complete novelرومینٹک ناول
Trending

Adhoori Mohabbat Last Part 7 | Woh Wada Jo Kabhi Poora Na Hua | Urdu Sad Love Story | Hina Shahid

وہ محبت جو ادھوری رہ گئی۔

Adhoori Mohabbat Last Part 7 | Woh Wada Jo Kabhi Poora Na Hua | Urdu Sad Love Story | Hina Shahid

 

وہ محبت جو ادھوری رہ گئی۔ 💔

کچھ محبتیں زندگی میں آتی تو ہمیشہ کے لیے ہیں مگر اپنی منزل تک کبھی نہیں پہنچ پاتیں۔ کچھ وعدے خواب بن کر آنکھوں میں رہ جاتے ہیں اور کچھ لوگ زندگی سے چلے جانے کے بعد بھی دل میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔

ادھوری محبت (Adhoori Mohabbat) حناء شاہد کی لکھی ہوئی ایک درد بھری اردو رومانوی کہانی ہے جو محبت، اعتماد، وعدوں، دھوکے اور جدائی کے جذبات کو بیان کرتی ہے۔

اس کہانی میں عائشہ اور زین کی محبت ہے خوبصورت ملاقاتیں ہیں شادی کے وعدے ہیں انتظار ہے اور پھر ایک ایسا دھوکہ جو عائشہ کی پوری زندگی بدل دیتا ہے۔

Adhoori Mohabbat || Urdu Sad Love Story

شہر کی ایک خاموش سی گلی میں ایک چھوٹا سا کیفے تھا جہاں شام کے وقت کھڑکی کے پاس والی میز ہمیشہ خالی رہتی تھی۔ وہاں اکثر ایک لڑکی آ کر بیٹھتی تھی۔ اس کا نام عائشہ تھا اور ہر شام ٹھیک سات بجے وہ اپنے سامنے والی کرسی کو دیکھ کر مسکرا دیتی تھی۔ کیونکہ وہاں زین بیٹھا کرتا تھا۔

زین اور عائشہ کی ملاقات کسی فلمی انداز میں نہیں ہوئی تھی۔ نہ کوئی بارش تھی، نہ کوئی ٹکراؤ، نہ پہلی نظر کی محبت۔ بس ایک دن یونیورسٹی کی لائبریری میں عائشہ کی کتاب نیچے گر گئی تھی۔

زین نے کتاب اٹھا کر اسے دیتے ہوئے کہا:

“شاید یہ کتاب آپ سے زیادہ آپ کو جانتی ہے۔”

عائشہ نے حیرت سے پوچھا “وہ کیسے؟”

زین مسکرایا۔

“کیونکہ آپ اسے اتنی دیر سے دیکھ رہی ہیں مگر پڑھ کچھ نہیں رہیں۔”

عائشہ ہنس پڑی۔

“آپ لوگوں کو بہت غور سے دیکھتے ہیں؟”

زین نے کتاب اس کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا:

“صرف اُن لوگوں کو جو مجھے اچھے لگیں۔”

وہ ان دونوں کی پہلی بات تھی اور شاید وہیں سے ایک ایسی کہانی شروع ہوئی جسے عائشہ اپنی زندگی کی سب سے خوبصورت کہانی سمجھ بیٹھی تھی۔

وقت گزرتا گیا۔ باتیں دوستی میں بدل گئیں۔ دوستی محبت میں اور محبت عادت میں۔

زین روز عائشہ کو یونیورسٹی کے گیٹ تک چھوڑنے آتا۔ کبھی عائشہ ناراض ہوتی تو زین اسے منانے کے لیے اس کی پسند کی کافی لے آتا۔ کبھی زین خاموش ہوتا تو عائشہ صرف اتنا پوچھتی:

“کیا ہوا؟”

اور زین جواب دیتا:

“کچھ نہیں بس تمہیں دیکھنے کے بعد سب ٹھیک ہو جاتا ہے۔”

عائشہ کو زین کی یہ بات بہت پسند تھی۔ وہ اکثر سوچتی:

“شاید یہی محبت ہے جب کسی ایک انسان کی موجودگی پوری دنیا سے زیادہ سکون دینے لگے۔”

ایک شام دونوں اسی کیفے میں بیٹھے تھے۔ باہر ہلکی بارش ہو رہی تھی۔

عائشہ نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کہا:

“زین اگر کبھی ہم الگ ہو گئے تو؟”

زین نے فوراً اس کی طرف دیکھا۔

“ہم الگ نہیں ہوں گے۔”

“لیکن زندگی میں کچھ بھی تو ہو سکتا ہے۔”

زین نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔

“تو پھر وعدہ کرو اگر کبھی کوئی مشکل آئی تو ہم ایک دوسرے کا ہاتھ نہیں چھوڑیں گے۔”

عائشہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے دھیرے سے کہا:

“وعدہ۔”

زین نے مسکرا کر کہا:

“پھر ڈرنے کی کیا ضرورت ہے؟”

عائشہ نے اپنا سر اس کے کندھے پر رکھ دیا۔ اس لمحے اسے واقعی یقین تھا کہ اس کی دنیا میں زین کے علاوہ کچھ نہیں بدل سکتا۔

شادی کا وعدہ اور ایک طویل انتظار

کچھ مہینے بعد زین نے عائشہ سے شادی کا وعدہ کیا۔

اس نے کہا:

“میں گھر والوں سے بات کروں گا۔ تھوڑا وقت لگے گا مگر میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں۔”

عائشہ نے یقین کر لیا۔ کیونکہ محبت میں انسان وعدوں کو الفاظ نہیں سمجھتا وہ انہیں مستقبل سمجھ لیتا ہے۔

ایک دن زین کا رویہ بدلنے لگا۔ پہلے جو شخص ہر گھنٹے عائشہ کو فون کرتا تھا اب کئی کئی گھنٹے غائب رہنے لگا۔ پیغامات کا جواب دیر سے آتا اور کالز مختصر ہو گئیں۔

عائشہ پوچھتی:

“زین تم بدل گئے ہو؟”

وہ ہنس کر کہتا:

“نہیں پاگل بس کام زیادہ ہے۔”

عائشہ خاموش ہو جاتی۔ وہ زین پر شک نہیں کرنا چاہتی تھی۔

ایک رات زین نے کہا:

“عائشہ کچھ دن مجھ سے رابطہ کم رکھنا۔ گھر میں مسئلہ ہے۔”

عائشہ نے پریشان ہو کر پوچھا:

“سب ٹھیک ہے؟”

“ہاں بس مجھے تھوڑا وقت چاہیے۔”

“میں انتظار کروں گی۔”

زین نے جواب دیا:

“مجھے معلوم ہے تم میرا انتظار کرو گی۔”

عائشہ مسکرا دی۔ اسے کیا معلوم تھا کہ یہی انتظار ایک دن اس کی زندگی کا سب سے بڑا دکھ بن جائے گا۔

دن گزرتے گئے۔ ایک ہفتہ پھر دو ہفتے پھر ایک مہینہ۔

زین کی طرف سے کوئی واضح جواب نہیں آیا۔

عائشہ ہر شام اسی کیفے میں جا کر بیٹھتی۔ وہی میز، وہی کرسی، وہی کھڑکی، بس زین نہیں تھا۔

زین کی منگنی اور عائشہ کا ٹوٹتا ہوا یقین

ایک دن کیفے کے باہر اسے زین نظر آیا۔ عائشہ کے چہرے پر فوراً مسکراہٹ آ گئی۔

وہ خوشی سے اس کی طرف بڑھی مگر اگلے ہی لمحے اس کے قدم رک گئے۔

زین اکیلا نہیں تھا۔ اس کے ساتھ ایک لڑکی تھی۔ وہ لڑکی زین کا ہاتھ تھامے ہوئے تھی۔

عائشہ کی آنکھوں میں حیرت جم گئی۔

“زین…؟”

زین خاموش رہا۔

عائشہ نے اس لڑکی کی طرف دیکھا۔

“یہ کون ہے؟”

زین نے نظریں جھکا لیں اور ایک ایسا جملہ بولا جس نے عائشہ کے اندر برسوں کے لیے خاموشی پیدا کر دی۔

“عائشہ میری منگنی ہو چکی ہے۔”

عائشہ کو لگا جیسے آس پاس کی تمام آوازیں اچانک ختم ہو گئی ہوں۔

اس نے بہت مشکل سے پوچھا:

“اور میں؟”

زین نے خاموشی اختیار کی۔

عائشہ کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے۔

“تم نے مجھ سے شادی کا وعدہ کیا تھا۔”

زین نے دھیرے سے کہا:

“میں مجبور تھا۔”

عائشہ نے تلخی سے مسکرا کر پوچھا:

“مجبور تھے یا بے وفا؟”

زین نے کوئی جواب نہیں دیا۔

عائشہ نے آخری بار اس کی طرف دیکھا۔

“تمہیں معلوم ہے زین دھوکا صرف رشتہ نہیں توڑتا۔ یہ انسان کے اندر سے یقین توڑ دیتا ہے۔”

زین نے نظریں چرا لیں۔

عائشہ پلٹ گئی۔

اور اس دن پہلی بار اسے احساس ہوا کہ کبھی کبھی انسان جس شخص کے لیے اپنی پوری دنیا چھوڑ دیتا ہے وہی شخص اسے اپنی دنیا میں جگہ دینے سے انکار کر دیتا ہے۔

عائشہ کی زندگی کا سب سے مشکل وقت

کئی دن تک عائشہ اپنے کمرے میں بند رہی۔ وہ پرانی تصویریں دیکھتی زین کے پیغامات پڑھتی اور پرانے وائس نوٹس سنتی۔

ہر بار ایک ہی سوال کرتی:

“آخر مجھ میں کیا کمی تھی؟”

مگر اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔

ایک رات اس نے زین کا آخری پیغام کھولا:

“مجھے معاف کر دینا۔ حالات ایسے تھے۔”

عائشہ نے فون بند کر دیا۔ اس نے آنکھیں بند کیں اور خود سے کہا:

“نہیں زین حالات ایسے نہیں تھے تم ایسے تھے۔”

پھر وہ رو پڑی۔

کیونکہ بعض حقیقتیں ماننے سے زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہیں۔

کئی سال بعد عائشہ کی نئی زندگی

کئی سال گزر گئے۔

عائشہ نے خود کو سنبھال لیا۔ وہ ایک کامیاب مصنفہ بن گئی۔ لوگ اس کی تحریریں پڑھتے اور اس کے لفظوں میں محبت تلاش کرتے۔

مگر کوئی نہیں جانتا تھا کہ محبت کے بارے میں سب سے خوبصورت الفاظ لکھنے والی عورت خود محبت سے خوف کھاتی تھی۔

ایک شام اسے اسی پرانے کیفے کے قریب سے گزرنا پڑا۔

وہ رک گئی۔

کیفے اب بھی وہیں تھا۔ کھڑکی کے پاس وہی میز بھی موجود تھی۔

عائشہ کچھ لمحے اسے دیکھتی رہی پھر اندر چلی گئی۔

وہ اسی کرسی پر بیٹھ گئی جہاں کبھی زین بیٹھا کرتا تھا۔

ویٹر نے پوچھا:

“میڈم کیا لاؤں؟”

عائشہ نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کہا:

“ایک کافی۔”

ویٹر نے پوچھا:

“اور دوسری؟”

عائشہ چند لمحے خاموش رہی پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی:

“نہیں اب دوسری کافی کی ضرورت نہیں۔”

ویٹر چلا گیا۔

عائشہ نے کھڑکی کے باہر دیکھا۔ بارش شروع ہو چکی تھی۔ وہی بارش، وہی گلی، وہی کیفے، بس ایک فرق تھا۔

اس بار وہ کسی کا انتظار نہیں کر رہی تھی۔

اس نے اپنے بیگ سے ایک پرانی تصویر نکالی۔ تصویر میں وہ اور زین مسکرا رہے تھے۔

عائشہ نے تصویر کو دیکھا اور دھیرے سے کہا:

“ہم واقعی بہت خوش تھے نا؟”

اس کی آنکھوں سے ایک آنسو گرا۔

“کاش تم نے محبت کا مطلب سمجھا ہوتا۔”

اس نے تصویر واپس بیگ میں رکھ دی اور پھر ہمیشہ کے لیے وہاں سے اٹھ گئی۔

Adhoori Mohabbat The Last Page

اس رات عائشہ نے اپنی ڈائری میں صرف ایک جملہ لکھا:

“کچھ محبتیں ختم نہیں ہوتیں بس انسان ان کے ساتھ جینا سیکھ لیتا ہے۔”

پھر اس نے ڈائری بند کر دی۔

کھڑکی سے باہر بارش اب بھی ہو رہی تھی۔

اور شاید کہیں کسی شہر میں زین اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکا تھا۔ مگر عائشہ کے دل میں وہ محبت آج بھی ایک ادھوری کتاب کی طرح موجود تھی جس کا آخری صفحہ کبھی لکھا ہی نہیں گیا۔

کیونکہ کچھ کہانیاں محبت سے شروع ہوتی ہیں مگر دھوکے پر ختم نہیں ہوتیں۔ وہ انسان کے اندر ایک خاموش درد بن کر ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔

کچھ محبتیں ادھوری رہ جاتی ہیں، لیکن انسان ان کے بغیر جینا سیکھ لیتا ہے۔ 💔

 

Watch All Episodes of Adhoori Mohabbat

اگر آپ نے عائشہ اور زین کی محبت کی کہانی کے پچھلے حصے نہیں دیکھے تو یہاں تمام اقساط موجود ہیں۔

Adhoori Mohabbat by Hina Shahid – All Episodes

 

Part 1 – Watch on YouTube

https://youtu.be/64y2W_sSQZQ

Part 2 – Watch on YouTube

https://youtu.be/nSsK-AQ1cVM

Part 3 – Watch on YouTube

https://youtu.be/PwKsIq0e1hI

Part 4 – Watch on YouTube

https://youtu.be/mxSVJl81S8U

Part 5 – Watch on YouTube

https://youtu.be/sTd-Jx0xbR0

Part 6 – Watch on YouTube

https://youtu.be/rMSaQxmz2dw

Part 7 – Last Part – Watch on YouTube

https://youtu.be/-JEmEyytSqc

 

About the Writer Hina Shahid

Hina Shahid ایک اردو رائٹر، شاعرہ اور کہانی نویس ہیں جو اپنی تحریروں میں محبت، جذبات، رشتوں، جدائی اور زندگی کی حقیقتوں کو الفاظ دیتی ہیں۔

ان کی کوشش ہے کہ ہر کہانی پڑھنے اور سننے والوں کے دلوں میں ایک احساس چھوڑ جائے۔

✍️ تحریر: حناء شاہد

Share Your Thoughts

کیا عائشہ نے زین کو معاف کر دینا چاہیے تھا؟

کیا محبت میں کیے گئے وعدے اتنی آسانی سے بھلا دیے جا سکتے ہیں؟

اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں۔

اگر آپ کو یہ اردو محبت کی کہانی پسند آئی ہے تو اسے اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور مزید خوبصورت اردو کہانیوں کے لیے ہمارے ساتھ جڑے رہیں۔

Remember: Some love stories never reach their destination, but they remain alive in our hearts forever. 💔

© Hina Shahid – All Rights Reserved. Please do not copy or republish this story without permission.

Hina Shahid

I am an Urdu novel writer, passionate about it, and writing novels for several years, and have written a lot of good novels. short story book Rushkey Hina and most romantic and popular novel Khumarey Jann. Mera naseb ho tum romantic novel and lot of short stories write this

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button