رومینٹک ناول
Trending

Khumarey Jaan by HINA SHAHID episode 17

Romantic Novel Khumarey Jaan

Story Highlights
  • اک خواب ہے اور تم ہو یہ کتاب و خواب کے درمیان جومنزلیں ہیں میں چاہتا ہوں تمہارے ساتھ بسر کروں یہی کل اثاثۂ زندگی ہے اسی کو زادِ سفر کروں کسی اور سمت نظر کروں تو میری دعا میں اثر نہ ہو میرے دل کے جادۂ خوش خبریہ بجز تمہارے کبھی کسی کا گزر نہ ہو مگر اس طرح کہ تمہیں بھی اس کی خبر نہ ہو اسی احتیاط میں ساری عمر گزر گئی وہ جو آرزو تھی کتاب و خواب کے ساتھ تم بھی شریک ہو وہی مر گئی اسی کشمکش نے کئی سوال اٹھائے ہیں وہ سوال جن کا جواب میری کتاب میں ہے نہ خواب میں میرے دل کے جادۂ خوش خبر کے رفیق تم ہی بتاؤ پھر یہ کاروبار کس حساب میں میری زندگی میں بس ایک کتاب ہے اک چراغ ہے اک خواب ہے اور تم ہو بس۔۔۔۔۔۔۔! اک خواب ہے اور تم ہو "تم میری ہو اور تم پہ بس میرا حق ہے۔۔۔۔۔۔!" وہ فرطِ جذبات میں سختی سے اس کا موم ہاتھ تھامے بولا۔ تو وہ آنکھیں پھاڑے ایک ٹک صرف اسی کی جانب دیکھتی رہ گئی اور جواب میں کچھ بھی کہہ نا پائی۔ "ہم نے ایک ساتھ بچپن گزارا ہے ایک سا

خمارِ جاں از حناء شاہد قسط نمبر 17

اس سے مل کر مجھے احساس ہوا ہے جیسے

زندگی اس کی تمنا ہی کا خمیازہ تھی

وہ تمنا جسے اظہار کا انداز نہ ملنے پایا

اور جو گرداب کی مانند سسکتی ہی رہی

کبھی مقتل میں اسے خوں میں نہایا دیکھا

اور غرقاب اسے بحرِ تلاطم دیکھا

پھر کبھی اس کو مچلتے سرِ محشر دیکھا

درد بڑھتا ہی رہا شب کی سیاہی کی طرح

حیرتِ غم ہی میرے زخم کا مرہم ٹھہری

شوقِ آوارگی تریاقِ غمِ زیست ہوا

آج کچھ اور ہی محسوس کیا ہے میں نے

جیسے صدیوں کا مسافر کسی ویرانے میں

منزلِ شوق سے قربت کی تمنا لے کر

یونہی پل بھر کو کہیں تھک کے ٹھہر جاتا ہوں

“محبت میں حد سے گزر جانا غلط ہے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

دل کے سوال نے راح کو بے چین کر دیا۔

“لیکن شاید!!! خضر بیگ طریقہ غلط تھا۔ “

دل کی صدا اعترافِ جرم کے لیے کافی تھی۔

“مجھے اپنی اس غلطی کی تلافی کرنا ہو گی۔”

اس نے اپنی غلطی کو تسلیم کرتے ہی کفارہ ادا کرنے کے بارے میں سوچا۔ اور فوراً سے کمرے کی جانب قدم بڑھائے۔ لائٹ آن تھی۔ روم میں قدم رکھت ہی اس نے ادھر ادھر دیکھا لیکن وہ کہیں بھی نہیں تھی۔ نہ ہی صوفے پہ اور نہ ہی بیڈ پہ۔ وہ آگے آیا اور یہ دیکھ کر اس کے اوسان خطا ہو گئے۔ صوفے کے ایک طرف وہ زمین بوس ہوش و حواس کھوئے اوندھے منہ پڑی تھی۔ وہ بھاگ کر اس کے قریب آیا بازوؤں میں اس کے وجود کو سمیٹا۔ اس کا ماتھا تپ رہا تھا۔

“مرجان! کیا ہوا ہے آپ کو۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

اس نے رخساروں کو تھپکتے ہوئے سوال کیا۔ لیکن وہ اس قدر بے ہوشی کے عالم میں تھی کہ اس کی سماعتوں سے کوئی آواز نہ ٹکڑا سکی۔ وہ اسے ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگا لیکن ہر کوشش بے سود تھی۔ اس نے اسے اپنے آہنی بازوؤں پہ اٹھایا اور کھڑے ہوتے ہی بیڈ کے قریب لے کر آیا۔ اور آرام سے اسے بستر پر لٹا دیا۔ فوراً سے گلاس میں پانی ڈالا اور مٹھی میں پانی بھرتے ہوئے اس کے منہ پہ چھینٹے مارے ۔ دو سے چار بار وہ ایسا کر چکا تھا۔ مگر اسے ہوش نہیں آ رہا تھا۔ اس کا ماتھا بخار سے تپ رہا تھا۔ پھر اس کے ذہن میں ایک چہرہ ابھرا اس نے فوراً سے پہلے اپنا سیل فون نکالا اور تیزی سے نمبر ڈائل کرنے لگا۔ دو سے چار منٹ میں کال کنیکٹ ہو گئی۔ کچھ ہدایات سننے کے بعد اس نے کال ڈسکنیکٹ کی۔ اور روم سے باہر آ گیا۔ سیڑھیوں سے نیچے اترا اور کچن کی جانب بڑھا۔ کچن میں ریفریجریٹر کو کھولا اور آئس کیوبز باؤل میں ڈال کر ڈرا اوپن کیا ادھر کچھ سٹرپس پڑی ہوئی تھیں۔ وہ سٹرپس ہاتھ میں تھامی اور سرعت کے ساتھ سیڑھیاں چڑھ گیا۔ روم میں آیا باؤل سائیڈ ٹیبل پر رکھا۔ اور پٹیاں باؤل میں بھگو کر اس کے ماتھے پہ رکھنے لگا۔ رات کے تین بج رہے تھے۔ مرجان کا ماتھا ابھی بھی تپ رہا تھا۔ وہ اپنی حرکت پہ پشیمان اور مرجان کی حالت پہ بہت پریشان تھا۔ دل ہی دل میں پچھتاوے کی آگ سلگ رہی تھی۔

“ایک بار مرجان آپ ٹھیک ہو جائیں خدا کی قسم کبھی بھی آپ کو تکلیف نہیں پہنچاؤں گا۔”

وہ اس کے پاس بیٹھا اس کا نازک ہاتھ تھامے فکرمند نظروں کے ساتھ اسے دیکھ رہا تھا۔ اس کی چملکدار آنکھیں آنسوؤں کی نمی کے ساتھ جھلملا رہی تھیں۔ وہ بار بار اس کے ہاتھ کا بوسہ لے رہا تھا۔

                                    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

آنکھ برسی ہے تیرے نام پہ ساون کی طرح

جسم سلگا ہے تیری یاد میں ایندھن کی طرح

لوریاں دی ہیں کسی قرب کی خواہش نے مجھے

کچھ جوانی کے بھی دن گزرے ہیں بچپن کی طرح

اس بلندی سے تو نے مجھے نوازا کیوں تھا

گر کر میں ٹوٹ گیا کانچ کے برتن کی طرح

مجھ سے ملتے ہوئے یہ بات تو سوچی ہوتی

میں تیرے دل میں سما جاؤں گا دھڑکن کی طرح

منتظر ہے کسی مخصوص سی آہٹ کے لیے

زندگی بیٹھی ہے دہلیز پہ برہن کی طرح

“شی از آل رائٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!”

لیڈی ڈاکٹر نے انجکشن لگانے کے بعد اس کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو خضر کی جان میں جان آئی۔ صبح ہوتے ہی سب سے پہلے اس نے ثمن بیگم کو مرجان کے بارے میں بتایا تو انہوں نے فوراً سے اپنی فیملی ڈاکٹر مہرین کو کال کی جو نائٹ ڈیوٹی دینے کے بعد اپنے گھر جا رہی تھی لیکن ثمن بیگم کی کال پہ فوراً سے ان کے گھر آ گئی۔ مرجان کو بے ہوش دیکھ کر تو سب کی جیسے جان ہی نکل گئی تھی۔ لیکن اب مکمل چیک اپ کے بعد انہیں کچھ تسلی ہوئی۔

“رات میں شاید بخار بہت تیز تھا۔ اس لیے یہ بے ہوش ہو گئی تھیں لیکن اب بخار کم ہے اور تقریباً ایک گھنٹے تک انہیں ہوش بھی آ جائے گا۔”

وہ مسکراتے ہوئے بولیں تو خضر سرعت سے بولا۔

“کوئی خطرے کی بات تو نہیں ہے میں انہیں ہاسپٹل لے جاتا ہوں”

وہ فکر مندی سے پوچھ رہا تھا۔

“نہیں ! اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انہیں ابھی ہوش آ جائے گا۔ اور اگر ایسی کوئی بات بھی ہوئی تو مجھے بتا دیجئیے گا میں خود ہی سارے انتظامات کروا دوں گی ویسے مسٹر خضر! ڈونٹ وری۔۔۔۔۔!”

وہ لبوں پہ تبسم سجائے اسے تسلی دے رہی تھیں۔ وہ بار بار مرجان کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اس کا رنگ پیلا پڑا ہوا تھا۔ اور وہ اس وقت اس جہازی سائز بیڈ پہ کانچ کی معصوم سی گڑیا لگ رہی تھی۔

“ثمن ! گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے یہ ایک گھنٹے تک ہوش میں آ جائے گی۔ آپ بس ان کے کھانے پینے کا خیال رکھیے گا۔ باقی اگر میری ضرورت ہو تو مجھے ایک کال کر لیجئیے گا۔ میں آ جاؤں گی۔”

“ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔! تھینکس۔۔۔۔۔۔!”

ثمن بیگم نے پرسکون انداز میں کہا اور پھر بولیں۔

“میں ڈرائیور کو کہتی ہوں وہ آپ کو ڈراپ کر آتا ہے۔”

“نہیں ! اس کی ضرورت نہیں ہے میں اپنی کار میں آئی تھی۔ میں خود ہی چلی جاؤں گی۔”

وہ شیک ہینڈ کرتے ہوئے باہر چلی گئیں۔ خضر مسلسل ادھر سے ادھر چکر کاٹنے میں لگا تھا۔ ابی اور ثمن اس کی بے چینی کو خوب محسوس کر رہے تھے۔ اور ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرا بھی رہے تھے۔

                                               ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ڈور بیل مسلسل بج رہی تھی۔ علی اعظم فوراً سے دروازے کی جانب لپکے اور ڈور کھولا تو سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ وہ کوئی اور نہیں تھا وجاہت تھا۔ جو پچھلے کچھ دنوں سے ان کے گھر کے چکر لگا رہا تھا۔ چونکہ علی اعظم گھر نہیں تھے تو وہ روز واپس چلا جاتا۔ اور آج جب کہ وہ صبح صبح ہی اسلام آباد سے واپس آئے تھے تو وہ بھی فوراً سے ان کے گھر آ گیا تھا۔ اس کی وجہ صرف اس کی بے قراری تھی۔

“وجاہت! تم ! اور یہاں۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

وہ تعجب آمیز انداز میں سوال کر گئے۔

“کیوں میں یہاں نہیں آ سکتا۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

سوال پہ سوال کرتے وہ دروازے سے اندر داخل ہوا۔ علی اعظم نے ڈور بند کیا اور اس کے پیچھے چلتے ہوئے سامنے کھلے ٹی۔وی لاؤنج میں آئے۔ اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔

“نہیں! اس دن احمد درانی تو سب رشتے ناطے ختم کر کے گئے تھے۔ اسی لیے بس تمہیں یہاں یوں اچانک اپنے سامنے دیکھ کر تشویش ہو رہی ہے۔”

وہ اچنبھے سے بولے۔

“وہ ابا کا فیصلہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔! اور میں تو یہاں بس مرجان سے ملنے آیا ہوں۔”

اس نے پرسکون انداز اپنایا تو علی اعظم مزید حیرت زدہ رہ گئے۔

“لیکن !مرجان کی تو رخصتی ہو گئی ہے۔”

انہوں نے اسے آگاہ کیا تو وہ دھیرے سے مسکرا دیا۔

“تو اس میں کیا ہے۔۔۔۔۔؟ ہم اس کے سسرال چلے جائیں گے۔”

اس نے انوکھا انکشاف کیا علی اعظم کی سمجھ سے باہر تھا اس کا پرسکون انداز۔

“لیکن تم مرجان سے کیوں ملنا چاہتے ہو۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

وہ پرتشویش انداز میں بولے تو وہ جواباً لبوں پہ تبسم بکھیرے بولا۔ اور انہیں مزید حیرت میں مبتلا کر گیا۔

“افتخار چچا کی لاڈلی اور خاندان بھر کی پیاری ہے مرجان۔۔۔۔۔! اب خاندان کا وارث ہونے کے ناطے اتنا حق تو بنتا ہے کہ اس کے سسرال جا کر یہ تسلی کر لی جائے کہ وہ چچا کے فیصلے سے خوش ہے۔”

اس کا انداز انہیں پریشان کر رہا تھا۔ وہ جو جذباتیت کی انتہاء پہ کھڑا رہتا اور آج اتنا پرسکون کہ ذرا سی بھی بے چینی اس کے چہرے پہ نہیں تھی۔ اتنا بڑا انقلاب علی اعظم گہری سوچ میں مبتلا ہو گئے۔ بحرحال اسے لے کر جانے کے لیے مجبور تھے وہ ۔

“اوکے! آج شام میں رمشا کو لینے جانا ہے ہم نے تو آپ بھی ہمارے ساتھ چلے جائیے گا۔ “

“رمشا کدھر ہے۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

اس نے سادہ سا سوال کیا۔

“وہ مرجان کی طرف گئی ہے۔ آج شام میں اسے لینے جانا ہے تو آپ بھی ساتھ چلے جائیے گا مرجان سے ملاقات بھی ہو جائے گی اور آپ کے سارے انکشافات بھی دور ہو جائیں گے۔”

وہ سنجیدہ انداز میں اسے بتا رہے تھے جبکہ وہ چہرے پہ مکروہ مسکراہٹ سجائے خوشی سے نیہال ہو گیا تھا۔ اس کے دماغ میں کیا چل رہا ہے اس کا اندازہ لگانا علی اعظم کے لیے مشکل ہو گیا تھا۔

                                        ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

“کیا کرتی ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

رمشا نے اسے زور سے ڈپٹا۔ وہ جو پچھلے آدھے گھنٹے سے ہوش کی دنیا میں قدم رکھ چکی تھی اور آنکھیں کھولتے ہی سب سے پہلا چہرہ اس نے خضر کا دیکھا تھا۔ اس کے چہرے پہ اپنے لیے بے پناہ فکر اور پریشانی دیکھ کر اس کے دل کو پتہ نہیں کیوں مسرت ہوئی۔ ثمن بیگم اس کے لیے سوپ بنا کر لائی تھیں۔ جس کا ایک ایک چمچ رمشا کے لعن طعن سے سجا ہوا تھا۔

“ٹھیک ہوں میں۔۔۔۔۔!”

وہ سامنے بیٹھے خضر کی طرف دیکھ کر مختصراً بولی۔ تو خضر نے فوراً سے اس کی طرف دیکھا۔ وہ نظریں چرا گئی۔ وہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھے کرسی پہ بیٹھا۔ ہر دو تین منٹ بعد اس کی طرف دیکھتا۔

“اگر تم ٹھیک ہو تو رنگ کیوں اس قدر پیلا پڑا ہے۔؟'”

انداز سوالیہ تھا۔ اور سوپ کا چمچ اس کے ل﷽وں کے قریب کرتے وہ فکرمندی سے پوچھ رہی تھی۔

“بس! اور نہیں۔۔۔۔۔۔!”

مرجان نے سوپ پینے سے انکار کر دیا۔

“کیا مطلب۔۔۔۔۔۔؟ “

رمشا نے سرعت سے گھور کر پوچھا۔

“بس ! دل نہیں ہے پینے کا۔۔۔۔۔!”

“رمشا! ادھر یہ باؤل مجھے پکڑائیے میں خود پلا لوں گا۔”

خضر فوراً سے بولا اور کرسی سے اٹھ کر بیڈ پر اس کے قریب آیا۔ رمشا جوابً کچھ بھی بول نہ پائی اور باؤل خضر کے ہاتھ میں دیتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔ مرجان نے رمشا کی جانب دیکھا۔ جو روم سے باہر جانے لگی تھی۔

“جاتے ہوئے ڈور بند کر دیجئیے گا۔”

خضر نے رمشا کو حکمیہ انداز میں کہا تو مرجان نے فوراً سے خضر کی جانب دیکھا۔، جو بنا کسی تاثر کے مرجان کی طرف ہی دیکھ رہا تھا۔

                                            ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

“خیر ہے آج خضر ابھی تک نہیں آیا۔۔۔۔۔۔۔؟”

سارہ نے گھڑی کو دیکھتے ہی سوال کیا۔

“وہ مرجان بھابھی کی طبیعت خراب ہے تو شاید وہ آج نہ آئے۔”

عاشر نے اسے بتایا تو وہ تپ کر رہ گئی۔ اسے تو جیسے آگ ہی لگ گئی۔

“اللہ کرے یہ مرجان مر ہی جائے۔”

وہ غصے کے عالم میں منہ میں بڑبڑائی ۔

“کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

عاشر نے اس کو چپ دیکھا تو اچنبھے سے پوچھا۔

“نہیں میں بس سوچ رہی ہوں کہ آفس سے واپسی پہ خضر کی طرف چلی جاؤں۔ مرجان کی خیریت بھی معلوم ہو جائے گی۔”

اس نے مصنوعی مسکراہٹ لبوں پہ سجائی اور عذر پیش کیا۔

“ٹھیک ہے ! میں بھی چلوں گا۔”

عاشر نے اس کی مسکراہٹ کا بھرپور جائزہ لیا۔

“تم کس لیے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

مختصر سوال کیا گیا۔

“بھابھی کی عیادت ہو جائے گی اور دوسرا خضر سے ملاقات بھی۔”

عاشر نے  فائل میز پر رکھی اور سارہ کے چہرے پہ مسلسل نظریں ٹکائے بولا تو وہ بھی جواب میں صرف مسکرائی۔ اسے اندازہ تھا کہ عاشر مرجان کے ساتھ ہے۔ اور وہ ضرور مرجان کی حفاظت کرتے ہوئے خضر اور مرجان کے راستے کی ہر رکاوٹ کو دور کرے گا ۔اس لیے وہ اپنے ذہن میں کچھ پلاننگ کر رہی تھی۔

                                                   ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

“سر! آپ یہ بیلنس کلئیر نہیں کروا سکتے ۔”

سیکرٹری نے چیک کو دیکھتے ہوئے فائل پہ نظر ڈالی اور اسے انفارم کیا۔

“لیکن کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ چیک تو سائن ہے۔”

ریحان اس کی بات سن کر پریشان ہو گیا تھا۔ اس نے فوراً سے وضاحت کی۔

“جی! مجھے نظر آ رہا ہے کہ چیک سائن ہے لیکن جب تک خضر صاحب اس پیمنٹ کو اپروول نہیں دیں گے ہم آپ کا بیلنس کلئیر نہیں کر سکتے۔”

اس نے فائل پہ نظرِ ثانی کرتے ہوئے تفصیلات سے آگاہ کیا تو ریحان کا پارہ ہائی ہو گیا۔

“کیا مطلب ہے اس بات کا۔۔۔۔۔۔؟”

وہ غصے سے چلایا۔

“دیکھیے سر! آپ اس طرح ہائپر مت ہوں جا کر پہلے اپروول لے کر آئیں پھر بیلنس کلئیر کر دوں گی میں آپ کا۔”

“یہی تو میں پوچھ رہا ہوں کہ پہلے تو ایسا کبھی نہیں ہوا اور اب ایسا کیوں۔۔۔۔۔۔۔؟”

وہ استفہامیہ نظروں سے اس کو گھور رہا تھا۔ سفید شرٹ اس کے اوپر بلیک کوٹ اور بلیک پینٹ پہنے وہ بڑی پرکشش لگ رہی تھی۔ خضر بیگ کی سیکرٹری کی حیثیت سے وہ تمام اکاؤنٹس کو ڈیل کر رہی تھی۔ اور بیگ کمپنی کے رول کے مطابق اب کوئی بھی چیک خضر بیگ کے اپروول کے بغیر کلئیر نہیں کیا جائے گا۔ اور یہ بات ریحان پہ آج کھلی تھی۔ جس میں اس نے اپنی انسلٹ محسوس کی۔

“سر! میں اس میں کچھ نہیں کہہ سکتی یہ آرڈرز ہمیں کمپنی کی جانب سے ملے ہیں اور ہم ان کو فالو کرنے پہ مجبور ہیں۔ لہذا میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ خضر صاحب سے چیک کلئیر کروا کے آئیں ۔ میں آپ کا بیلنس اسی وقت کلئیر کر دوں گی۔”

“شٹ یور ماؤتھ۔۔۔۔۔۔!”

وہ چلایا۔ جس پر ویٹنگ روم میں موجود لوگوں نے اس کی آواز کے تعاقب میں اس کیبن کی طرف دیکھا جہاں ریحان اس سیکرٹری پہ چلا رہا تھا۔

“سر ! پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔!!!”

وہ دھیمے انداز میں بات کرنے کی درخواست کرنے لگی تھی لیکن ریحان نے فوراً سے اس کی بات کاٹ دی اور بولا۔

“میں دیکھ لوں گا خضر کو بھی اور تمہیں بھی۔۔۔۔۔۔۔!!!”

یہ کہتے ہوئے وہ رکا نہیں اور ایک قہر آلود نگاہ اس پہ ڈالتے ہوئے فوراً سے کیبن سے باہر آ گیا۔ اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا آفس ایریا سے باہر نکل گیا۔

                                   ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

“مرجان!”

لہجے میں خمار لیے اس نے اس کا نام پکارا۔ مرجان نے فوراً سے خضر کی طرف دیکھا جو نظریں جھکائے اس کے سامنے بیٹھا تھا۔ چہرے پہ کچھ تاثرات تھے جن سے بالکل بھی وہ انجان نہیں تھی۔ وہ شاید خجل تھا اپنی رات والی حرکت پہ۔

“جی۔۔۔۔۔۔!”

وہ گلے سے بامشکل آواز نکال پائی۔

“سوری! کل رات جو کچھ بھی ہوا مجھے نہیں پتہ تھا۔ میں ایسا کچھ بھی نہیں چاہتا تھا۔ وہ سب غیر اردی طور پر ہو گیا۔ پلیز آپ اس ساب کو بھول جائیے گا۔ اور میرے بارے میں کچھ بھی ایسا امیج نہ بنائیے گا۔ میں ایسا انسان نہیں ہوں ۔ میں گرلز کی ریسپیکٹ کرنے والوں میں سے ہوں۔ جذبوں کو عزت دینے والا رشتوں کی قدر کرنے والا۔۔۔۔۔۔۔!”

اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ کیا بول رہا ہے۔ لیکن اس کے الفاظ میں سچائی تھی۔ مرجان اس کی باتوں میں ، اس کی سچائی میں کہیں کھو سی گئی۔ جبکہ وہ نظریں جھکائے بولتا جا رہا تھا۔ اس وقت وہ کسی معصوم سے بچے کی طرح پاکیزہ اور معصومانہ انداز میں اپنی حقیقت بیان کر رہا تھا۔ مرجان کو اس کی سچائی پہ ذرا برابر بھی شک نہیں تھا۔ لیکن پھر بھی وہ خاموشی کے ساتھ اس کی باتیں سن رہی تھی۔

“میں کبھی بھی آپ کو ہرٹ نہیں کرنا چاہتا تھا اور نہ ہی آپ کو ہرٹ کرنا چاہوں گا۔ لیکن میں کل رات والی اپنی بے خودی میں کی گئی اس حرکت پہ پشیمان ہوں۔ ہو سکے تو مجھے معاف کر دیجئیے گا۔”

وہ ریکویسٹ کرتے ہوئے اس کے ساتھ معذرت کر رہا تھا۔ مرجان کا دل چاہا ابھی اور اسی وقت خضر بیگ کی باہوں کے حصار میں قید ہو جائے اور اس کے ساتھ اپنے دل کی بات کر جائے وہ بات جو کل رات اس کی قربت میں اس پہ عیاں ہوئی تھی۔ اسے جو سکون اور اطمینان کل رات نصیب ہوا تھا وہ تو کہیں بھی نہیں تھا۔ اسے اپنے باپ کی پسند پہ اس ایک لمحے میں فخر ہوا تھا۔ کہ ان کا اس کے حق میں کیا جانے والا فیصلہ صحیح ثابت ہوا تھا۔ لیکن ! لیکن مرجان کے ذہن میں ایک شرارت سوجھی اس کے دل میں ایک صدا بلند ہوئی کہ کیوں نہ خضر بیگ سے اس پہلی رات والا حساب برابر کیا جائے۔ لہذا وہ انتہائی سنجیدہ انداز میں خضر بیگ کے چہرے پہ نظریں جمائے بولی۔ کہ اس کی بات سن کر خضر بیگ حیرت ذدہ رہ گیا۔

“مجھے نیند آئی ہے۔ میں کچھ دیر آرام کرنا چاہتی ہوں۔”

انداز میں کرختگی لیے وہ دل ہی دل میں اس کے دل پہ ستم ڈھاتے ہوئے اس کی صورت کو دیکھتے ہوئے مسکرائی۔ تو خضر بیگ نے اس ایک ہی پل میں اس کی آنکھوں میں جھانکا اور پھر بولا۔

“اور اگر میں آپ کو اس بات کی اجازت نہ دوں تو کیا کر لیں گی آپ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

انداز سوالیہ تھا۔ مرجان مسلسل اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔
“مجھے نہیں لگتا کہ آپ اپنی غلطی کو دابارہ دہرا کر مجھے ہرٹ کریں گے۔”

مرجان کے انداز کی کرختگی اسے ایک بار پھر پشیمان کر گئی۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ موم کی گڑیا کیسے اس طرح کونفیڈنس سے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتی ہے۔
“خضر بیگ کو عادت نہیں ہے غلطیاں دہرانے کی لیکن کچھ غلطیاں اتنی حسین ہوتی ہیں کہ انہیں بار بار دہرانے کو دل کرتا ہے۔ لہذا مس مرجان آپ مجھے رات والی غلطی دہرانے پہ مجبور نہ کریں۔”

خضر نے اس کی کلائی تھامی اور اسے اپنی جانب کھینچا تو وہ یکدم ہی اس کی اس افتاد پہ حیرت زدہ رہ گئی۔ نظروں کا میل ہوا تو اس کا دل زور سے دھڑکا۔

میں اب بھی رات کو اکثر۔۔۔۔۔۔۔!!!

فلک کی کہکشاؤں سے

حسین تاروں کو چن چن کر

تمہارا نام لکھتا ہوں

میں تم سے پیار کرتا ہوں

اے جان جہاں۔۔۔۔۔۔!!!
ہاں !

میں تم سے

فقط تم سے پیار کرتا ہوں

نظروں ہی نظروں میں وہ اس سے دل کی بات کہہ گیا ۔ مرجان اس کی آنکھوں کی تپش کو سہہ نہ پائی اور نظریں جھکا گئی۔

“آپ آرام کیجئیے آپ کو ریسٹ کی ضرورت ہے۔”

سوپ کا باؤل میز پہ رکھے وہ اس کی نازک کلائی کو آزاد کرتے ہوئے اس کے پاس سے اٹھ گیا۔ مرجان کا دل تو مسلسل کانپ رہا تھا۔ خضر بیگ کی نظریں اسے بہت کچھ بول گئی تھیں۔ اور وہ بھی کہاں نظروں کی کہانی سے خود کو انجان کر پائی۔ حرف بہ حرف ہر بات کو سن کر دل کو مسرور کیے وہ چپ چاپ بلینکٹ میں سر دبائے سونے کا ناٹک کیے لیٹ گئی۔ خضر پہلے تو روم سے باہر جانے لگا لیکن جیسے ہی وہ لیٹ گئی وہ بھی وہیں دور پڑی چئیر پہ جا کر بیٹھ گیا۔ اس کا دل آج کسی کام میں نہیں لگ رہا تھا۔

میں سمجھا تھا محبت ہو گئی ہے

خبر کیا تھی قیامت ہو گئی ہے

مجھے بس چاہئیے تیری محبت

جہاں بھر سے عداوت ہو گئی ہے

تمہیں یونہی نہیں میں مانگتا ہوں

مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے

تیری آنکھوں کو چھونا چاہتا ہوں

مجھے رنگوں سے الفت ہو گئی ہے

مرا احساس مجھ سے کہہ رہا ہے

بہت تیری ضرورت ہو گئی ہے

میری حالت سلگتی راکھ جیسی

تیرے غم کی بدولت ہو گئی ہے

نگاہوں میں اتر آتے ہو اکثر

چلو کچھ تو سہولت ہو گئی ہے

تمہیں ہی بس ہمیشہ دیکھنے کی

میری آنکھوں کو عادت ہو گئی ہے

خود اپنے آپ سے ڈرتا ہوں میں

مجھے تیری عادت ہو گئی ہے

مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے

                                     ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

“کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

سارہ نے ہمدردی دکھائی۔

“کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔!”

مختصر جواب دیتے ہوئے وہ سگریٹ سلگا رہا تھا۔

“بتاؤ یار! کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔؟ پہلے تو تم کبھی اتنے غصے میں نہیں آئے۔”

وہ اس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھتے ہوئے ہمدردی جتا کر کریدنے لگی۔

“خضر بیگ سے مجھے یہ امید نہیں تھی۔”

آنکھوں میں نمی لیے وہ اپنے غصے پہ قابو رکھتے ہوئے بولا۔

“واٹ! خضر نے کیا کر دیا ہے۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

وہ تعجب سے بولی۔

“خضر نے کمپنی کی پالیسی چینج کر دی ہے اور ہمیں بتایا تک نہیں۔”

“کون سی پالیسی۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

ریحان کی باتوں کی اسے سمجھ نہیں ا رہی تھی۔ خضر نے اپنے دونوں دوستوں کو کمپنی میں ہر حق دیا تھا۔ عاشر تو اس کی جان تھا۔ ریحان اس کا دوست تھا اور قابل بھی وہ کمپنی میں اس کے ساتھ کام کر رہا تھا ۔ لیکن کچھ فیصلے ابی کے کہنے پر خضر نے لیے تھے۔ ریحان چونکہ ملک سے باہر تھا سو آج اس کو کمپنی کی پالیسی کا پتہ چلا تو وہ قدرے خائف ہوا اور سارہ کو ساتھ لیے لانگ ڈرائیو پہ آیا تو وہ دونوں ایک کافی شاپ پہ رکے سارہ کافی کے مزے لے رہی تھی۔ جبکہ ریحان نے کافی کے کپ کو ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا اور اب تیسرا سگڑیٹ سلگا چکا تھا۔

“میں آج اس کی سیکرٹری کے پاس چیک لے کر گیا میرا کچھ بیلنس کلئیر ہونے والا رہتا تھا تو سوچا بیلنس کلئیر کروا لوں لیکن اس کی پرسنل سیکرٹری نے چیک کو ریجیکٹ کر دیا اور بولنے لگی سر! آپ پہلے اپروول لے کر آئیں پھر آپ کا بیلنس کلئیر ہو گا۔ دل کیا ابھی اور اسی وقت اس کی جان نکال دوں لیکن !”

وہ غصے سے اس کو ساری بات بتا رہا تھا۔ سارہ کو اس کے انداز سے صاف پتہ چل رہا تھا کہ ریحان کو اس سب میں کتنی انسلٹ فیل ہوئی ہے۔ اس کے دماغ نے آگ کا سگنل کلئیر کیا اسے وہ انسان مل گیا تھا جو خضر بیگ کی دنیا میں تباہی مچا سکتا تھا ۔ لہذا وہ دل ہی دل میں مسکرائی اور ہمدردی کا ناٹک کرنے لگی۔

“اوہ! ریحان! اٹس سو انسلٹنگ۔۔۔۔۔!”

اس کے ہاتھ کو تھامے وہ بولی۔

“خضر کو ایسا تو نہیں کرنا چاہئیے تھا۔ اب دیکھو ہم سب بچپن کے دوست ہیں اور اس کمپنی میں خضر سے زیادہ بلکہ عاشر اور مجھ سے بھی کہیں زیادہ محنت تم کرتے ہو۔ بلکہ ایسے کہنا چاہئیے اس کمپنی کو کامیاب بنانے میں ریحان الیاس کا ہاتھ ہے اور آج اس دو کوڑی کی لڑکی کے سامنے تمہاری عزت خاک میں مل گئی۔ ایٹلیسٹ خضر بیگ کو ہم سب کو انفارم کرنا چاہئیے تھا اگر اس نے اکاؤنٹس میں کچھ بھی چینجنگ کی تھی۔”

وہ اس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھے اس کی دوستی پہ دشمنی کی مہر لگاتے اس کے اندر کی آگ کو حسد کے تیل سے مزید بھڑکا رہی تھی۔ ریحان تو  پہلے ہی اس کی اداؤں کا دیوانہ تھا۔ آج اس کی ہمدردی اسے اچھی بھی لگ رہی تھی۔

“میں اس بات کو ایسے نہیں چھوڑوں گا۔ میں خضر بیگ سے اپنی اس بے عزتی کا بدلہ لے کر رہوں گا۔”

وہ اٹل انداز میں فیصلہ کر چکا تھا۔

“ریحان ! لیکن ہم دوست ہیں۔”

وہ معصومانہ انداز میں بولی۔

“میں ایسی دوستی پہ تھوکتا ہوں جس میں ہر کریڈٹ خضر بیگ کو ملتا ہے اور ساری محنت میری ہوتی ہے۔ میں اب اس شخص کو برباد کر دوں گا۔ یہ کمپنی میری دن رات کی محنت کی وجہ سے اس مقام پہ ہے میں اتنی آسانی سے خضر بیگ کو اس کمپنی پہ راج نہیں کرنے دوں گا میں اس کو تباہ کر دوں گا۔”

آنکھوں میں جلن کی سرخی مزید گہری ہو گئی۔ سارہ نے موقع پہ چوکا لگانا مناسب سمجھا اور فوراً سے بولی۔

“میرے پاس ایک آئیڈیا ہے۔”

انداز معصومانہ تھا اور سوچ انتہائی گھٹیا۔

“کیا آئیڈیا۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

انداز سوالیہ تھا۔ ریحان سارہ کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔ جہاں بہت سے جال تھے۔ جو خضر بیگ کو برباد کرنے کے لیے تیار تھے۔ پھر وہ اسے اپنے غلیظ ارادوں سے آگاہ کرتے ہوئے اس کے بدلتے تاثرات سے محظوظ ہو رہی تھی۔

                                                 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

“بابا! آپ آ گئے واپس۔۔۔۔۔۔! آپ ٹھیک تو ہیں۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

رمشا فوراً بسے باپ کے گلے لگی اور ان کے چہرے پہ نظریں ٹکائے بولی۔

“ہاں آج صبح ہی واپس آیا ہوں اور اب تمہیں لینے آیا ہوں ۔ چلو آج گھر چلتے ہیں۔ بہت دن ہو گئے تمہیں ادھر رہتے ہوئے۔”

علی اعظم نے مسکرا کر کہا تو ثمن بیگم جھٹ سے بولیں۔

“بھائی صاحب ! پہلے کوئی چائے پانی تو پی لیں پھر اس کے بعد اپنی اس گڑیا کو لے جائیے گا۔”

“وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن میری گڑیا کدھر ہے میری مرجان۔۔۔۔۔۔؟”

اسے نا پا کر انہوں نے اچنبھے سے پوچھا تو ثمن بیگم نے نظریں جھکا لیں ۔

“وہ۔۔۔۔۔! بھائی صاحب ! مرجان کو بخار ہے تو وہ اپنے روم میں آرام کر رہی ہے۔”

وہ خجل انداز میں بول رہی تھیں۔ جسے دل و جان سے سنبھال کر رکھنے کا وعدہ کیا تھا اس کی حفاظت نہ کر پانے پہ وہ خجل ہو رہی تھیں۔

“اوہ! اچھا! اب کیسی طبیعت ہے۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

وہ فکر مند ہو گئے تھے۔

“بابا! مرجان اب بالکل ٹھیک ہے۔ آپ پریشان نہ ہوں۔”

رمشا نے مسکرا کر کہا تو علی اعظم کو بھی تسلی ہو گئی۔

“اوہ! میں تو بھول ہی گیا تھا ان کا تعارف کروانا یہ مرجان کے کزن ہیں وجاہت۔۔۔۔۔!”

ثمن بیگم جو بار بار اس کی طرف دیکھ رہی تھیں۔ افتخار صاحب نے اسے محسوس کیا تو تھوڑے خجل ہوتے ہوئے بولے اور وجاہت کا تعارف کروایا۔

“بیٹھو بیٹھو بیٹا۔۔۔۔۔!”

انہوں نے خوشدلی سے اسے بیٹھنے کا بولا تو وہ ادھر ادھر نظریں گھمانے لگا۔ بیگ ہاؤس کی شان و شوکت اسے اس بات کا یقین دلا رہی تھی کہ مرجان کی شادی کسی معمولی خاندان میں نہیں ہوئی۔

“میں آپ سب کے لیے کچھ کھانے کے لیے لاتی ہوں۔”

“نہیں آنٹی ان سب تکلفات کی ضرورت نہیں ہے میں مرجان سے ملنے کے لیے آیا ہوں اگر آپ کی اجازت ہو تو کیا میں کچھ دیر اکلیے میں اس سے بات کر سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔؟”

وہ محتاط انداز میں اپنے آنے کا مقصد بیان کر گیا۔ ثمن بیگم تو اس کی بات سن کر چپ کی چپ ہی رہ گئیں۔ پھر انہوں نے افتخار صاحب کی طرف دیکھا وہ بھی سر جھکائے بیٹھے تھے۔ وہ ایک سمجھدار خاتوں تھیں۔ سمجھ گئی تھیں کہ وہ مرجان کے گاؤں سے آیا ہے اور اس بات کی تسلی کرنا چاہتا ہے کہ وہ یہاں خوش ہے بھی یا نہیں۔ اسی سوچ نے اسے مرجان سے ملنے کی اجازت دی ۔ انہوں نے رمشا کو اشارہ کیا ۔

“رمشا! آپ بیٹا جاؤ دیکھو اگر مرجان جاگ رہی ہے تو وجاہت کو ان کے روم میں چھوڑ آئیے گا۔”

وہ مسکراتے ہوئے بولیں تو رمشا حیرت ذدہ رہ گئی۔ لیکن پھر علی اعظم کے اشارے پہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ اور سیڑھیوں کی طرف لپکی۔ مرجان کے روم میں گئی وہ ابھی ابھی واشروم سے باہر آئی تھی خضر روم میں نہیں تھا رمشا نے اسے وجاہت کی آمد سے آگاہ کیا تو وہ حیران رہ گئی۔ پھر ثمن آنٹی کی اجازت پہ وہ وجاہت کو لیے اس کے روم میں آ گئی۔

“ہائے! “

وہ ایک پڑھا لکھا باشعور انسان تھا۔ کالج تک دونوں نے ایک ساتھ سٹڈی کی تھی۔ لیکن پھر خاندان کے جھگڑوں کی وجہ سے مرجان شہر میں آ گئی ۔ لیکن اس کے دل میں محبت کا بیج اب تناآور درخت بن گیا تھا۔ اور اسی محبت کی تڑپ اسے یہاں مرجان کے پیچھے اس کے سسرال لے آئی۔

“ہائے۔۔۔۔۔۔!”

وہ مسکرا کر بولی اور ااسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔

“کیسے ہیں آپ اور گاؤں میں سب کیسے ہیں۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

وہ تجسس آمیز نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ وہ حیران تھی کہ وہ کیسے اس کے سسرال آ گیا تھا۔ جبکہ احمد درانی کے کرخت الفاظ آج بھی اس کے کانوں میں کرواہٹ بھر دیتے تھے۔

“میں بھی ٹھیک ہوں اور گاؤں میں بھی سب لوگ ٹھیک ہیں۔ بس سب تمہیں بہت یاد کرتے ہیں۔ تم سناؤ کیسی ہو۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

وہ محبت سے لبریز لہجے میں اس سے سوال کر رہا تھا۔ وجاہت کا انداز اسے حیرت میں مبتلا کر گیا۔

“جی میں بھی ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔۔!”

وہ مختصر جواب دے پائی وہ بیڈ کراؤن کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔ جبکہ وہ بیڈ کے قریب رکھی کرسی پہ بیٹھا اسی کی جانب دیکھ رہا تھا۔

“مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔”

وہ نے چین انداز میں ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بولا۔ مرجان کو اس کے انداز پہ تشویش ہوئی۔ کہ وہ کیوں ادھر ادھر دیکھ رہا تھا۔

“جی بولیے۔۔۔۔۔۔۔! میں سن رہی ہوں۔”

وہ متوجہ ہوئی اور سیدھی کمر کرتے ہوئے بلینکٹ کو تھوڑا اوپر کیا ۔ وجاہت کا یوں اچانک چلے آنا اور پھر اکیلے میں اس سے بات کرنا اسے تشویش میں مبتلا کر گیا۔

                                                         ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

“یہ فریش جوس بھی پیک کر دو۔۔۔۔۔۔!”

خضر جو مارکیٹ میں مرجان کے لیے کچھ کھانے کے لیے لینے آیا تھا۔ اس نے ایک بڑے مال میں قدم رکھا اور کچھ ضروری چیزیں پیک کروائیں۔

“اور یہ چاکلیٹس بھی۔۔۔۔۔۔!”

اس نے چاکلیٹس کا ایک پیک اٹھایا اور وہ بھی کاؤنٹر پہ رکھا ۔ شاپ کیپر ہر چیز کو ایک سائیڈپہ رکھ رہا تھا۔ پھر اس نے بل خضر کو دیا خضر نے پیمنٹ کی اور چیزوں کا پیکٹ اٹھایا اور مال سے باہر آ گیا۔ پارکنگ میں کھڑی اپنی گاڑی کے پاس آیا اور فرنٹ ڈور کھول کر گاڑی میں بیٹھنے ہی لگا تھا کہ اس کے موبائل کی رنگ بیل بجنے لگی۔ اس نے جیب میں سے موبائل نکالا تو رمشا کالنگ جگمگا رہا تھا۔ اس نے سامان والا شاپر گاڑی کی بیک میں رکھا اور کال ریسیو کر کے کان کے ساتھ لگایا۔

“ہیلو۔۔۔۔۔۔! خضر بھائی آپ کہاں ہیں۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

رمشا نے فوراً سےپوچھا۔ 

“میں مارکیٹ آیا تھا کچھ چیزیں لینے کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔! لیکن اب گھر ہی آ رہا ہوں۔”

اس نے جلدی سے جواب دیا۔ اور اس سے پہلے کہ رمشا کچھ بولتی خضر نے فوراً سے سوال کر دیا۔

“مرجان تو ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔؟ “

لہجے میں فکرمندی نمایاں تھی۔ رمشا زیرِ لب مسکرائی۔

“ان کی طبیعت تو ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

وہ سرعت سے بولا۔ وہ اچانک سے رمشا کی کال آنے پہ پریشان ہو گیا تھا۔

“جی! مرجان بالکل ٹھیک ہے۔ وہ دراصل آپ گھر پہ نہیں تھے۔ تو ثمن آنٹی فکر مند ہو گئی تھیں۔ میرے ابو آئے ہیں اور وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ “

وہ جلدی جلدی میں مسکراتے ہوئے اسے تفصیل بتا گئی تو وہ بھی دھیمے سے مسکرایا۔ اور پھر بولا۔

“اوہ اچھا! چلیں ٹھیک ہے میں ابھی دس منٹ تک آتا ہوں۔”

“اوکے۔۔۔۔۔۔! جلدی آئیے گا سب آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔”

وہ بولتے بولتے اسے جلدی آنے کی تاکید کر گئی تو وہ جواب میں صرف مسکرایا اور کال ڈس کنیکٹ کر دی۔

“علی انکل مجھ سے کیوں ملنا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

گاڑی میں بیٹھتے ہی اس کے ذہن میں سوال اٹھا۔ پھر کوئی جواب نا پا کر اس نے غاڑی سٹارٹ کی اور یہ جا وہ جا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

                                           

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

میری زندگی میں بس اک کتاب ہے اک چراغ ہے

اک خواب ہے اور تم ہو

یہ کتاب و خواب کے درمیان جومنزلیں ہیں

میں چاہتا ہوں تمہارے ساتھ بسر کروں

یہی کل اثاثۂ زندگی ہے

اسی کو زادِ سفر کروں

کسی اور سمت نظر کروں

تو میری دعا میں اثر نہ ہو

میرے دل کے جادۂ خوش خبریہ

بجز تمہارے کبھی کسی کا گزر نہ ہو

مگر اس طرح کہ

تمہیں بھی اس کی خبر نہ ہو

اسی احتیاط میں ساری عمر گزر گئی

وہ جو آرزو تھی کتاب و خواب کے ساتھ تم بھی شریک ہو

وہی مر گئی

اسی کشمکش نے کئی سوال اٹھائے ہیں

وہ سوال جن کا جواب

میری کتاب میں ہے نہ خواب میں

میرے دل کے جادۂ خوش خبر کے رفیق

تم ہی بتاؤ پھر یہ کاروبار کس حساب میں

میری زندگی میں بس ایک کتاب ہے

اک چراغ ہے

اک خواب ہے اور تم ہو

بس۔۔۔۔۔۔۔!

اک خواب ہے اور تم ہو

“تم میری ہو اور تم پہ بس میرا حق ہے۔۔۔۔۔۔!”

وہ فرطِ جذبات میں سختی سے اس کا موم ہاتھ تھامے بولا۔ تو وہ آنکھیں پھاڑے ایک ٹک صرف اسی کی جانب دیکھتی رہ گئی اور جواب میں کچھ بھی کہہ نا پائی۔

“ہم نے ایک ساتھ بچپن گزارا ہے ایک ساتھ ہر چیز شئیر کی ہے۔ تو پھر زندگی کیوں نہیں۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

وہ استفہامیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ جبکہ وہ چپ سادھے بس اسی کی طرف دیکھے جا رہی تھی۔

“لیکن! میری اب شادی ہو چکی ہے۔۔۔۔۔!”

وہ معصوم چٹان اب بولی اور معصومانہ انداز میں اپنا موم جیسا نازک ہاتھ اس کی آہنی گرفت سے آزاد کروانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی۔

“تو اس میں کون سی بڑی بات ہے۔۔۔۔۔؟”

اس نے چڑ کر کہا۔ مرجان اس کے انداز پہ دم بخود رہ گئی۔

“شادی ٹوٹ بھی تو سکتی ہے۔”

انداز میں کڑواہٹ لیے وہ اٹل انداز میں بولا ۔ جبکہ وہ تو اس کی بات سن کر دنگ ہی رہ گئی۔

“نہیں ! نہیں ! میں ایسا کچھ بھی نہیں چاہتی۔۔۔۔!”

وہ رندھے لہجے میں موتی آنکھوں میں بھرتے ہوئے بولی۔ تو وہ اس کے ہاتھ پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے اس کے قریب ہوا اور مخمور انداز میں گویا ہوا۔

“تم کیا چاہتی ہو۔۔۔۔۔۔۔؟ یہ اہم نہیں ہے میں بس تمہیں چاہتا ہوں اور تمہیں حاصل کیے بغیر یہاں سے نہیں جاؤں گا۔”

اسب کے لہجے کی مضبوطی مرجان کو خوفزدہ کر گئی مرجان کے ہاتھ پہ اس کی گرفت مضبوط تھی۔

“میرا ہاتھ چھوڑو ! مجھے درد ہو رہا ہے۔”

اب کے موتی ٹوٹ کر اس کے رخسار بھگو گیا۔

“یہ درد تو کچھ بھی نہیں ہے اس سے کہیں زیادہ درد میرے دل میں بھرا ہے۔”

وہ خود غرضانہ انداز اپنائے اپنی ذات کو اہمیت دے رہا تھا۔ مرجان کی کلائی پہ اس کی انگلیوں کی گرفت مضبوط تھی۔ وہ کیا کہہ رہا ہے کیا نہیں مرجان اس سب سے بے بہرہ اپنا ہاتھ آزاد کروانے کی کوشش میں تھی۔ وجاہت کی آنکھوں میں محبت کا ایسا خمار تھا کہ مرجان اس کی نگاہوں میں جھانک کر خوفزدہ ہو گئی۔ اسے بس یہی ڈر تھا کہ کہیں اس وقت خضر روممیں آ گیا تو نجانے کون سا طوفان برپا ہو جائے گا۔ آسج پہلی بار اپنی عزت اپنے وقار سے بڑھ کر جس خیال نے اسے پریشان کیا تھا وہ خضر کو کھو دینے کا خوف تھا۔ اور اسی خوف نے اس کی آنکھوں میں نجانے کئی موتی بھر دیے۔ وجاہت نے اس کی آنکھوں میں موتیوں کی مالا دیکھی تو فوراً سے اس کی کلائی پہ اپنی گرفت نرم کر دی۔

                                ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

“اوہ آئی سی۔۔۔۔۔۔۔۔۔!”

وہ شیطانی م سکراہٹ سجائے دل ہی دل میں خوش ہوئی۔

“یہاں تو بچھڑی محبت کو لینے کے لیے وجاہت صاحب پہلے سے موجود ہیں۔”

وہ زیرِ لب مسکرائی۔

“واہ! مرجان۔۔۔۔۔۔۔! تمہیں تو داد دینی پڑے گی۔”

فاتحانہ مسکراہٹ ہونٹوں پہ سجائے وہ اپنے ذہن میں اٹھنے والے سوالوں کے جواب خود ہی دے رہی تھی۔ وہ جو مرجان کی عیادت کے لیے آئی تھی۔ عاشر کی نظروں میں اپنا امیج بہتر کرنے کے لیے کہ اسے خضر اور مرجان کی بہت پروا ہے۔ لیکن جیسے ہی وہ یہاں پہنچی تو ثمن بیگم کو کچھ مہمانوں کے ساتھ مصروف دیکھ کر فوراً سے خضر کے روم کی طرف لپکی تاکہ مرجان پہ اپنی محبت عیاں کر سکے لیکن جیسے ہی وہ روم ڈور کے قریب پہنچی تو اندر سے آنے والی آوازوں نے اسے مسرور کر دیا۔

“بعض اوقات قسمت ہم پہ اس قدر مہربان ہوتی ہے کہ آپ جو چاہتے ہو وہ خودبخود ہی ہو جاتا ہے۔ آپ کے راستے کے سارے کانٹے خودبخود ہی پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ “

وہ گہری سوچ میں ڈوبی تھی۔ اس کے چہرے پہ اک تبسم تھا۔

“مس مرجان! تم تو اپنی واپسی کا سامان خود اپنے ساتھ لائی ہو۔ مجھے تو تمہیں اس گھر سے نکالنے کے لیے کوئی پلاننگ اور پلاٹنگ کرنی ہی نہیں پڑے گی۔ مسٹر وجاہت خود تمہیں یہاں سے ذلیل و رسوا کر کے اپنے ساتھ لے کر جائے گا۔ اور بیچارا خضر وہ تو بس اس تماشے میں ایک سائیڈ پہ کھڑا اپنی ہی محبت کو برباد ہوتا دیکھے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

وہ سوچوں کے انبار میں پرمسرت انداز میں اپنے شیطانی دماغ کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے کئی جال بُن رہی تھی۔

“ہا ہا ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!”

اس نے ایک بھرپور مگر خاموش قہقہہ لگایا۔ ایسا قہقہہ جس کی گونج صرف اس کے دل میں اٹھی تھی۔

                                        ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Hina Shahid

I am an Urdu novel writer, passionate about it, and writing novels for several years, and have written a lot of good novels. short story book Rushkey Hina and most romantic and popular novel Khumarey Jann. Mera naseb ho tum romantic novel and lot of short stories write this

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button