولی تو اس کے لہجے کی سختی بھانپتے ہوئے وہ سیدھا کھڑا ہوا اور بال سیٹ کرتے ہوئے بولا۔

“جا رہا ہوں اتنا سنجیدہ ہونے کی کیا ضرورت ہے۔”

“ہممممممم۔۔۔۔۔۔۔۔۔!”

رمشا نے گہرا سانس لیا۔ وہ اس کے پاس آیا اور ڈور اوپن کیا رمشا نے بھی اس کے چلے جانے پہ ایک لمبا سانس بھرا اور بولی۔

“شکر ہے بندر سے جان چھوٹی۔”

وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑائی اور دوپٹہ صحیح کرنے ہی لگی تھی کہ کسی نے اس کی کلائی زور سے تھامی اور اسے اپنی اور کھینچا وہ تو دم سادھے ہی کھڑی رہ گئی۔

“ویسے چڑیل تم ہو بے حد حسین۔۔۔۔۔۔۔! معلوم نہیں کس کے نصیب میں ہو گی تمہالرے ہونٹوں کی یہ سرخی۔۔۔۔۔۔۔۔!”

عاشر نے اس کے کانوں میں سرگوشی کی تو اس کا دل ایکدم ہی زور سے دھڑکا۔ وہ بھی مخمور لہجے میں کہتے ہوئے رکا نہیں فوراً سے کہتا ہوا باہر چلا گیا لیکن اس کا حال بے حال کر گیا تھا وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
                                                ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

“رمشا۔۔۔۔۔۔۔!”

مرجان کی ملتجائی آواز گونجی ۔ وہ جو پچھلے دس منٹ سے ڈور کے باہر کھڑا مرجان کے باہر آنے کا انتظار کر رہا تھا اب بیزار آ گیا تھا۔

“کیا مصیبت میرے سر پہ مار دی ہے ابی نے۔”

وہ غرایا۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا وہی دھیمی سی آواز دوبارہ اس کے کانوں میں گونجی۔

“رمشا! یہ زپ کو پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے بند نہیں ہو رہی یہ بند کر دو یار۔”

اس کی آواز پہ خضر فوراً سے رکا وہ جو روم سے باہر جانے والا تھا تاکہ رمشا کو بلا کر لائے لیکن مرجان کی بات نے اس کے پاؤں کو بیڑی لگا دی اور وہ وہیں رک گیا۔

“رمشا!”

ایک بھی لمحے انتظار کیے بغیر وہ اسے پکار رہی تھی۔ خضر نا چاہتے ہوئے بھی چینجنگ روم کی طرف بڑھا مرر ڈور کو تھوڑا ساہلایا تو وہ کھل گیا شاید مرجان نے رمشا کو بلانے کے لیے لاک کھولا تھا۔ سفید اور پنک کنٹراست کا خوبصورت فراک پہنے ۔ لمبے سیاہ بال سٹریٹ کیا وہ اس کی جانب پشت کیے کھڑی تھی۔ آدھے سے زیادہ کمر برہنہ تھی۔دائیں جانب شانے پہ گہرا سیاہ تل تھا۔ خضر کی نظر بس ادھر ہی ٹک کر رہ گئی۔ اس کی دودھیہ رنگت اس لباس میں مزید کھل گئی تھی۔ وہ ہاتھ پیچھے کیے زپ کو زور سے بند کرنے میں مشغول تھی۔ لیکن زپ کہیں پہ اڑ سی گئی تھی۔ خضر نے قدم آگے بڑھایا اور زپ کو پکڑ کر زور سے اوپر کی جانب کھینچا تو وہ ساری کی ساری بند ہو گئی۔

زپ کے بند ہوتے ہی مرجان نے بال پیچھے کیے اور رخ موڑ کر دیکھا تو خضر کو اپنے سامنے کھڑا دیکھ کر وہ سانس لینا ہی بھول گئی۔ اپنی بلوری آنکھیں بنا جھپکائے خضر کے چہرے پہ نظریں ٹکائے وہ اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی۔ لائٹ پنک لپ گلوز ہونٹوں پہ سجائے ، ہلکا لائٹ سا میک اپ کیے سیاہ بال کھولے ، کاجل کی دھار، آنکھوں میں سجائے اس کی بلوری آنکھیں بے پناہ خوبصورت لگ رہی تھیں۔ خضر نے جی بھر کر اس کی آنکھوں میں جھانکا ۔ لیکن کچھ ہی لمحوں بعد وہ تواتر سے پلکیں جھپکائے نظریں جھکا گئی۔ وہ شرمندہ تھی اور کچھ بھی کہنے کی حالت میں نہیں تھی ۔ مرجان کا سراپا اسے دم بخود کر گیا ۔ وہ بنا کچھ کہے کوئی سوال کیے وہاں سے چلی آئی ۔ وہ جو اپنے حواس کھوئے انہی آنکھوں کے حصار میں قید تھا۔ اسے پتہ ہی نہیں چلا کہ وہ کب وہاں سے چلی گئی۔ پھر زور سے دروازہ بند ہونے پہ اسے ہوش آیا تو اس نے مڑ کر دیکھا۔ وہ چینجنگ روم میں نہیں تھی۔ اس نے باتھ روم میں جھانکا وہ وہاں بھی نہیں تھی۔ پھر وہ روم میں آیا وہ بے چینی کے ساتھ اسے ادھر سے ادھر ڈھونڈ رہا تھا لیکن وہ کہیں بھی نہیں تھی۔

“یہ مجھے کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

اس نے خود سے سوال پوچھا۔ مگر دل کی زمین مسلسل کانپ رہی تھی کہیں کوئی جواب نہیں تھا۔ پھر وہ کوئی جواب پائے بنا ہی مرر ڈور بند کرتے ہوئے شاور لینے لگا۔

                                          ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

(جاری ہے)

Hina Shahid

I am an Urdu novel writer, passionate about it, and writing novels for several years, and have written a lot of good novels. short story book Rushkey Hina and most romantic and popular novel Khumarey Jann. Mera naseb ho tum romantic novel and lot of short stories write this

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button