رومینٹک ناول
Trending

Khumarey Jaan by HINA SHAHID episode 14

Khumarey Jaan episode 14

Story Highlights
  • کبھی عشق ہو تو پتہ چلے کبھی عشق ہو تو پتہ چلے وہ نم آنکھیں وا کیے اسی کے وجود کے حصار میں خود کو قید کرتا نامعلوم کن کن رستوں سے گزرتا عجیب تکلیف اور درد محسوس کر رہا تھا۔ جبکہ وہ دشمنِ جاں کسی معصوم گڑیا کی مانند اس کے سامنے نیند کی وادیوں میں قدم رکھ چکی تھی۔ وہ بار بار اٹھ کر بیٹھ جاتا اور اس کی طرف تشنہ نظروں سے دیکھتا اپنے دل کی بے چینی کو راحت دلانے کی کوشش کرتا اب بے بس ہوتے ہوئے آنکھیں پلکوں کی ڈور سے باندھتا ہوا سونے کی کوشش کرنے لگا۔

 

خمارِ جاں از حناء شاہد قسط نمبر 14

“خضر! خضر! کہاں ہو تم یار۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

عاشر جلدی میں اس کے بیڈروم کا دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا اور اسے روم میں نہ پا کر بولا۔

“ادھر ہوں آتا ہوں ابھی باہر۔۔۔۔۔۔۔۔۔!”

خضراس کی آواز سن کر فوراً سے بولا اور پھر تولیے کے ساتھ بال خشک کرتے باہر آیا۔

“خضر یار ! ادھر آ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!”

وہ سرعت سے بولا اس کے چہرے پہ عجیب تاثرات تھے۔

“خیر ہے کیا ہو گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

خضر نے ٹاول بیڈ پر رکھا اور ڈریسنگ کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے ہئیر ڈرائیر یوز کرتے ہوئے آئینے میں سے اس کی بے چینی نوٹ کر رہا تھا۔ عاشر کبھی ادھر اور کبھی ادھر چکر کاٹ کر ایکدم رک سا گیا۔

“خضر! یار ! تجھے مال میں وہ لڑکی یاد ہے۔۔۔۔۔۔۔؟”

عاشر تذبذب کا شکار تھا اس کے پیٹ میں کوئی بات ٹک جائے تو بڑی بات ہو گی۔ رمشا کے سامنے آتے ہی اسے وہ لڑکی بھی یاد آ گئی جس کی طرف خضر مسلسل دیکھ رہا تھا۔ زندگی میں پہلی بار خضر کو کسی کی طرف ایسے دیکھتے ہوئے اسے شک ہوا تھا اور آج رمشا کے اس کے سامنے آتے ہی اس کے دماغ کی بتی گُل ہوئی اور فوراً سے اسے اس خیال نے گھیرا کہ کہیں مرجان وہی لڑکی تو نہیں جسے خضر مال میں دیکھ رہا تھا اور کہیں وہی لڑکی اس کی بھابھی تو نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟ انہی سوالوں نے اسے بے چین کر دیا تھا اور وہ خضر کے ساتھ بات کرنے اس کے روم میں آ گیا تھا تاکہ خضر کے ساتھ ساتھ اپنا راستہ بھی ہموار کر سکے۔

“کون سی لڑکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

خضر نے ڈرائیر سائیڈ پہ رکھا اور حیرت سے پوچھا۔

“وہی چڑیل جس کے ساتھ کھڑی حسینہ کو آپ مسلسل دیکھ رہے تھے۔”

عاشر سرعت میں بولا تو خضر کے ہاتھ سے برش چھوٹ گیا بلوری آنکھوں کے خیال نے اس کا دل زور سے دھڑکایا اور وہ خود سے بے خود ہوتے فوراً سے عاشر کی طرف رخ موڑ کر سنجیدہ انداز میں اس کی طرف دیکھنے لگا۔

“تمہیں وہ لڑکی کہاں مل گئی دوبارہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟”

خضر نے متجسس انداز میں پوچھا۔ تو عاشر اس کے قریب آیا۔

“تمہارے گھر میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!”

مختصر جواب نے خضر کو بے چین کر دیا مگر وہ اپنے حواسوں پہ قابو رکھنے والا عاشر سے اپنے جذبات چھپانے کی بھرپور کوشش کر رہا تھا۔

“کیا مطلب۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

اب کہ اس نے بے پروائی کی ایکٹنگ کی۔

“مرجان بھابھی کی سہیلی ہے وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! وہی خونخوار چڑیل۔۔۔۔۔۔۔۔۔! جو اس دن میرا خون پینے لگی تھی اور اس حسینہ نے معافی کی بھیک مانگ کر تمہارا سکھ چین چھین لیا اور بدلے میں اپنی سہیلی سے میری جان چھڑوا لی۔”

وہ ڈرامائی انداز میں خضر کو بے چین کرتے ہوئے الفاظ دبا دبا کر ادا کر رہا تھا۔ ایک لمحے کو خضر کا دل چاہا کہ عاشر جو بول رہا ہے وہ سب سچ ہو لیکن دوسرے ہی لمحے خضر کی عقل اس پہ حاوی ہو گئی اور وہ دوبارہ سے بال جیل کے ساتھ سیٹ کرتے ہوئے رخ موڑ گیا اور سنجیدگی کے ساتھ عاشر کی بات کی نفی کرنے لگا۔

“لیکن ! یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ رمشا کے ساتھ اس وقت جو لڑکی تھی وہ کوئی اور سہیلی ہو اس کی وہ مرجان نہ ہو۔”

وہ نظریں چراتے ہوئے اپنے دل کی دھڑکن کو مزید بڑھا گیا۔

“اور اگر مرجان بھابھی ہی وہ لڑکی ہوئیں جنہیں تم اس دن مسلسل گھور رہے تھے تو۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

عاشر کا انداز سوالیہ تھا۔ خضر نے ایک ہی پل میں رخ موڑا اور عاشر کی طرف دیکھا جو اس کے جواب کا منتظر تھا۔

“تو! کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

وہ اپنے جذبات کو چھپاتے ہوئے بے فکری سے بولا۔

“خضر ! ادھر میری طرف دیکھ کر بتا یار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!”

عاشر کو پتہ نہیں کون سی چیز ستا رہی تھی جو وہ اتنے سنجیدہ انداز میں خضر سے سوال کر رہا تھا۔

“کیا بتاؤں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

وہ بھنویں چڑھا کر بولا۔

“یہی کہ تجھے اس لڑکی یعنی میری بھابھی مرجان سے محبت ہے۔”

“نہیں !”

وہ فوراً سے جواب دے گیا۔

“یہی حقیقت ہے۔ “

عاشر کا انداز سنجیدہ تھا۔

“ہاں ! لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!”

خضر سے اب مزید صبر نہیں ہو رہا تھا اس کے منہ سے بلا ساختہ اقرارِ محبت نکلا تو عاشر نے فوراً سے اسے گلے سے لگا لیا اور خوش ہونے لگا لیکن خضر کی ادھوری بات نے اسے پریشان کیا تو وہ جھنجھلا کر بولا۔

“اب یہ لیکن کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

عاشر کا انداز اکتاہٹ سے لبریز تھا۔

“ہمیں یہ کیسے پتہ چلے گا کہ مرجان ہی وہ لڑکی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

وہ مایوسی کے ساتھ عاشر سے پوچھ رہا تھا۔ اتنے میں ڈور اوپن ہوا اور شمائلہ کمرے میں داخل ہوئی۔ عاشر اور خضر دونوں نے ایک ساتھ اس کی طرف دیکھا ۔

“وہ خضر صاحب! آپ کو بی بی جی بلا رہی ہیں سارہ بی بی اور ملیحہ بیگم بھی آ گئی ہیں۔”

اس نے انہیں مہمانوں کی آمد کا بتایا تو عاشر فوراً سے بولا۔

“اچھا ! تم جاؤ میں خضر کو لے کر آتا ہوں۔”

یہ سنتے ہی شمائلہ اثبات میں سر ہلاتی وہاں سے چلی گئی خضر نے عاشر کی طرف دیکھا۔

“میں ہوں نا چوبیس گھنٹوں کا وقت دے ساری حقیقت معلوم کر کے تجھے بتا دوں گا۔”

عاشر کا مثبت انداز اس کے دل کے دریچے میں کئی دیپ جلا گیا۔ وہ اپنے دل کی کئی دھڑکنیں مختلف سروں کی روانی کے ساتھ سن رہا تھا۔ پھر وہ اپنے بال سیٹ کرتے ہوئے عاشر کے ساتھ روم سے باہر آ گیا۔

                                          ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

“اور سنائیں آنٹی آپ کیسی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟”

سارہ نے مسکراتے ہوئے ثمن سے پوچھا تو وہ بھی دھیرے سے مسکرا دیں۔

“اللہ کا شکر ہے۔”

“وہ ہماری دلہن کدھر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟اسے تو بلائیں۔۔۔۔۔۔!”

ابی نے فوراً سے کہا تو اس سے پہلے کہ ثمن کوئی جواب دیتیں ملیحہ فوراً سے بولیں۔

“ہاں ! ہاں ! جس سے ملنے ہم آئے ہیں انہیں تو آپ نے کہیں چھپا رکھا ہے ابھی تک تو آ جانا چاہئیے تھا ان کو۔”

ملیحہ کے انداز میں قدرے کڑواہٹ تھی۔ خضر اپنی ہی کسی سوچ میں گُم تھا۔ عاشر دل ہی دل میں سوچوں کے کئی جال بُن رہا تھا۔ اسے پتہ تھا رمشا بہت پٹاخا ٹائپ لڑکی ہے اتنا آسان نہیں ہو گا اس سے سچ اگلوانا۔ لیکن یہ سب کیسے ہو گا۔۔۔۔۔۔۔؟ وہ انہی سوچوں میں گھرا تھا جب ثمن بیگم کے اشارے پہ شمائلہ نے فوراً عمل کیا اور رمشا کے پہلو میں دھیمے قدموں کے ساتھ چلتے ہوئے مرجان گیسٹ روم سے باہر آئی۔ وہ سب ٹی۔ وی لاؤنج میں بیٹھے تھے۔

“لو آ گئی میری جان ! مرجان!”

ثمن بیگم کی آواز پہ سارہ نے فوراً سے اس کی طرف دیکھا ۔ وہ بے انتہاء خوبصورت لگ رہی تھی ۔ لائٹ پنک اور وائٹ کنٹراسٹ اس پہ بے حد جچ رہا تھا۔ ہائی ہیل پہنے وہ اب گڑیا نہیں لگ رہی تھی۔ لیکن کسی حور سے کم بھی نہیں تھی وہ۔ عاشر نے فوراً سے خضر کو کہنی ماری وہ اس کے بالکل قریب صوفے پر بیٹھا تھا۔ عاشر کی کہنی اسے خیالوں کی دنیا سے باہر لے آئی ۔ اس نے پہلے عاشر کی طرف دیکھا اور پھر اس کی نظروں کے اشارے پہ اس طرف دیکھا جہاں سے مرجان چلتے ہوئے آ رہی تھی۔

“ماشاءاللہ۔۔۔۔۔! ماشاءاللہ۔۔۔۔۔۔۔!”

ثمن بیگم کے منہ سے بے ساختہ کلمات ادا ہوئے سارہ کی نظروں میں بے حد حسد تھا۔ ملیحہ کی تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔

پھر ثمن نے سب کے ساتھ اس کا تعارف کروایا۔ وہ وہیں ابی کے بغل میں بیٹھ گئی۔ سارہ نے سر سے پاؤں تک اس کا جائزہ لیا۔

“ٹیپیکل گھریلو عورت ۔۔۔۔۔۔۔۔! سو کولڈ پینڈو ۔۔۔۔۔۔۔۔!”

وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑائی۔

“تو آپ گاؤں کی رہنے والی ہیں۔”

ملیحہ نے عجیب انداز میں سوال کیا تو اس سے پہلے کہ مرجان جواب دیتی۔ ابی سرعت سے بولے۔

“اس کے خاندان والے سب گاؤں میں رہتے ہیں۔ لیکن مرجان ایم۔بی۔اے کر چکی ہیں۔”

ابی کی بات پہ خضر تو مرجان کی طرف دیکھتا ہی رہ گیا۔ وہ چھوٹی سی کانچ جیسی نازک گڑیا ایف۔اے پاس بھی نہیں لگتی اور یہ کیا وہ ایم۔بی۔اے کر چکی ہے۔ عاشر تو بس چپ چاپ خاموش بیٹھا رمشا کو دیکھ رہا تھا۔

“تو بھابھی آپ نے ایم۔بی۔اے کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

عاشر کے سوال پہ سب نے اس کی طرف دیکھا تو مرجان نے اس کی طرف دیکھا بغل میں بیٹھا سنگدل کسی سلطنت کا شہزادہ لگ رہا تھا۔ سفید قمیض شلوار میں ملبوس بالکل سادہ جیل کے ساتھ بال سیٹ کیے وہ بالکل اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ مرجان نے فوراً سے نظریں پھیر لیں اور بولی۔

“جی ! میں نے ایم۔بی۔اے کیا ہے”

رمشا نے گھور کر عاشر کی طرف دیکھا۔

“اس بندر کو بھی کوئی ڈھنگ کا سوال نہیں ملا۔”

وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑائی۔ اور تلخ انداز میں اس کی ہی طرف دیکھ رہی تھی۔

“اچھا ! یہ سب سوال تو چلتے ہی رہیں گے اب ڈنر کر لیتے ہیں۔”

ابی نے کھانے کا پوچھا تو ثمن بیگم بھی فوراً سے بولیں۔ سارہ نے خضر کی طرف دیکھا جو مسلسل مرجان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اور مرجان وہ ثمن اور ملیحہ کی باتوں پہ دھیمے سے مسکراتے ہوئے ان کی ہر بات کا اچھے سے جواب دے رہی تھی۔

“جی جی بالکل۔۔۔۔۔۔۔!”

ثمن کی بات پہ ملیحہ فوراً سے بولیں پھر سب ڈائننگ روم میں آ گئے جہاں خوش ذائقہ کھانوں کی مہک نے خوشبو پھیلا رکھی تھی۔ خضر ابی کے قریب پڑی کرسی پہ بیٹھا تو سارہ اس کے برابر رکھی کرسی پہ بیٹھنے لگی۔ رمشا نے تو سارہ کی اس حرکت کو فوراً نوٹ کیا ۔ مرجان دیکھتی ہی رہ گئی اور تیسرے نمبر پہ رکھی کرسی پہ بیٹھنے ہی لگی تھی کہ ابی فوراً سے بولے۔

“سارہ! خضر کے برابر بیٹھنے کا حق اب مرجان کا ہے ۔”

ابی کی بات اسے اس قدر چبھی کہ اس کا دل چاہا مرجان کا ابھی قتل کر دے لیکن ملیحہ کے اشارے پہ وہ غصہ پی گئی اور خضر کے برابر رکھی کرسی خالی کرتے ہوئے ملیحہ کے برابر جا کر بیٹھ گئی۔ پھر ابی کے اشارے پہ سب نے کھانا شروع کیا۔

“مرجان ! خضر کو کھانا سرو کرو بیٹا۔۔۔۔۔۔۔!”

ثمن بیگم کی آواز پہ وہ چونک گئی ۔ درحقیقت وہ خضر کو کھانا سرو کرنے والی بات پہ چونکی تھی۔ رمشا تو بس سارہ کے چہرے کی طرف ہی دیکھ رہی تھی۔ اسے اس کے چہررے پہ چھائی نفرت واضح نظر آ رہی تھی۔ مرجان نے چائینیز رائس کی ٹرے اٹھائی اور خضر کی پلیٹ میں چاول سرو کیے اس کے ہاتھ مسلسل کانپ رہے تھے۔ خضر نے اس کے دودھیہ مائل ہاتھوں کی طرف دیکھا ہلکے سے بڑھے ہوئے ناخن بنا کسی سجاوٹ سے لبریز نازک انگلیاں خضر کی آنکھوں کو خوب بھائیں۔ وہ اس کے کانپتے ہاتھوں سے اس کی حالت کا اندازہ بخوبی لگا رہا تھا۔ پھر اس نے اس کی حالت سے محظوظ ہوتے ہوئے کبھی کباب کبھی رائتہ کبھی سیلڈ اور کبھی کچھ تو کبھی کچھ سرو کرنے پہ اسے کہا تو مرجان کو غصہ آ گیا۔ اس نے خشمگیں نگاہوں سے اس کی اور دیکھا۔ وہ نظریں نیچی کیے اس کی حالت پہ خوش ہو رہا تھا عاشر اور رمشا اسی کی طرف دیکھ رہے تھے۔ حتیٰ کی سارہ کی نگاہوں سے بھی کچھ پوشیدہ نہ رہ سکا۔ وہ دل ہی دل میں جل رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں لال ڈورے بخوبی نظر آ رہے تھے۔ ابی ، ثمن اور ملیحہ اپنی ہی باتوں میں مگن ساتھ ساتھ کھانا کھا رہے تھے۔ مرجان بس پلیٹ میں چمچ ہی ہلا رہی تھی۔ پھر سب نے کھانا ختم کیا اور چائے کا دور چلا۔

ثمن بیگم نے مرجان سے چائے سرو کرنے کا بولا تو سارہ کے دماغ میں ایک شیطانی خرافات آئی۔ جب مرجان نے اس کی طرف چائے کا کپ کیا تو اس نے مرجان کے ہاتھ سے کپ لیتے ہی اس کے ہاتھ اور دوپٹہ جو شانے پہ ٹکا تھا اس پہ چائے گرا دی۔

“اوہ! سوری! سوری۔۔۔۔۔۔۔!”

وہ پشیمانی کی ایکٹنگ کرتے ہوئے ساتھ ہی کھڑی ہو گئی۔ خضر نے تو فوراً سے اٹھ کر مرجان کا ہاتھ تھام لیا۔ ابی کی تو جیسے جان ہی نکل گئی۔ ثمن بیگم فوراً سے اٹھیں اور مرجان کے قریب آئیں۔

“تم ٹھیک ہو۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

ثمن بیگم نے فکرمندی سے پوچھا تو مرجان جلن اور درد کی کیفیت کو برداشت کرتے ہوئے نارمل انداز میں بولی۔

“مام! فکر نہ کریں ، میں ٹھیک ہوں۔”

“کیسے ٹھیک ہو سکتی ہیں آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟”

خضر اس کا ہاتھ پکڑے خشمگیں انداز میں بولا تو سب نے اس کی طرف دیکھا۔ بالخصوص مرجان نے تو حیرت سے خضر کے چہرے کی طرف دیکھا۔

“آئیے میرے ساتھ میں آپ کو مرہم لگا دوں نہیں تو چھالے پڑ جائیں گے۔”

وہ تیزی سے بولتا ہوا مرجان کا ہاتھ تھامے اسے سب لوگوں کے بیچ میں سے لے جانے لگا۔ رمشا کے ساتھ ساتھ عاشر کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آئی۔ مرجان تو بس حیرت سے اس کی پشت کی طرف دیکھ رہی تھی۔ وہ چھ فٹ کا لمبا، پرکشش شخصیت کا مالک ، مخصوص کلون کی خوشبو اس کی سانسوں میں بکھیرتا اسے اپنی پیروی کرنے پہ مجبور کر گیا۔ وہ اتنی لمبی ہیل پہنے اس کی تیزی کے ساتھ بڑھتے قدموں کے پیچھے تیزی برقرار رکھتے ہوئے چلنے کی کوشش کر رہی تھی۔ وہ سیڑھیاں چڑھتا سب کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ سارہ کو تو یہ سب ہضم ہی نہیں ہو رہا تھا۔

                                           ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

“سوری آنٹی! میں نے جان بوجھ کر کچھ بھی نہیں کیا۔”

سارہ کی ڈرامے بازی شروع ہو گئی وہ معصومیت کا لبادہ اوڑھے ثمن اور ابی کی آنکھوں میں دھول جھونک گئی لیکن رمشا اور عاشر کو اس کا ساری چالاکی کی سمجھ آ گئی۔ ان دونوں نے ایک ساتھ سارہ کی طرف اور پھر ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔

“جو میں سوچ رہا ہوں کیا تم بھی وہی سوچ رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

عاشر کا انداز سوالیہ تھا۔ رمشا نے ایکدم ہی عاشر کی طرف دیکھا اور پھر اچبات میں سر ہلاتے ہوئے بولی۔

“ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔! لیکن میں تو سارہ کی مکاری کا سوچ رہی ہوں اور تم۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

وہ سارہ کا اصل روپ ایک ہی لمحے میں پہچان گئی لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ عاشر کی دماغی حالت پہ بھی سوال کر گئی۔

“میں بھی سارہ کی اس حرکت پہ سوچ رہا ہوں۔”

عاشر نے مخصوص انداز اپنایا تو سارہ کو شک ہوا ۔

“بندر بھی اپنے دماغ کا استعمال کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

وہ منہ میں بڑبڑائی۔

“اس کا کچھ کرنا پڑے گا۔”

“کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

وہ بے ساختہ سوال کر گئی۔ تو عاشر نے اس کی طرف دیکھا۔

“لیکن!”

وہ کچھ بولتے بولتے رک سا گیا۔

“لیکن کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

وہ جھنجھلا سی گئی۔

“میں سارہ کو خضر اور مرجان کے راستے سے ہٹانے میں تمہارا ساتھ دوں گا لیکن میری ایک شرط ہے۔۔۔۔۔۔!”

“شرط۔۔۔۔۔۔۔!”

“ہاں شرط۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!”

عاشر نے دھیرے سے سر ہلایا۔ اور سنجیدہ انداز میں بولا۔

“مجھے فرینڈز بنانے کا بہت شوق ہے کیا تم میری فرینڈ بنو گی۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

“شٹ اپ۔۔۔۔۔۔۔!”

وہ پٹاخ سے بولی۔

“آ گئی نا اپنی اصل حالت پہ۔۔۔۔۔۔۔! چڑیلوں کی خصلت کبھی نہیں بدلتی۔”

وہ ناک چڑھاتے ہوئے بولا تو رمشا کا  پارہ ہائی ہو گیا۔

“شٹ یور ماؤتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!”

وہ پٹاخ سے بولتے ہوئے وہاں سے چلی گئی اور عاشر بس اس کی پھرتی کو دیکھتا رہ گیا۔ سارہ اور ملیحہ اب رخصت لیتے ہوئے وہاں سے جانے لگیں تو عاشر نے وہاں سے کھسک جانا ہی بہتر سمجھا۔

                              ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

“آپ بچی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

وہ تراخ سے بولا تو مرجان نے اس کی طرف دیکھا جو بیڈ پر اس کے بالکل قریب بیٹھا اس کا ہاتھ زور سے پکڑے اپنی انگلی سے مرہم لگا رہا تھا۔ اس کے ہاتھوں کے لمس سے عجیب سنسناہٹ مرجان کو اپنے وجود میں محسوس ہوئی وہ ہاتھ چھڑانا چاہتی تھی لیکن خضر کے تلخ سوال نے اسے رنجیدہ کر دیا۔

“میں نے جان بوجھ کر نہیں گرائی چائے اپنے ہاتھ پہ۔۔۔۔۔۔!”

انداز معصومانہ تھا۔ وہ نظریں جھکائے بولی تو خضر نے اس کی کلائی زور سے پکڑی اور اس کے چہرے پہ نظریں گاڑے بولا۔

“نظریں جھکا کر ہر بات کا جواب دینے میں ڈگری حاصل کی ہے آپ نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

“نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!”

خضر کے سوال پر اس نے ایک پل کے لیے نگاہیں اٹھائیں اور خضر کی طرف دیکھا جو اشتیاق آمیز انداز میں اسی کی طرف دیکھ رہا تھا بلا ساختہ اس کے منہ سے نہیں پھسلا ۔ خضر کے چہرے پہ مسکراہٹ بکھری اور اس نے تھوڑا ہاتھ کھینچا اور بولا۔

“تو پھر مجھ سے نظریں ملا کر بات کیوں نہیں کرتیں آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

خضر کے سوال پہ اس کا دل زور سے دھڑکا اور وہ سرعت سے اٹھی۔ لیکن دھڑام سے بیڈ پہ دوبارہ آ بیٹھی کیونکہ خضر کی اس کی کلائی پہ گرفت اس قدر مضبوط تھی کہ مرجان کو کچھ بھی سمجھ نہیں آیا۔

“جب تک میں نہ بولوں آپ کو اجازت نہیں ہے یہاں سے اٹھ کر جائیں۔”

وہ افسرانہ انداز میں حکم چلاتا ہوا بولا۔ تو اس کا انداز مرجان کو ناگوار لگا۔

“ہمارا ہاتھ چھوڑیں۔۔۔۔۔۔!”

وہ کلائی چھڑاتے ہوئے التجائی انداز میں بولی ۔

“اگر نہ چھوڑوں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!”

“سمجھوتوں کو اس قدر مضبوطی سے تھاما نہیں کرتے ۔ اور جو رشتہ محض ایک سمجھوتہ ہو اس کے تحت آپ کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ آپ میرا ہاتھ اس قدر زور سے تھامیں۔”

نامعلوم وہ کہاں سے حوصلہ جمع کرتے ہوئے مضبوط لہجے کے ساتھ سب بول گئی ۔ اس کی بات جیسے جیسے خضر کی سماعت سے ٹکڑائی ویسے ویسے اس کے ہاتھ پہ خضر کی گرفت کمزور پڑتی گئی ۔حتیٰ کہ خضر نے اس کی کلائی چھوڑ دی۔ اس کی گرفت سے آزادی ملتے ہی وہ سرعت سے اٹھی اور زور سے دھڑکتے دل کے ساتھ دوپٹہ سنبھالے چینجنگ روم کی طرف چلی گئی۔

“یہ مجھے کیا ہو گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟”

اس نے خود سے سوال کیا۔

“اگر عاشر کے بقول مرجان وہی لڑکی ہوئی تو پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔!”

ایکدم ہی اس کا دل زور سے دھڑکا چہرے پہ مسکراہٹ آئی لیکن دوسرے ہی لمحے مسکراہٹ غائب ہو گئی۔

“کیا اس رات کی بھرپائی ہو پائے گی جس رات میں نے اس سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے اسے اس کی حیثیت سے آگاہ کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

خود سے خود ہی سوال کرتا وہ سر کو دونوں ہاتھوں میں لیے اپنے جذبات کی آگ میں سلگتا نجانے کس دھوپ کی تپش سہہ رہا تھا۔ وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔

کبھی عشق ہو تو پتہ چلے

کہ بساطِ جاں پہ عذاب اترتے ہیں کس طرح

شب و روز دل پہ عتاب اترتے ہیں کس طرح

کبھی عشق ہو تو پتہ چلے

یہ جو لوگ سے ہیں چھپے ہوئے پس ِ دوستاں

تو یہ کون ہیں؟

یہ جو روگ سے ہیں چھپے ہوئے پسِ جسم و جاں

تو یہ کس لیے؟

یہ جو کان ہیں میرے آہٹوں پہ لگے ہوئے

تو یہ کیوں بھلا؟

یہ جو ہونٹ ہیں صفِ دوستاں میں سلے ہوئے

تو یہ کس لیے؟

یہ جو اضطراب رچا ہوا ہے وجود میں

تو یہ کیوں بھلا؟

یہ جو سنگ سا کوئی آ گرا ہے جمود میں

تو یہ کس لیے؟

یہ جو دل میں درد چھڑا ہوا ہے لطیف سا

تو یہ کب سے ہے؟

یہ جو پُتلیوں میں ہے عکس کوئی خفیف سا

سو یہ کب سے ہے؟

یہ جو آنکھ میں کوئی برف سی جمی ہوئی

تو یہ کس لیے؟

یہ جو دل میں نئی نئی سی ہے کمی ہوئی

تو یہ کیوں بھلا؟

یہ جو اضطراب مجھے چھیڑ رہا

میرے دل کو کچھ نہیں پتہ

مجھے کیا خبر۔۔۔۔۔۔۔!

کسی راہ کے کسی موڑ پر

اے دل میرے ذرا سنبھل تو سہی

کبھی عشق کی گلی میں گزر تو سہی

کبھی عشق ہو تو پتہ چلے

کبھی عشق ہو تو پتہ چلے

وہ نم آنکھیں وا کیے اسی کے وجود کے حصار میں خود کو قید کرتا نامعلوم کن کن رستوں سے گزرتا عجیب تکلیف اور درد محسوس کر رہا تھا۔ جبکہ وہ دشمنِ جاں کسی معصوم گڑیا کی مانند اس کے سامنے نیند کی وادیوں میں قدم رکھ چکی تھی۔ وہ بار بار اٹھ کر بیٹھ جاتا اور اس کی طرف تشنہ نظروں سے دیکھتا اپنے دل کی بے چینی کو راحت دلانے کی کوشش کرتا اب بے بس ہوتے ہوئے آنکھیں پلکوں کی ڈور سے باندھتا ہوا سونے کی کوشش کرنے لگا۔

                                      ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

(جاری ہے)

Hina Shahid

I am an Urdu novel writer, passionate about it, and writing novels for several years, and have written a lot of good novels. short story book Rushkey Hina and most romantic and popular novel Khumarey Jann. Mera naseb ho tum romantic novel and lot of short stories write this

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button