رومینٹک ناول
Trending

Khumarey Jaan by Hina Shahid episode 18

Romantic Novels Hina Shahid

Story Highlights
  • ہ اسے شانوں سے تھامے اپنے مزید قریب کر گیا ۔ مرجان کا دل زوروں سے دھڑکنے لگا۔ "کککککککیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟" مرجان نے جھٹ سے پلکیں اٹھا کر اس کی آنکھوں میں جھانکا۔ جہاں بے حد خمار تھا۔ خضر نے اس کے چہرے کے قریب چہرہ کیا اور حلاوت سے بولا۔ "میں اپنا ہر حق استعمال کر سکتا ہوں اور آپ مجھے روکنے کا حق نہیں رکھ سکتیں۔" اس کی سانسوں کی گرماہٹ مرجان کے دل کو اتھل پتھل کر گئی۔ اس کا دل اتنی زور سے دھک دھک کر رہا تھا کہ خضر کو باقاعدہ اس کی دھڑکنیں محسوس ہورہی تھیں۔ "آپ ایسا کچھ بھی نہیں کر سکتے۔" مرجان نے چہرے کا رخ دوسری جانب کرتے ہوئے سانسوں کی ہلچل پہ کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہوئے سرزنش کرنی چاہی۔ "میں کیا کیا کر سکتا ہوں آپ اس بات کو چھوڑ دیں۔ ادھر میری طرف دیکھ کر میری بات کا جواب دیں۔" وہ نظروں کی تپش سے اس کے رخسار سہلاتا ہوا بولا۔ تو یکدم ہی مرجان نے دوبارہ سے اس کی آنکھوں سے آنکھیں ملاتے ہوئے اس کی جانب دیکھا۔ وہ فرطِ جذبات سے لبریز اس کے بالکل قریب کھڑا تھا۔ "آج آپ اس معصوم دل پہ قیامت ڈھا رہی ہیں۔ اور اس قیامت کا بدلہ میں سوچ رہا ہوں رات کو ہی پورا کر لوں۔ وہ کیا ہے نا مسٹر خضر بیگ اپنا ہر حساب وقت پہ برابر کرنے والوں میں سے ہے۔" خضر کے الفاظ اور ان الفاظوں میں چھپے مطلب وہ بخوبی سمجھ رہی تھی۔ شرم کے مارے وہ نظریں اور چہرہ جھکا گئی۔ خضر نے اس کے لبوں کی سرخی کو اپنے داہنی ہاتھ کی انگلی سے چھوا اور اس کے قریب ہوتے ہوئے اس کے اناڑی ہونٹوں کا سارا رس پینے کے لیے ابھی لبوں کو بڑھایا ہی تھا کہ کسی نے جھٹ سے ڈور اوپن کیا وہ بڑی سرعت میں اس سے دور ہٹا۔ "اوہ! سوری سوری۔۔۔۔۔۔!" رمشا تو پشیمان ہی ہو گئی۔

 

“میری خواہش ہے اس جمعے کو ہم گھر میں ایک ڈنر رکھیں اور آفیشلی خضر اور مرجان کے نکاح کی خوشی میں اپنے سب رشتہ داروں کو مدعو کریں۔ تاکہ سب کو پتہ چلے کہ اس خاندان کی اکلوتی بہو کس قدر پیاری ہے۔ اور ہمارے خاندان کے بالکل شایانِ شان ہے ہماری مرجان۔۔۔۔۔۔!”

ابی نے مسکرا کر فخر سے کہا تو ثمن بیگم بھی زیرِ لب مسکرائیں۔

“یہ تو بہت ہی خوشی کی بات ہے۔”

علی اعظم نے ابی کی بات پہ ان کو سراہا۔

“میری خواہش ہے آپ بھی اس ڈنر میں آئیں۔ تاکہ ہم سب کے ساتھ آپ کا اور رمشا کا بھی تعارف کروائیں۔”

ابی نے انہیں دعوت دی تو رمشا فوراً سے بولی۔

“جی ضرور ابی میں تو ضرور آؤں گی۔”

رمشا جو کافی دیر سے خاموش بیٹھی تھی۔ لیکن ابی کی بات پہ وہ خوش ہو گئی اور جلدی سے حامی بھر لی۔

“یہ بھی ٹھیک ہے میں چاہتی ہوں رمشا تم ایک دو دن ٹھہر جاؤ تاکہ مرجان کو مارکیٹ لے جانا اپنے ساتھ اور کچھ چیزیں اور خاص طور پہ ڈنر کے لیے اسپیشل ڈریس لینے میں اس کی ہیلپ کر دینا۔”

ثمن بیگم نے مسکرا کر اصرار کیا تو علی اعظم جھٹ سے بولے۔

“میں معذرت چاہتا ہوں ابھی آپ اس کو میرے ساتھ جانے دیں ۔ میں جمعے سے پہلے اس کو دوبارہ چھوڑ جاؤں گا۔ تو آپ اس سے جو کام لینا ہو گا لے لیجئیے گا۔”

علی اعظم کی بھی بات میں وزن تھا۔ رمشا آل ریڈی ایک ہفتے سے بھی زائد یہیں پہ رہ چکی تھی۔ اور اب مزید کچھ دن قیام کرنا انہیں نامناسب سا لگا۔ ابی ان کی بات پہ فوراً سے بولے۔

“جیسے آپ کو مناسب لگتا ہے۔ لیکن ایک بات ہے رمشا کے ہونے سے مرجان کا دل لگا ہوا تھا۔ “

اس کے جانے کی بات پہ ابی بھی کچھ افسردہ سے ہو گئے تھے۔

“ہاں یہ بات تو ہے رمشا کے آنے سے مرجان کا دل لگ گیا ہے اور اب یوں اچانک سے رمشا واپس چلی جائے گی تو مرجان اداس ہو جائے گی۔”

سارہ جو سیڑھیوں سے اترتے ہوئے سب کی باتیں سن رہی تھی۔ دل ہی دل میں خوشی کا طوفان برپا تھا غمگین انداز اپنائے بولی تو رمشا سمیت سب نے اس کی طرف دیکھا اور خضر جھٹ سے بولا۔

“تم کب آئیں۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

“جب تم گھر پہ نہیں تھے۔”

وہ بے اختیار بولی۔

“آؤ چائے پی لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!”

ثمن بیگم نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ وہ مسکرا کر بولی۔

“نہیں ! آنٹی۔۔۔۔۔۔! شکریہ! اب میں گھر چلتی ہوں ۔ ویسے بھی مرجان کو دیکھنے آئی تھی۔ اب چلتی ہوں میں۔”

“اوہ! اچھا۔۔۔۔! آپ جا رہی ہیں لیکن خضر بھائی نے تو آپ کو انوائٹ کرنا تھا۔”

رمشا تو اسے دیکھتے ہی جل ککڑی بن گئی تھی۔ اسے یوں مسکراتا دیکھ اسے جلانے کا بھرپور منسوبہ بنائے وہ بولی تو خضر نے جھٹ سے رمشا کی طرف دیکھا۔

“فار واٹ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

انداز استفہامیہ تھ۔ا۔

“وہ دراصل خضر بھائی اور مرجان کی شادی اچانک ہوئی تھی تو ابی نے اس جمعے کو ایک ڈنر ارینج کیا ہے جس میں تمام لوگ شامل ہوں گے تو بس اسی ڈنر میں آپ کو بھی مدعو کیا جا رہا ہے۔”

رمشا نے الفاظ سہج سہج کر ادا کیے تو سارہ نے اس کی طرف اچنبھے سے دیکھا۔ خضر زیرِ لب مسکرایا ابی سمیت سب سارہ کی طرف دیکھ رہے تھے۔ سارہ کا دل کیا رمشا کا منہ ہی توڑ ڈالے۔ لیکن ضبط کا دامن  تھامے وہ مصنوعی مسکراہٹ ہونٹوں پہ سجائے بولی۔

“اوہ! سو گُڈ۔۔۔۔۔۔۔۔! یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ “

انداز مصنوعی تھا۔

“تو آپ آئیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

استفہامیہ نظریں سارہ پہ ہی جمی تھیں۔

“وائے ناٹ۔۔۔۔۔۔۔! میرے بیسٹ فرینڈ کی خوشی میں میں ضرور شامل ہوں گی۔”

پتہ نہیں غصے کو کس طرح ضبط کیے وہ بول رہی تھی۔ رمشا کو اس کی حالت پہ رحم آیا لیکن چونکہ سارہ کو آگ لگانا اور جلن کی بھٹی میں جلتا دیکھنا ہی اس کی خواہش تھی سو وہ پوری ہو گئی۔                                                  ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تیرے پیکر کو نگاہوں میں بسا رکھا ہے

اور اس دل پہ تیرانام لکھا رکھا ہے

ہجر کی رات اندھیری ہی سہی

تیری یادوں کا دیا بھی تو جلا رکھا ہے

کہہ گیا تھا وہ میری راہ کو تکتے رہنا

سو اسی وعدے کو ہم نے تو نبھا رکھا ہے

اپنی قسمت میں سفر ہے کوئی منزل کب ہے

ہم نے امید کا اک خواب سجا رکھا ہے

عمر بھر ہم نے محبت میں گزاری جاناں

نام دنیا نے اسی شے کا وفا رکھا ہے

اب تو راتوں کو مری کاش سحر مل جائے

میں نے ہر اشک نگاہوں سے بہا رکھا ہے

“طبیعت کیسی ہے۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

خضر اس کے برابر بیٹھتے ہی بولا۔

“ٹھیک ہوں میں۔۔۔۔۔۔!”

وہ آہستگی سے بولی۔

“ادھر دیکھ کر جواب دو۔”

خضر اس کے قریب بیٹھا اس پہ نگاہیں جمائے بولا۔

میں سونے لگی ہوں۔ مجھے نیند آئی ہے۔”

وہ نگاہیں جھکائے بلینکٹ کو زور سے دبوچے بولی تو خضر اس کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ دیکھ کر زیرِ لب مسکرایا۔

“اور اگر میں آپ کو سونے کی اجازت ہی نہ دوں تو۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

خضر کی بات پہ مرجان نے جھٹ سے پلکیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔ حیرانگی اور تعجب کے تاثرات اس کے چہرے پہ چھائے تھے۔

“کیا مطلب۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

وہ جھٹ سے بولی۔

“وہی جو آپ کو سمجھ آئی ہے۔۔۔۔۔۔!”

وہ اس کا ہاتھ تھامے مسکرا کر بولا۔ اور اس کے مزید قریب ہوا۔ خضر کی بے خودی اس کی دھڑکن کو بڑھا گئی۔

“مجھے نیند آ رہی ہے۔ مجھے سونا ہے۔”

مرجان نے التجائی انداز میں کہا تو خضر نے اس کے چہرے کو چھوتی لٹ کو انگلی سے ٹچ کیا اور کان کی لو کے پیچھے کیا۔ پھر اس کے رخسار کو سہلایا تو مرجان خضر کی اس افتاد پہ حیرت زدہ رہ گئی۔

“ابی نے اس جمعے ایک ڈنر ارینج کیا ہے۔ آپ کو میری قید میں آئے ہوئے ایک مہینہ ہو گیا ہے تو سیلیبریشن تو بنتی ہے۔”

وہ دھیمے سے مسکرایا مرجان کا دل دھڑک دھڑک کر جیسے باہر ہی آنے والا ہو۔ اس کے دل کی بھرپور دھڑکن خضر کو سنائی دے رہی تھی۔

پھر اس نے مرجان کا ہاتھ اپنے لبوں کے قریب کیا۔ اور آہستگی سے چوما۔ مرجان نظریں جھکائے اس کی حالت کو دیکھ رہی تھی۔ وہ بخوبی واقف تھی کہ خضر بیگ کا خمار کہاں اس سے چھپا ہوا تھا۔ اس کی آنکھوں سے چھلکتا پیار صاف ظاہر کر رہا تھا کہ وہ مرجان افتخار کی محبت کا اسیر ہو چکا تھا۔ مرجان نے اس کے ہاتھ سے اپنی کلائی آزاد کی۔ اور بلینکٹ پیچھے کرتے ہوئے فوراً سے اٹھی اور واشروم کی طرف بھاگی۔

“مرجان! میری بات سنیں۔۔۔۔۔۔!”

وہ مخمور انداز میں اسے پکار رہا تھا۔ لیکن مرجان کہاں رکنے والی تھی۔ وہ تو اس سے ایسے دور بھاگی جیسے پنجرے میں پرندہ آزادی کے لیے بھاگتا ہے اور جیسے ہی دروازہ کھلتا ہے وہ پُھر سے اڑ جاتا ہے۔

“کاش! تم جان سکو میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں۔”

وہ زیرِ لب مسکراتے ہوئے دھیمے انداز میں بولا اور بیڈ پہ بالکل سیدھا لیٹتے ہوئے وہ تکیے کے پیچھے اپنا چہرہ چھپا گیا۔

                                    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

“ادھر ساتھ ہی ایک پارک ہے شام کے وقت تھوڑا واک کرنے کے لیے پارک چلی جایا کرو۔”

ثمن بیگم نے رمشا کے جاتے ہی اسے اداس دیکھا تو اسے ایک معقول سا مشورہ دیا۔ وہ ان کی بات سن کر دھیرے سے مسکرائی۔

“جی ٹھیک ہے۔”

مختصر جواب دیتے اس نے چائے کا کپ لبوں سے لگایا اور ایک سپ لیا۔ خضر بیگ سرعت سے سیڑھیاں اترتا نیچے آیا اورمرجان کے برابر پڑی چئیر پہ بیٹھتے ہی مسکرا کر بولا۔

“کون کہاں جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

انداز سوالیہ تھا۔

“کہیں نہیں ! میں نے بس مرجان سے کہا ہے کہ ادھر قریب ہی جو پارک ہے وہاں شام میں واک کے لیے چلی جایا کرے۔”

ثمن بیگم نے آملیٹ کی ٹرے اس کے سامنے کی اس نے فوک کی مدد سے ایک پیس اٹھایا اور سلائس کی کٹنگ کرتے ہوئے اس نے فریش اورنج جوس کا ایک سپ لیا اور مرجان کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔

“اب کیسی طبیعت ہے آپ کی۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

انداز میں فکر واضح چھلک رہی تھی۔

“پہلے سے کافی بہتر ہوں۔”

وہ چائے پیتے ہوئے مختصر بولی بنا خضر کی طرف دیکھے۔ لیکن خضر نے تو قسم اٹھائی تھی سب کے سامنے اکیلے میں اس کی کئیر کرنے کی، اس پہ اپنی محبت واضح کرنے کی۔ اس نے فوراً سے اپنا آہنی ہاتھ اس کے ماتھے پہ لگایا اور بولا۔

“مام بخار اتر گیا ہے ان کا اب۔۔۔۔۔۔!”

ابی اور ثمن بیگم خضر کی اس حرکت پہ زیرِ لب مسکرائے۔ مرجان جھینپ کہ رہ گئی۔

“خیر تو ہے خضر۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

ابی کے چہرے پہ ابھی بھی تبسم تھا۔ وہ سوالیہ انداز سے اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔

“جی خیر ہے بالکل خیر ہے۔۔۔۔۔۔! “

وہ ان کی بات کا مطلب بخوبی سمجھ گیا تھا۔ اور سر ہلاتے ہوئے وہ بولا تو ثمن جھٹ سے بول پڑیں۔

“ابی! ہمارا خضر بہت خوش ہے۔ “

ثمن کی بات سن کر خضر نے فوراً سے ماں کی طرف دیکھا ۔ مرجان بھی کہاں ان سب باتوں سے انجان تھی۔ وہ ہر بات کا بخوبی مطلب سمجھ رہی تھی۔ پھر ابی بولے۔

“اللہ آپ کو صدا خوش ہی رکھے۔”

انہوں نے اسے دعا دی تو ثمن بیگم کے منہ سے فوراً آمین نکلا۔

“اچھا خضر ! اپنے تمام دوستوں کو آفیشل لنک کے سب لوگوں کو بھی انوائٹ کر دیجئیے گا ڈنر پہ۔

ابی نے چائے کا کپ میز پہ رکھتے ہوئے اس سے کہا تو وہ جھٹ سے بولا ۔

“جی ٹھیک ہے ابی۔۔۔۔۔! آپ بے فکر ہو جائیں ۔ میں ایسے کرتا ہوں عاشر سے بولوں گا پہلے لسٹ بنا لے پھر انویٹیشن کارڈز بنوا کے تمام لوگوں کو بھجوا دوں گا۔”

وہ پلاننگ کرتے ہوئے ہر کام کی ترتیب دینے لگا۔

“یہ بھی ٹھیک ہے۔ پھر مینیو بھی ڈیسائیڈ کرلیں گے۔”

“یہ سب کام تو ایک طرف اور یہ کام تو ہو ہی جائیں گے۔ لیکن ایک سب سے اہم کام کرنا ہے خضر آپ نے۔۔۔۔۔!”

ثمن بیگم ابی اور خضر کی بات کاٹتے ہوئے بولیں۔

“جی مام آپ حکم کریں، آپ کا کام سر آنکھوں پہ اور سب سے پہلے آپ کا کام ہی ہو گا۔”

وہ بے حد خوش تھا اس کے انداز سے مسرت چھلک رہی تھی۔ابی بھی ثمن کی بات کی طرف متوجہ ہوئے۔

“میری مرجان کے آنے کی خوشی میں یہ ڈنر رکھا جا رہا ہے تو میں چاہتی ہیوں میری شہزادی اصل میں بھی شہزادی ہی لگے۔”

خضر نے فوراً سے مرجان کی جانب دیکھا جو تعجب سے ثمن بیگم کی طرف دیکھ رہی تھی۔

“ہاں ! ثمن بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں۔”

ابی نے ان کی بات کی تائید کر دی۔

“مام ! جو پہلے سے ہی شہزادی ہو اس کو اور مزید کیسے شہزادی بنایا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔؟؟؟”

اس کے انداز پہ ثمن سمیت ابی نے بھی بغور اس کی طرف دیکھا۔ مرجان تو جھینپ سی گئی۔ جبکہ خضر وہ زیرِ لب مسکراتے ہوئے سرعت سے بولا۔

“شام میں ریڈی رہئیے گا آپ کو مارکیٹ لے کے جاؤں گا۔ “

“یہ بھی اچھا ہے بہتر ہے آپ اپنی مرضی سے کچھ لے دیجئیے گا مرجان کو۔”

ابی نے اس کو سراہا تو وہ جھٹ سے بولا۔

“جیسے آپ کا حکم ہے۔ اب میں چلتا ہوں وقت پہ آ جاؤں گا۔”

یہ کہتے ہوئے وہ فوراً سے اٹھا اور ٹائی کی ناٹ ٹھیک کرتے ہوئے ثمن بیگم کے چہرے کے پاس اپنے لب کیے اور انہیں بازوؤں کے حصار میں سمیٹتے ہوئے ان کی دعا لی اور خدا حافظ بولتے ہوئے لیپ ٹاپ بیگ اٹھایا اور باہر کی طرف چل دیا۔

“مرجان ! آپ خوش ہیں۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

ابی کے سوال پہ وہ چونک سی گئی۔

“جی ! “

مختصر جواب پہ وہ نظریں جھکا گئی۔

“اگر کبھی کوئی مسئلہ ہو یا ہمارا خضر آپ کے ساتھ ناروا سلوک کرے تو بلا جھجک ہمیں بتائیے گا ۔ ہم ایسی مرمت کریں گے کہ دوبارہ آپ کو کبھی بھی کوئی شکایت نہیں ہو گی۔”

ابی کے انداز پہ وہ مسکرانے لگی۔ اس کے چہرے پہ اطمینان اور سکون دیکھ کر ابی بھی کچھ مطمئن ہو گئے۔ انہیں اندازہ تھا کہ وہ افتخار کے ساتھ وعدہ کر چکے ہیں اور اگر ان کی مرجان کی آنکھوں میں ایک بھی آنسو آیا تو ابی اس کے جواب دہ ہوں گے۔

                                         ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

“یہ کھا لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔!”

ثمرینہ نے اصرار کرتے ہوئے کہا لیکن زرینہ نے فوراً سے منہ دوسری طرف کر لیا۔

“نہیں ! میرا دل نہیں کر رہا۔”

“کیوں ؟ کیا وجہ ہے۔۔۔۔۔۔؟ چہرہ دیکھا ہے اپنا ایسے اتر گیا ہے۔۔۔۔۔! مجھے بتاؤ کیا بات ہے۔۔۔۔۔؟؟؟”

ثمرینہ کا دل ہول رہا تھا اسے اس حال میں دیکھ دیکھ کر۔ گم صم بیٹھی بالکل خاموش شوخ چنچل پن بلاوجہ مسکرانا تو جیسے زرینہ سب کچھ بھول ہی گئی تھی۔ اسی لیے ایک ساتھ کئی سوال کر گئیں۔

“مامی! وجاہت کب آئے گا۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

روہانسی لہجے کے ساتھ وہ آنکھوں میں آنسو لیے بولی تو ثمرینہ کو کلیجہ منہ کو آ گیا۔ وہ اس کی آنکھوں میں موتی کبھی بھی برداشت نہیں کر سکتی تھیں۔

“جلد ہی آ جائے گا۔ اپنی ضد پوری کرنے گیا ہے۔ اور تمہیں معلوم ہے جب وہ کسی چیز کی ضد کر لیتا ہے تو اسے حاصل کر کے ہی رہتا ہے۔”

انہوں نے اس کے شانے پہ ہاتھ دھرا اور پریشان کن انداز میں بولیں۔

“مامی! اگر وجاہت مرجان کو اپنے ساتھ واپس لے آیا تو میں مر جاؤں گی۔ “

ثمرینہ نے فوراً سے اس کے لبوں پہ ہاتھ رکھا۔

“نہیں ! ایسی بات نہیں کرتے۔ اللہ تمہیں لمبی عمر دے۔ صدا خوش رہو۔”

وہ اسے دعا دینے لگیں۔

“میں ایسی زندگی جی کر کیا کروں گی جس میں وجاہت کسی اور کے ساتھ اپنی زندگی گزارے اور میں کسی اور کا اسے ہوتا نھہیں دیکھ سکتی۔ “

رخسار موتیوں سے تر ہو گئے تھے۔ ثمرینہ نے حیرت زدہ رہ گئیں۔

“میں وجاہت کو بہت چاہتی ہوں۔ اس کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ مامی! مجھ میں کوئی خامی ہے۔۔۔۔۔؟ “

وہ ان کے بالکل سامنے بیٹھ گئی اور اپنے بال چہرے سے پیچھے کرتے ہوئے استفہامیہ انداز میں بولی۔

“نہیں میری دھی ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔ تو بہت خوبصورت ہے۔”

اس کے چہرے سے آنسوصاف کرتے ہوئے وہ مسکرا کر بولیں تو اس نے ان کے ملائم ہاتھوں کو تھاما اور حلاوت سے بولی۔

“مجھ میں کوئی خامی ہے۔۔۔۔۔؟ مجھ میں کوئی کمی ہے۔۔۔۔۔۔؟ کیا میں مرجان کے مقابلے میں کم خوبصورت ہوں۔ ۔۔۔۔۔۔۔؟”

وہ فرطِ جذبات میں مقابلے پہ آ چکی تھی۔ عموماً محبت میں ٹھکرائے جانے کے بعد ایسا ہی ہوتا ہے ہم کمپیریزن شروع کر دیتے ہیں۔ خود کو کمتر اور اپنے مدِ مقابل کو پرفیکٹ سمجھنے لگتے ہیں۔ زرینہ کی ذہنی کیفیت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔

“”نہیں میری زرینہ تو ہماری مرجان سے بھی کئی گنا زہادہ سوہنی ہے۔ میری زرینہ تو ہیر ہے ہیر۔۔۔۔۔!”

وہ اس کا ماتھا چومتے ہوئے بولیں اور اسے اپنے گلے سے لگا لیا۔

“تو فکر نہ کر میں وجاہت کی شادی صرف اپنی سوہنی دھی زرینہ کے ساتھ ہی کرواؤں گی۔ میرے وجاہت کی دلہن تو صرف میری زرینہ ہی بنے گی۔”

وہ اس کی کمر تھپتھپا رہی تھیں۔ جبکہ وہ ہچکیوں کے بندھ توڑے روئے جا رہی تھی۔

محبت کو کھو دینے کا ڈر ایک طرف لیکن محبت کو اپنی نظروں کے سامنے کسی دوسرے کے پہلو میں سجا دیکھنا اس سے بڑی اذیت شاید دنیا میں کوئی نہیں ہو سکتی۔

                                                 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مقدس آنکھ میں اس کی یہ کیسا پیار دیکھا تھا

حسین شاہکار دیکھا تھا

کبھی ہم نے بھی اپنے روبرو اک چاند دیکھا تھا

حسین صندل سے ہونٹوں کے وہ خدوخال ایسے تھے

کہ جیسے چاندنی میں ہر طرف خوشبو بکھر جائے

وہ ہونٹوں پہ تنسم کا حسین تاج رکھتی تھی

کبھی کھلتا نہیں تھا جو وہ ایسا راز رکھتی تھی

اداسی کی گھڑی میں ہم جو اس کے ساتھ چلتے تھے

تو اس کے شیریں لہجے میں ہزاروں پھول کھلتے تھے

وہ شرماتی تو چہرے پر نیا ایک رنگ آ جاتا

غزالوں کو بھی اس کی چال سے اک ڈھنگ آ جاتا

وہ جب چلتی ، صبا اس کو ٹھہر کر دیکھنے لگتی

شفق بھی ہونٹوں کو اتر کر دیکھنے لگتی

وہ بالوں کو جھٹکتی جب تو یوں لگتا کہ جیسے

بدلیوں سے چاند نکلا ہو

وہ جس دم گنگناتی تھی تو یہ محسوس ہوتا تھا

کسی مندر کی ساری گھنٹیاں بجتی ہوں ہولے سے

وہ ایسا چاند تھا جس کی کبھی پندرہ نہیں دیکھی

مقدس آنکھ میں اس کی یہ کیسا پیار دیکھا تھا

حسین شاہکار دیکھا تھا

کبھی ہم نے بھی اپنے روبرو اک چاند دیکھا تھا

ڈسپلے پہ سٹیچو نے خوبصورت بلیک نیٹ کی ساڑھی پہنی ہوئی تھی۔ خضر مارکیٹ اکیلا ہی آ گیا تھا۔ مرجان کو سرپرائز دینے کی خواہش اس کے دل میں جاگی تو وہ آفس سے جلد ہی نکل آیا اور مین مارکیٹ میں شیڈو مال کے باہر پارکنگ میں کار کھڑی کی۔ اور شاپس کا وزٹ کرتے کرتے اچانک سے اس کے قدم رک سے گئے۔ بلیکن شفون نیٹ کی سمپل ساڑھی جس کے اوپر  کہیں کہیں گرے سٹونز چمک رہے تھے۔ اور بارڈر پر خوبصورت گرے پلہ لگا تھا۔ جس پہ سٹونز کی بھرمار تھی۔ ستاروں کی جھلمل بھی تھی۔ نفاست سے گوٹے کی پٹی بھی موجود تھی۔ بلاؤز ہالف سلیویز تھے۔ سادہ نیٹ کے بلاؤز کے گلے پہ گوٹے کی تار چمک رہی تھی۔ کچھ ستارے بھی دمک رہے تھے۔ اور بازوؤں کے پلے ہلکی گوٹے کی تار کے ساتھ سجے تھے۔ خضر کی نظر کو حیرہ کرتی یہ ساڑھی اس کی آنکھوں میں جیسے ٹھہر سی گئی۔ اس نے فوراً سے شاپ کیپر سے اس ساڑھی کی پرائس پوچھی۔

“یہ جو بلیک ساڑھی ہے اس کی کیا پرائس ہے۔۔۔۔۔؟؟؟”

“جی سر! یہ بلیک والی۔۔۔۔۔۔۔! فورٹی سیون تھاؤنزنڈ۔۔۔۔۔۔۔! (سنتالیس ہزار)۔”

اس نے مسکرا کر کہا۔

“اوکے ڈن کریں۔۔۔۔۔۔!”

خضر نے بھی جواباً مسکرا کر کہا۔ اور پیمنٹ کرتے ہوئے وہ شاپ سے باہر آ گیا۔ اب وہ اس ساڑھی کے ساتھ میچینگ جیولری خریدنے کی خواہش میں جیولری شاپ میں اینٹر ہوا۔ بہت سارے نیکلس دیکھنے کے بعد اب کہیں جا کر اسے ایک نیکلس پسند آیا۔ سمپل لائٹ چین کے ساتھ ایک ہارٹ بنا تھا جس کو ہلکا سا ٹچ کریں تو وہ اوپن ہو جاتا۔ خضر کے مائنڈ میں ایک سوچ ابھری اس نیکلس کے ساتھ چھوٹے چھوٹے بالکل سادہ سے ٹاپس بھی تھے۔ خضر نے فوراً سے وہ نیکلس سیلیکٹ کر لیا اور اس کی پیمنٹ کرتے ہوئے وہ شوز شاپ کی جانب بڑھا۔ بلیک سمپل سٹرپ کے ساتھ ہائی ہیل اسے اس ساڑھی کے ساتھ پرفیکٹ میچ لگا تو اس نے فوراً سے وہ ہیل بھی پسند کر لی۔ اب اس کی ساری شاپنگ مکمل ہو چکی تھی۔

“بس کچھ اور دن۔۔۔۔۔۔!”

وہ زیرِ لب مسکرایا اور سارے شاپنگ بیگز گاڑی کی بیک سیٹ پہ رکھے اور فرنٹ ڈور اوپن کرتے ہوئے وہ گاڑی سٹارٹ کر گیا۔

“یہ ڈنر پارٹی ہماری لائف کی سب سے حسین رات ہو گی۔ “

وہ ایک نئی اور خوبصورت زندگی کے سپنے سجائے مسکرا رہا تھا۔

“میں اس رات کی ہر کمی کو پورا کر کے اپنی بے پناہ محبت کا اظہار کر کے آپ کا دل جیت لوں گا۔ اور پھر ہمارے درمیان حائل ہر دوری ختم ہو جائے گی۔”

وہ سٹیئر پہ ہاتھ مضبوظی کے ساتھ جمائے زیرِ لب مسکراتے ہوئے دل ہی دل میں اچھے دنوں کے خواب بن رہا تھا۔

                                             ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

“میں اپنا بال لے لوں آپی۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

کیوٹ سی سمائل کے ساتھ انابیہ نے کہا تو وہ اس بچی کی آواز سن کے چونک سی گئی۔ وہ جو پچھلے آدھے گھنٹے سے پارک میں ادھر سے ادھر بلاوجہ گھوم گھوم کر تھک کے اب اس سلائیڈ پہ آ کر بیٹھی تھی۔ کچھ ہی پل میں وہ گیند اس کے پاؤں کے ساتھ ٹکرایا اور اب  وہ آواز کے تعاقب میں اس طرف دیکھ رہی تھی۔ ایک معصوم سی بچی آنسو آنکھوں میں لیے اس سے التجائی انداز میں گیند مانگ رہی تھی۔ سلکی گولڈن براؤن بالوں کی ٹیل کومب کیے وہ پنک فراک پہنے بے حد جاذب نظر لگ رہی تھی۔ مرجان کو ویسے بھی بچے بہت پسند تھے۔ اس نے اپنے پاؤں کے پاس رکھی وہ گیند اٹھائی اور فوراً سے مسکراتے ہوئے وہ گیند انابیہ کے ہاتھ میں دے دی۔

“تھینک یو۔۔۔۔۔۔۔۔!”

انابیہ کے اداس چہرے پہ فوراً سے سمائل آ گئی۔

“کیا میں اس پیاری سی گڑیا کا نام جان سکتی ہوں۔۔۔۔۔؟؟؟”

مرجان نے اس کے قریب گھٹنے سبز فرش پہ ٹکاتے ہوئے اس کے رخسار کو چھوا اور استفہامیہ انداز میں بولی۔

“میرا نام انابیہ ہے اور پریٹی ڈول آپ کون ہو۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

واؤ بہت خوبصورت نام ہے آپ کا بالکل آپ کی طرح۔۔۔۔۔۔۔!”

مرجان نے اس کے رخسار پہ لب رکھے اور اسے پیار سے چھوا۔

“کیا میں آپ کو پریٹی ڈول بول سکتی ہوں۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

انابیہ نے مسکرا کر پوچھا۔

“ٹھیک ہے لیکن میری ایک شرط ہے۔۔۔۔۔!”

“وہ کیا۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

انابیہ نے جھٹ سے پوچھا۔

“کیا آپ میری لٹل فرینڈ بنو گی۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

مرجان نے ہاتھ آگے بڑھا کر پوچھا۔

“یس آف کورس۔۔۔۔۔۔۔! بٹ ایک پرابلم ہے۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

انابیہ نے مایوس کن انداز میں جھنجھلا کر کہا تو مرجان فوراً سے بولی۔

“وہ کیا۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

انداز اور نظریں استفہامیہ تھیں۔

“پاپا مجھے کسی کو دوست بنانے نہیں دیتے۔”

“اوہ! اچھا۔۔۔۔۔۔!”

مرجان نے افسردگی سے اس کی جانب دیکھا۔

“تو آپ ڈیلی ادھر اکیلی آتی ہو۔۔۔۔۔۔؟ ماما کدھر ہیں آپ کی۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

“ماما تو گاڈ کے پاس اوپر بہر اوپر آسمانوں کے بھی اس پار چلی گئی ہیں۔”

وہ بھرپور کانفیڈنس سے بولی تو اس کا انداز مرجان کے دل میں  کانٹے کی طرح چبھا۔

“میں ڈیلی پاپا کے ساتھ آتی ہوں۔وہ ادھر ہیں۔۔۔۔۔”

اس نے ہاتھ کے اشارے سے مرجان کو بتایا تو اس نے فوراً سے اس سائیڈ دیکھا۔ جہاں ایک پرکشش شخصیت کا مالک خوبرو انسان سکائی بلیو پینٹ اور ٹی شرٹ پہنے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا۔ اور پھر وہ بڑی سرعت کے ساتھ اس جانب قدم بڑھانے لگا۔

“انابیہ! مائی ڈول کدھر چلی گئی تھیں آپ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

وہ سرعت سے قدم بڑھاتا قریب آیا اور اس چھوٹی سی گڑیا کو گلے لگاتے ہوئے فکرمندی سے بولا۔

“ادھر ہی تھی پاپا۔۔۔۔۔۔! وہ میری گیند پریٹی ڈول کے پاس آ گئی تھی تو وہ لینے آئی تھی۔”

انابیہ نے حلاوت سے کہا تو فوراً سے نگاہیں اس کی جانب اٹھیں۔ سادہ لائم ییلو پلین کاٹن کی شرٹ کے ساتھ وائٹ کیپری اور وائٹ نیٹ کا دوپٹہ سر پہ اوڑھے بالکل سادہ چہرے کے ساتھ وہ اس کے دل میں کہیں دھڑکن کو تیز کرنے کا سبب بن گئی۔

“پریٹی ڈول۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

وہ استفہامیہ انداز میں بولا۔

“جی۔۔۔۔۔! وہ دراصل ابھی ابھی انابیہ نے یہ نام مجھے دیا ہے۔”

وہ مسکرا کر بولی تو وہ جو صرف اس کے چہرے پہ نظریں مرکوز کیے کھڑا تھا اب اس کی پر سکون مسکراہٹ پہ فدا ہو گیا۔

“ہمممممممممم۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!”

“پاپا! یہ میری پریٹی ڈول ہیں۔۔۔۔۔۔! اور آج سے ہم فرینڈز ہیں۔”

انابیہ نے خوشی خوشی اسے بتایا تو وہ جواب میں صرف دھیرے سے مسکرایا۔

“اوکے تھینکس۔۔۔۔۔۔۔!”

“فار واٹ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟”

مرجان نے حیرت سے پوچھا۔

“میری ڈول کو جھیلنے کے لیے۔”

اس نے بھی جواباً مسکرا کر کہا۔

“نہیں ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے۔ شی از ویری پریٹی گرل۔۔۔۔۔!”

مرجان نے اس کے چیکس کو ہولے سے دبایا۔

“وہ دراصل اس کی ماما کی ڈیتھ ہو گئی ہے۔ اور انابیہ بہت ہی کم لوگوں کے ساتھ ایسے گھلتی ملتی ہے سو مجھے اچھا لگا کہ پہلی ملاقات میں ہی اس نے آپ کو دوست بنا لیا۔ اف یو ڈونٹ مائنڈ! پلیز آپ میری گڑیا کا خیال رکھیے گا۔”

اس نے ریکویسٹ کی تو مرجان کا دل فوراً سے اس کے لیے موم پڑ گیا۔ جب اسے معلوم ہوا کہ انابیہ کی ماں کا انتقال ہو چکا ہے تو اسے اپنا وقت اور اپنا دکھ یاد آ گیا جب اس کی ماں کا انتقال ہوا تھا تو وہ سمجھدار تھی لیکن ماں یا باپ ایک ایسی ہستی ہوتے جن کی عدم موجودگی اور محرومیت ایسی چیز ہیں جو انسان کو احساسِ کمتری کا شکار کر دیتی ہیں۔ سو اس نے فوراً سے حامی بھر لی اور سرعت سے بولی۔

“اٹس اوکے! ڈونٹ وری۔۔۔۔۔۔! انابیہ کی طرف سے آٌپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے میں اس کا ہمیشہ خیال رکھوں گی۔”

“تھینکس۔۔۔۔۔۔!”

وہ رسماً شکریہ ادا کرتے ہوئے مسکرایا تو وہ انابیہ کی جانب متوجہ ہوئی اور بولی۔

“اوکے انابیہ ! کل پھر اسی وقت ملاقات ہو گی آپ سے۔”

“اوکے فائن! پریٹی ڈول۔۔۔۔۔۔! میں آپ کا ویٹ کروں گی۔”

انابیہ نے اپنی گول گول آنکھیں گھما کر کہا تو مرجان نے اس کے ساتھ شیک ہینڈ کیا اور ہونٹوں پہ تبسم بکھیرے بولی۔

“اوکے گُڈ بائے۔۔۔۔۔۔۔!!!”

“اوکے! ٹیک کئیر۔۔۔۔۔! بائے بائے!!!”

انابیہ نے اسے جاتے ہوئے ہاتھ ہلا کر مسکرا کر کہا تو وہ اپنی گڑیا کو مسکراتا دیکھ کر خوشی سے نیہال ہو گیا۔

                                        ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

“ہیلو! “

فون کی دوسری جانب رمشا کی آواز گونجی تو وہ خوشی سے اچھل کر بیڈ پہ بیٹھی اور فوراً سے بولی۔

“ہائے رمشا! آئی مس یو سو مچ۔۔۔۔۔۔!!!’

“مس یو ٹو ڈئیر۔۔۔۔۔۔۔!”

رمشا نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا تو وہ کھلکھلا کر ہنسی۔

“خیر تو ہے بڑا ہنسا جا رہا ہے کہیں خضر بھائی نے خوشیوں بھری زندگی سے ۔۔۔۔۔۔۔۔!”

رمشا ابھی بول ہی رہی تھی کہ مرجان نے فوراً سے اسے ٹوک دیا۔

“ایسی کوئی بات نہیں ہے۔”

لہجے میں اداسی دھر آئی۔

“کیوں ؟ ان کے انداز اور باتوں سے تو لگتا ہے کہ وہ تم سے بہت محبت کرنے لگے ہیں۔”

تجسس آمیز انداز میں سوال پوچھا گیا۔

“لیکن ایسے انداز اور باتوں کا کیا جس میں باقاعدہ کوئی اظہار نہیں ہے۔”

مرجان کے لہجے میں افسردگی تھی۔

“اوہ مائی گاڈ۔۔۔۔۔! مرجان تم کب سے اولڈ فلمی ہیروئنز کی طرح سے سوچنے لگی ہو۔۔۔۔۔۔۔؟”

اس نے اس کی ذہنیت پہ سوال اٹھایا۔ تو مرجان کو ایک ہی پل میں غصہ آ گیا۔

“جو میرے ساتھ ہوا اس کے بعد تو میں تب تک ان کی کسی بھی بات پہ یقین نہیں کروں گی جب تک وہ میرے ساتھ مکمل اظہار نہیں کریں گے۔”

انداز میں درشتی تھی۔

“کیا مطلب ہے ۔۔۔۔۔۔؟ اگر وہ بغیر اظہار کے ہی اپنا حق حاصل کرتے ہوئے اس رشتے کو آگے بڑھا گئے۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

ایسا سوال جسے سنتے ہی مرجان کو وہ پل یاد آ گئے جب بلااجازت اور مرضی کے خضر نے اس کی قربت میں کچھ پل گزارنے چاہے اور چاہتے ہوئے بھی مرجان نے خود کو اس کے خمار سے آزاد کرواتے ہوئے خود کو اور اسے تکلیف سے نوازا۔

“تو پھر وہ زبردستی ہو گی۔”

انداز اٹل تھا۔ فیصلہ کن تھا۔ بہت کچھ واضح کرتے ہوئے وہ مختصر جواب دے گئی۔ رمشا کو اس کی بات قدرے ناگوار سی لگی۔

“خضر بھائی تم سے محبت کرتے ہیں اور جہاں تک میں تمہیں جانتی ہوں تم بھی ان سے محبت کرتی ہو یہ الگ بات ہے تم پہلی رات کی لاتعلقی کی سزا انہیں دینا چاہتی ہو۔ ورنہ کوئی بھی عورت اپنے شوہر کو اس کا حق استعمال کرنے سے کبھی بھی روک نہیں سکتی۔ اگر یہی حق وہ زبردستی حاصل کرنے کی کوشش کریں تو تب بھی تو تمہیں ان کی بات ماننی پڑے گی اور اگر وہ تمہاری محبت میں مبتلا ہوتے ہوئے تم پہ اپنا حق جتا رہے ہیں تو تم کیوں پیچھے ہٹ رہی ہو ۔ جبکہ تمہیں تو سب سے پہلے ان کا ہاتھ تھام کر ان کی خواہش کی تکمیل کرنی چاہئیے تاکہ کوئی بھی تیسرا اس دوری کا فائدہ نہ اٹھا سکے۔”

مرجان چپ چاپ اس کی بات سن رہی تھی۔

“دیکھو میری جان! انکل نے تمہارے حق میں جو فیصلہ کیا تھا وہ ہر لحاظ سے درست ہے اب تم ان چھوٹی موٹی باتوں کو بھول کر اپنی زندگی میں آگے بڑھ جاؤ۔ یہ نہ ہو کہ کچھ لوگ تمہاری ان چھوٹی چھوٹی باتوں کا فائدہ اٹھا کر تمہارے اور خضر بھائی کے درمیان دراڑ ڈال کر اس رشتے کو توڑنے میں کامیاب ہو جائیں ۔ سو پلیز میری بات کو سمجھو اور جلد از جلد اپنے رشتے کو مزید مضبوط کر لو۔ اسی میں تمہاری بھلائی ہے۔”

رمشا اسے سمجھا رہی تھی اور وہ بخوبی رمشا کی ہر بات کو سمجھ بھی رہی تھی۔ بہت کچھ زندگی نے اس سے چھین لیا تھا اور بہت سے خوبصورت رشتوں سے اسے نوازا بھی تھا۔ اور وہ ہر رشتے کو بخوبی سمجھتے ہوئے اسے نبھانے کی کوشش بھی کر رہی تھی۔ لیکن خضر کی محبت سے آشنا ہوتے ہوئے بھی وہ اسے اگنور کرنے میں لگی تھی۔ بعض اوقات ہم جان بوجھ کر اصلیت کو جانتے ہوئے بھی خود سے جنگ کرتے ہوئے خود کو بلاوجہ کی اذیت دینے میں وقت ضائع کر دیتے ہیں ۔ اور رمشا ایک پر خلوص دوست کی حیثیت سے اسے اس کی زندگی میں یہی غلطی کرنے سے منع کر رہی تھی۔

                                                    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پانچ دن بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!

بیگ ہاؤس میں ہر طرف چہل پہل تھی۔ لان کو خوبصورت قمقموں سے سجایا گیا تھا۔ ہر طرف دلفریب کھانوں کی خوشبو بکھری ہوئی تھی۔ ثمن بیگم اور ابی وہیں پورچ میں کھڑے تھے۔ جہاں سرخ خوبصورت قالین فرش پہ بچھا تھا۔ وہ ہر آنے والے مہمان کا خوشدلی کے ساتھ استقبال کر رہے تھے۔رمشا نے ییلو اور پنک کنٹراسٹ کا خوبصورت جامہ وار کا ٹراؤزر پہنا تھا جس کے ساتھ سمپل نیٹ کی لانگ شرٹ تھی۔ اور ییلو نیٹ کے دوپٹے کے ساتھ لائٹ میک اپ اور کھلےسٹریٹ بالوں کے ساتھ وہ بے حد حسین لگ رہی تھی۔ وہ رات میں ہی مرجان کی طرف آ گئی تھی۔ اور اب سارے انتظامات مکمل کروانے کے بعد وہ نٹ کھٹ سی تیار لان میں کچھ فاصلے پہ کھڑی تھی۔ جب عاشر کی نظر اس پہ پڑی تو وہ سرعت کے ساتھ اس کی جانب قدم بڑھانے لگا۔

“ہاؤ آر یو پریٹی چڑیل۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

انداز استہزائیہ تھا۔ رمشا کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔

“ایم فائن ڈرٹی بندر۔۔۔۔۔۔!!!”

اس کوق اسی کے انداز میں جواب دیتے ہوئے وہ ہونٹوں کو تھوڑا سا پھیلا کر بولی تو وہ جو آف وائٹ شرٹ اور پینٹ کے ساتھ وائٹ کوٹ پہنے جیل کے ساتھ بال سیٹ کیے فریش کلین شیو کیے بے حد پرکشش لگ رہا تھا۔ رمشا نے رخ موڑ کر کہا تو اس کی جان نظر ہی ٹھہر گئی۔

“آئی نو ! آپ کا اگلا جملہ کیا ہو گا۔”

استہزائی انداز میں مسکراتے ہوئے وہ اس کے بالککل قریب کھڑا ہو گیا۔

“فار واٹ۔۔۔۔۔؟؟؟”

اس نے بنا اس کی جانب دیکھے اب حیرت سے پوچھا۔

“یو آر لوکنگ سو ہینڈسم بوائے۔۔۔۔۔!”

“ہاہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔!”

رمشا نے جواباً ایک زوردار قہقہہ لگایا۔ عاشر اب کے تعجب سے اس کی جانب دیکھ رہا تھا۔

اوکے اوکے۔۔۔۔۔۔!”

وہ دھیمے سے مسکرایا۔

“اتنا بھی غرور اچھا نہیں ہوتا مس رمشا۔۔۔۔!”

“یہ غرور تو نہیں ہے۔”

وہ بھنویں سکیڑ کر بولی اور اس کی جانب نظر اٹھا کر دیکھا پھر رخ موڑتے ہوئے دوسری جانب جانے کے لیے قدم بڑھانے ہی والی تھی کہ عاشر نے اپنا پاؤں اس کے دوپٹے پہ رکھا دوپٹے کا ایک سرا اس نے پن کے ساتھ جوڑ رکھا تھا۔ یکدم ہی چلتے چلتے پاؤں تھوڑا سا مڑا اور اس سے پہلے کہ وہ نیچے گرتی عاشر کے مضبوظ بازوؤں کے حصار نے اسے سہارا دیا۔ وہ جو بڑے ناز اور نخرے کے ساتھگ اسے اور اس کی نگاہوں میں متلاطم جذبات کو نظرانداز کرتے ہوئے جانے لگی تھی اب اسی کے بازوؤں کے حصار میں قید خاموشی کے ساتھ اس کی آنکھوں کی تپش سہہ رہی تھی۔

“مجھے لگتا ہے بار بار سرِ راہ پاؤں پھسلنا آپ کا خاندانی مشغلہ ہے۔”

وہ طنز کا نشتر اسے چبھو گیا۔

“تھینکس۔۔۔۔۔۔!”

اس کے طنزیہ انداز کو نظرانداز کرتے ہوئے وہ اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اب سیدھی کھڑی ہو گئی اور دوپٹہ سیٹ کرنے لگی۔ کیونکہ اس بات سے تو وہ بھی بخوبی واقف تھی کہ اگر اس محفدل میں اس کا پاؤں پھسلتا اور وہ نیچے گر جاتی تو اس سے بڑی بے عزتی شاید لائف میں کبھی بھی دوبارہ اس کو فیل نہ ہوتی۔

“جسٹ تھینکس۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

انداز استفہامیہ تھا۔ رمشا نے کاجل کی دھار سے سجی آنکھیں اٹھا کر یکدم ہی عاشر کی جانب دیکھا۔ جس کی نگاہوں میں بہت کچھ تھا۔ جس سے وہ ہرگز بھی انجان نہیں تھی۔

“تو اور کیا کہوں آپ کی اس مہربانی پہ۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

   انداز قدرے تلخ اور کرواہٹ سے لبریز تھا۔

“چلیں چھوڑیں اس بات کو۔۔۔۔! ایک بات کہنی ہے آپ سے ، لیکن پرامس کریں آپ غصہ نہیں کریں گی۔”

عاشر کے انداز پہ وہ دل ہی دل میں مسکرائی اور پھر سنجیدگی برقرار رکھتے ہوئے بولی۔

“جی جی ضرور۔۔۔۔۔! لیکن ذرا جلدی کریں میں نے مرجان کے پاس بھی جانا ہے۔”

وہ سرعت سے بولی۔

“آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں اور آج تو اس محفل میں چار چاند لگا رہی ہیں۔”

وہ اس کے قریب ہوا اور مخمور لہجے میں بولتے ہوئے پھر وہاں رکا نہیں بلکہ جلدی سے آگے کی جانب قدم بڑھا گیا ۔ جہاں سارہ اپنی مام کے ساتھ کھڑی تھی۔ اور کچھ آفس کے کولیگز بھی اس کے قریب کھڑے تھے۔ سب لوگ خوشگوار موڈ میں تھے۔ اور ادھر ادھر کی باتیں کر رہے تھے۔ عاشر کا یہ مخمور انداز اور حلاوت سے بھرپور لہجہ رمشا کو بہت کچھ سمجھا گیا تھا۔ وہ اس کی بات کے جواب میں صرف مسکرائی اور اپنا نیٹ کا دوپٹہ سنبھالتے ہوئے لیونگ روم کی جانب قدم بڑھا گئی۔

     ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

میرے ہمدم!

اگر اک بار

بس، اک بار، یہ کہہ دو!

“مجھے تم سے محبت ہے”

توِ جانِ جاناں!

یقین مانو!

میں ۔۔۔۔۔۔! اپنے آسماں کا اک اک تارا۔۔۔۔۔!

دسمبر کی حسین بارش کی بوندیں سب۔۔۔۔۔۔۔!!!

سمندر کے سبھی موتی

اور اپنے دل کی ہر دھڑکن۔۔۔۔۔!

میں اپنے دل کی ہر دھڑکن

بس! تمہارے نام کر دوں۔۔۔۔۔۔!

تمہیں یہ زندگی انعام کر دوں۔۔۔۔۔۔!!!

میں اپنے دل کی ہردھڑکن

بس! تمہارے نام کر دوں۔۔۔۔۔۔۔!

تمہیں یہ زندگی اپنی انعام کر دوں۔۔۔۔۔۔۔!!!

بلیک ساڑھی کا پلو ٹھیک کرتے وہ سیاہ بالوں کا ڈھیلا سا جوڑا کیے مرر کے سامنے بناؤ سنگھار کرنے میں مگن تھی۔ جب خضر نے ڈور اوپن کیا اور روم میں قدم رکھا تو وہ اس کی بیک پہ کھڑا بس اس کے حسن کے جلو میں جل ترنگ اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔ صراحی مائل گردن میں نیکلس بہت سوٹ کر رہا تھا۔ آئیز پہ سموکی میک اپ بڑا دلکش لگ رہا تھا۔ فریش کلون کی خوشبو نے خضر کو اپنے حصار میں باندھا اور دھیمے دھیمے قدم بڑھاتا اس کے بالکل قریب اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا۔ یکدم ہی کسی وجود کی آہٹ اسے محسوس ہوئی تو ؤہ ڈر سی گئی۔

“آپ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

یکدم ہی اس کے لبوں سے پھسلا۔

“کیوں۔۔۔۔۔۔؟ میں نہیں آ سکتا۔”

لہجہ خمار آلود اور انداز استفہامیہ تھا۔

“نہیں ! میں نے ایسا بھی کچھ نہیں کہا۔”

مختصر جواب دیتے ہوئے وہ پلکیں جھکا گئی۔

ادھر دیکھیں میری طرف۔۔۔۔۔۔!”

شانوں سے اسے تھامے وہ اس کا رخ اپنی جانب کرتے ہوئے محبت سے بولا۔ تو اس کی گھنی پلکیں ایک تواتر سے کانپنے لگیں۔ بلیک کوٹ کے ساتھ آف وائٹ شرٹ اور بلیک پینٹ اس پہ بے حد سوٹ کر رہی تھی۔

“میں نہیں دیکھ سکتی۔۔۔۔۔۔!!!”

آواز کپکپا سی گئی۔ خضر زیرِ لب مسکرایا۔ وہ آج پہلی بار اس کے یوں قریب آنے پہ جھنجھلائی نہیں تھی۔ لیکن شرما ضرو رہی تھی۔ اس کی مسکان خضر کے دل پہ بجلیاں گرانے کے لیے کافی تھی۔

“اگر آپ نے ابھی میری طرف دیکھ کر میری بات کا جواب نہ دیا تو یاد رکھیے گا میں اس دن کی طرح۔۔۔۔۔۔۔۔!”

وہ اسے شانوں سے تھامے اپنے مزید قریب کر گیا ۔ مرجان کا دل زوروں سے دھڑکنے لگا۔

“کککککککیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

مرجان نے جھٹ سے پلکیں اٹھا کر اس کی آنکھوں میں جھانکا۔ جہاں بے حد خمار تھا۔ خضر نے اس کے چہرے کے قریب چہرہ کیا اور حلاوت سے بولا۔

“میں اپنا ہر حق استعمال کر سکتا ہوں اور آپ مجھے روکنے کا حق نہیں رکھ سکتیں۔”

اس کی سانسوں کی گرماہٹ مرجان کے دل کو اتھل پتھل کر گئی۔ اس کا دل اتنی زور سے دھک دھک کر رہا تھا کہ خضر کو باقاعدہ اس کی دھڑکنیں محسوس ہورہی تھیں۔

“آپ ایسا کچھ بھی نہیں کر سکتے۔”

مرجان نے چہرے کا رخ دوسری جانب کرتے ہوئے سانسوں کی ہلچل پہ کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہوئے سرزنش کرنی چاہی۔

“میں کیا کیا کر سکتا ہوں آپ اس بات کو چھوڑ دیں۔ ادھر میری طرف دیکھ کر میری بات کا جواب دیں۔”

وہ نظروں کی تپش سے اس کے رخسار سہلاتا ہوا بولا۔ تو یکدم ہی مرجان نے دوبارہ سے اس کی آنکھوں سے آنکھیں ملاتے ہوئے اس کی جانب دیکھا۔ وہ فرطِ جذبات سے لبریز اس کے بالکل قریب کھڑا تھا۔

“آج آپ اس معصوم دل پہ قیامت ڈھا رہی ہیں۔ اور اس قیامت کا بدلہ میں سوچ رہا ہوں رات کو ہی پورا کر لوں۔ وہ کیا ہے نا مسٹر خضر بیگ اپنا ہر حساب وقت پہ برابر کرنے والوں میں سے ہے۔”

خضر کے الفاظ اور ان الفاظوں میں چھپے مطلب وہ بخوبی سمجھ رہی تھی۔ شرم کے مارے وہ نظریں اور چہرہ جھکا گئی۔ خضر نے اس کے لبوں کی سرخی کو اپنے داہنی ہاتھ کی انگلی سے چھوا اور اس کے قریب ہوتے ہوئے اس کے اناڑی ہونٹوں کا سارا رس پینے کے لیے ابھی لبوں کو بڑھایا ہی تھا کہ کسی نے جھٹ سے ڈور اوپن کیا وہ بڑی سرعت میں اس سے دور ہٹا۔

“اوہ! سوری سوری۔۔۔۔۔۔!”

رمشا تو پشیمان ہی ہو گئی۔

“اٹس اوکے۔۔۔۔۔۔۔!”

وہ یہ کہتے ہوئے روم سے باہر چلا گیا۔ مرجان کی ایک سانس اوپر اور دوسری نیچے تھی۔ رمشا کو قدرے شرمندگی ہوئی ۔

“رمشا! اوہ بے وقوف تو یہ کیسے بھول گئی کہ مرجان کی شادی ہو چکی ہے اور تو منہ اٹھائے اس کے روم میں چلی آئی۔”

اس نے خود کی سرزنش کی۔

“سوری یار! مجھے نہیں پتہ تھا کہ خضر بھائی بھی اندر روم میں تمہارے ساتھ ہوں گے۔ یار رئیلی سوری۔۔۔۔۔۔!”

وہ خجل ہو رہی تھی۔ غلطی تو واقعی ہی اس سے ہوئی تھی۔

“کوئی بات نہیں۔۔۔۔۔! “

مرجان نے مرر کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔ اسے اس وقت اپنے وجود سے خضر کی پرکشش مہک محسوس ہو رہی تھی۔ اپنے شانوں پہ اس کے ہاتھوں کی مضبوط گرفت، اس کا مخمور لہجہ ، حلاوت آمیز نظروں کی تپش وہ دھیمے دھیمے مسکرا رہی تھی۔ اس سب سے بالکل الگ تھلگ کہ رمشا نان سٹاپ اس سے معذرت کر رہی تھی۔ وہ لپ اسٹک فریش کرتے ہوئے آخری بار مرر میں اپنا مکمل جائزہ لے رہی تھی۔

“ویسے کچھ بات آگے بڑھی۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

رمشا نے اس کے شانے پہ ہاتھ دھرا اور متجسس نظروں سے اس کا بھرپور جائزہ لیا۔

“کیا مطلب۔۔۔۔؟؟؟”

مرجان نے تعجب سے پوچھا۔

“کچھ نہیں! “

رمشا کو اس کی حالت دیکھ کر اندازہ ہو گیا تھا بات بڑھتے بڑھتے رہ گئی۔

“ویسے مرجان ! آج تم بہت پیاری لگ رہی ہو یہ بلیک ساڑھی اور یہ خوبصورت نیکلس تم پہ بے حد حسین لگ رہا ہے۔ مجھے تو پورا یقین ہے کہ آج رات خضر بھائی تم سے اپنی محبت کا اظہار ضرور کریں گے اور تم دونوں کے درمیان یہ جو دوری ہے وہ بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔”

وہ پر مسرت انداز میں نان سٹاپ بولے جا رہی تھی۔ جبکہ مرجان ابھی بھی اسی لمحے کے سحر میں مبتلا تھی۔

“چلو! اب نیچے چلتے ہیں۔ سب لوگ آ گئے ہیں اور ہر کوئی بس تمہارا ہی پوچھ رہا ہے۔”

رمشا نے سرعت سے کہا اور ساڑھی کا پلو ٹھیک کرتی مرجان کی نظر بھی اتار لی۔

“میں ٹھیک لگ رہی ہوں۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

مرجان نے جھنجھلا کر رک کر اس سے سوال کیا۔

“ہاں ! بہت پیاری لگ رہی ہو۔”

رمشا نے اس کی بلائیں لیں۔ اور وہ اس کی ہر بات پہ یقین کرتی اس کے ساتھ قدم سے قدم ملاتی چلنے لگی۔ دل بے حد مسرور تھا۔

اگر سانسیں مہک جائیں

اگر آنکھیں چھلک جائیں

اگر خوابوں کی خواہش ہو

اگر پھولوں کی بارش ہو

اگر ہنستے ہوئے رونے کو جی چاہے اکیلے میں

اگر وہ دیکھ کر تم کو کہیں کھو جائے میلے میں

اگر تم پوچھنے جاؤ کہ آخر کیا حقیقت ہے

اور اس کا یہ جواب آئے”مجھے تو تم سے نفرت ہے”

تو سمجھ لینا کہ محبت ہے

تو سمجھ لینا کہ محبت ہے۔

                                     

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Khumarey Jaan epi 18

Khumarey Jaan by Hina Shahid

“یہ جو بلیک ساڑھی ہے اس کی کیا پرائس ہے۔۔۔۔۔؟؟؟”

“جی سر! یہ بلیک والی۔۔۔۔۔۔۔! فورٹی سیون تھاؤنزنڈ۔۔۔۔۔۔۔! (سنتالیس ہزار)۔”

اس نے مسکرا کر کہا۔

“اوکے ڈن کریں۔۔۔۔۔۔!”

خضر نے بھی جواباً مسکرا کر کہا۔ اور پیمنٹ کرتے ہوئے وہ شاپ سے باہر آ گیا۔ اب وہ اس ساڑھی کے ساتھ میچینگ جیولری خریدنے کی خواہش میں جیولری شاپ میں اینٹر ہوا۔ بہت سارے نیکلس دیکھنے کے بعد اب کہیں جا کر اسے ایک نیکلس پسند آیا۔ سمپل لائٹ چین کے ساتھ ایک ہارٹ بنا تھا جس کو ہلکا سا ٹچ کریں تو وہ اوپن ہو جاتا۔ خضر کے مائنڈ میں ایک سوچ ابھری اس نیکلس کے ساتھ چھوٹے چھوٹے بالکل سادہ سے ٹاپس بھی تھے۔ خضر نے فوراً سے وہ نیکلس سیلیکٹ کر لیا اور اس کی پیمنٹ کرتے ہوئے وہ شوز شاپ کی جانب بڑھا۔ بلیک سمپل سٹرپ کے ساتھ ہائی ہیل اسے اس ساڑھی کے ساتھ پرفیکٹ میچ لگا تو اس نے فوراً سے وہ ہیل بھی پسند کر لی۔ اب اس کی ساری شاپنگ مکمل ہو چکی تھی۔

“بس کچھ اور دن۔۔۔۔۔۔!”

وہ زیرِ لب مسکرایا اور سارے شاپنگ بیگز گاڑی کی بیک سیٹ پہ رکھے اور فرنٹ ڈور اوپن کرتے ہوئے وہ گاڑی سٹارٹ کر گیا۔

“یہ ڈنر پارٹی ہماری لائف کی سب سے حسین رات ہو گی۔ “

وہ ایک نئی اور خوبصورت زندگی کے سپنے سجائے مسکرا رہا تھا۔

“میں اس رات کی ہر کمی کو پورا کر کے اپنی بے پناہ محبت کا اظہار کر کے آپ کا دل جیت لوں گا۔ اور پھر ہمارے درمیان حائل ہر دوری ختم ہو جائے گی۔”

وہ سٹیئر پہ ہاتھ مضبوظی کے ساتھ جمائے زیرِ لب مس

Sending
User Review
0 (0 votes)

Hina Shahid

I am an Urdu novel writer, passionate about it, and writing novels for several years, and have written a lot of good novels. short story book Rushkey Hina and most romantic and popular novel Khumarey Jann. Mera naseb ho tum romantic novel and lot of short stories write this

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button