آرٹیکل

چلو چلتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔!!!

چلو چلتے ہیں۔۔۔۔۔۔!!!

تحریر

                                    حناء شاہد

زندگی کی ساری بھاگ دوڑ بس ایک ہی سوچ کی وجہ سے ہے۔ اور وہ کوئی خاص سوچ نہیں ہے ایک عام سی بات آج اتنی اہمیت اختیار کر گئی ہے کہ دنیا میں جنم لینے والا ہر ذی روح انسان بس ایک ہی سوچ کے پیچھے اپنی پیدائش سے لے کر قبر کی مٹی تک بس بھاگ دوڑ میں لگا رہتا ہے۔ اس سب میں قصور اس کا بھی نہیں ہے قصور تو سوسائٹی کی اس سوچ کا ہے۔

“چلو چلتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔!!!”

میں نے بھی اسی سوچ کے پیچھے اپنی زندگی کے کئی سال گزار دیے۔

چلو اب اٹھ جاؤ۔ چلو اب یہ کام کر لو۔ چلو اب وہ کام کر لو۔ چلو اب ٹھہر جاؤ۔ چلو اب سوچنا بند کر دو۔ چلو اب جو لوگوں کو ٹھیک لگتا ہے وہ کر لو۔ چلو لوگوں کے مطابق چلو۔ اپنی مرضی کرنے کا حق نہیں ہے تمہیں۔ چلو دیکھو لوگ کیا کہیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔!

ایسے کتنے ہی جملے ہمیں ، ہماری سوچ کو کھا جاتے ہیں۔ ہم جو ہیں وہ ہم کبھی ثابت ہی نہیں کر پاتے۔ سو ایک دن میں نے بھی یہی سوچا کہ اب وہ کرنا ہے جو مجھے اچھا لگتا ہے اب وہ کرنا ہے جو میرا دل چاہتا ہے جو میرا من چاہتا ہے۔

بانو قدسیہ کی باتیں ، اشفاق احمد کی سوچ ، عمیرہ احمد کا ناول، فرحت اشتیاق کا ہمسفر اور بس۔۔۔۔۔۔۔! فراز احمد صاحب کے ساتھ ساتھ پروین شاکر کی شاعری سے اپنی زندگی کو گل و گلزار کر کے آج میں لکھنے کے سفر پہ گامزن ہوں۔

زمانے کو تو چھوڑیے لوگوں کی تو بات ہی مت کیجئیے سب سے بڑھ کر ہمارے اردگرد کے رشتے ہمیں ہماری زندگی کو جینے سے روکتے ہیں۔ جب تک ہم ان کی ڈگر پہ چلتے ہیں لوگ ہم سے خوش رہتے ہیں اور جہاں پہ ہم اپنی سوچ کو اہمیت دیتے ہوئے اپنی بات کو آگے رکھتے ہیں لوگ جھٹ سے ہمارے خلاف ہو جاتے ہیں۔

سمجھیں جیسے ہم نے اپنی سوچ کو اہمیت دے کر شاید۔۔۔۔۔۔! کوئی بہت بڑا گناہ کر دیا ہو۔ 

سو ہمیں ہمیشہ وہ کرنا چاہئیے جو ہمیں صحیح لگتا ہے۔۔۔۔۔۔۔!

جناب۔۔۔۔۔۔!!!

لوگوں کو خوش کرنے بیٹھیں گے تو کبھی بھی خود کے بارے میں سوچ نہیں پائیں گے۔ خود کو سوچ کر ، خود سے محبت کرنے کا سلیقہ سیکھئیے ۔ زندگی ایک بار ہی ملتی ہے اسے اپنے ڈھنگ سے گزاریں گے تو خود سے کبھی نظریں نہیں چرا سکیں گے۔ کیونکہ آئینہ بہتر جانتا ہے اس کے چہرے پہ کتنے داغ ہیں۔ اور جب داغ اپنے ہی لگائے ہوئے ہوں تو پشیمانی نہیں ہوتی۔ شکوے نہیں ہوتے۔ شکایتیں جنم نہیں لیتیں۔ سو زندگی میں زندگی کو جینا سیکھئیے نا کہ لوگوں کی سوچ پہ چلتے چلتے شکوؤں کا پنڈار کھول کے بیٹھ جائیں اور روتے روتے قبر میں چلیں جائیں۔ 

خوش رہئیے ۔ لوگوں کو خوش رکھئیے۔

دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔

طالبِ دعا

حناء شاہد

خدا حافظ۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

Hina Shahid

I am an Urdu novel writer, passionate about it, and writing novels for several years, and have written a lot of good novels. short story book Rushkey Hina and most romantic and popular novel Khumarey Jann. Mera naseb ho tum romantic novel and lot of short stories write this

Related Articles

One Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button